وزیر صحت اور سیکرٹری باری باری پمز میں موجود رہیں:شہباز شریف ،وطن واپس پہنچتے ہی ہنگامی اجلاس

وزیر صحت  اور  سیکرٹری  باری  باری  پمز  میں  موجود  رہیں:شہباز  شریف ،وطن  واپس  پہنچتے  ہی  ہنگامی  اجلاس

اسلام آباد کیلئے مقامی حکومتوں کا نیا نظام،تین حلقوں میں ہر ایک کا الگ میئر،ہرکونسل میں 21ارکان ہوں گے ،وفاقی کابینہ نے بل کی منظوری دے دی لاہور اور اوش سسٹر سٹی، ٹرانزٹ ٹریڈ، موسمیاتی تبدیلی سے متعلق بھی معاہدوں، ایم او یوز پر دستخط،کرغزصدر صادر ژاپاروف نے وزیراعظم کو خود گاڑی چلا کر ایئرپورٹ پہنچایا اور رخصت کیا

بشکیک،اسلام آباد(نامہ نگار،وقائع نگار،نیوز ایجنسیاں، مانیٹرنگ ڈیسک)وزیرِ اعظم شہباز شریف نے کر غزستان سے واپس پہنچتے ہی وزارت صحت کے امور اور پمز آتشزدگی واقعے کے حوالے سے ہنگامی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیر صحت مصطفی کمال اور سیکرٹری کیپٹن (ر)محمد محمود کو ہدایت کی کہ دونوں متبادل دنوں میں پمز ہسپتال میں اپنی ذاتی موجودگی کو یقینی بنائیں اور اپنی نگرانی میں ہسپتال کی بہتری کیلئے اقدامات پر عملدرآمد کروائیں۔ اجلاس میں شعبہ صحت کے امور اور پمز آتشزدگی واقعے کے حوالے سے جاری تحقیقات پر خصوصی بریفنگ دی گئی، اجلاس کو بتایا گیا کہ عبوری تحقیقاتی رپورٹ کی روشنی میں وزیرِ اعظم کے فیصلوں پر عملدرآمد کو یقینی بنایا جارہا ہے ۔وزیر اعظم نے کہا کہ مجرمانہ غفلت کے مرتکب اہلکاروں کو کسی قدر رعایت نہیں دی جائیگی،وزیر اعظم نے ہدایت کی کہ پمز ہسپتال میں علاج معالجے کی سہولیات کی بہتری اور تمام تر حفاظی  اقدامات کا اطلاق یقینی بنایا جائے ۔وزیرِ اعظم نے شعبہ صحت میں اصلاحات کے عمل کو بھی تیز کرنے کی ہدایت کی ۔اجلاس میں وزیر اقتصادی امور احد خان چیمہ اور پمز ہسپتال کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر ڈاکٹر محمد سلمان بھی شریک تھے ۔دریں اثنا وفاقی کابینہ نے اسلام آباد میں مقامی حکومتوں کے نئے نظام کی منظوری دے دی، جس کے تحت وفاقی دارالحکومت میں بلدیاتی نظام تین حلقوں پر مشتمل ہوگا۔

منظور شدہ نظام کے تحت اسلام آباد کی ہر کونسل کا الگ میئر ہوگا، جبکہ ہر کونسل 21 ارکان پر مشتمل ہوگی،جنرل کونسل میں خواتین اور اقلیتوں کو بھی نمائندگی دی جائے گی، جس سے مقامی حکومت کے نظام میں مختلف طبقات کی شمولیت یقینی بنائی جائے گی،اسلام آباد مقامی حکومتوں کا بل منظوری کیلئے کل قائمہ کمیٹی برائے داخلہ میں پیش کیا جائے گا۔ کمیٹی سے منظوری کے بعد بل سینیٹ اور قومی اسمبلی میں منظوری کے لیے پیش کیا جائے گا۔قبل ازیں وزیراعظم شہبازشریف نے کرغز صدر صادر ژاپاروف سے ملاقات کی ، اس موقع پر پاکستان اور کرغزستان کے درمیان تجارت20کروڑ ڈالر تک پہنچانے ، موسمیاتی تبدیلی، انسداد دہشتگردی اور آئی ٹی سمیت 17 معاہدوں ، مفاہمتی یادداشتوں اور مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کئے گئے ۔ معاہدوں پر دستخط کی تقریب بشکیک کے صدارتی محل میں ہوئی جس میں وزیراعظم شہباز شریف اور کرغز صدر صادر ژاپاروف نے بھی شرکت کی۔ بعد ازاں دونوں سربراہان حکومت نے مشترکہ پریس کانفرنس بھی کی۔

جن معاہدوں اورایم او یوزکا تبادلہ کیا گیا ان میں انسٹیٹیوٹ آف سٹریٹجک سٹڈیز اسلام آباد (آئی ایس ایس آئی) اور جمہوریہ کرغزستان کے نیشنل انسٹی ٹیوٹ فار سٹریٹجک انیشی ایٹو کے درمیان مفاہمت کی یادداشت کی دستاویز، پاکستان کی وزارت خارجہ اور کرغز ستان کی وزارت خارجہ کے درمیان 27 ۔ 2026 کے لیے تعاون کا پروگرام ، پاکستان کی حکومت اور کرغزستان کے کابینہ وزرا کے درمیان ٹرانزٹ ٹریڈ بارے معاہدہ، کرغزستان اور پاکستان کی حکومت کے درمیان حوالگی کا معاہدہ،حکومت پاکستان اور کرغزستان کے درمیان سائنس اور تکنیکی تعاون کا معاہدہ ، پاکستان اور کرغزستان کے درمیان فوجداری معاملات میں باہمی قانونی معاونت کے معاہدے کا مسودہ ، کرغزستان کی وزارت داخلہ اور پاکستان کی وزارت داخلہ و انسداد منشیات کے درمیان منشیات ، نشہ آور اشیا اور پریکرسر کیمیکلز وغیرہ کی سمگلنگ کی روک تھام میں تعاون کیلئے مفاہمت کی یادداشت ، کرغزستان کی وزارت صحت اور پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کے درمیان طبی تعلیم کیلئے تعاون سے متعلق مفاہمت کی یادداشت ، کرغزستان کی وزارت تعلیم اور پاکستان کی وزارت وفاقی تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت کے درمیان تعلیم کے شعبہ میں تعاون سے متعلق مفاہمت کی یادداشت ، کرغزستان کی وزارت قدرتی وسائل، ماحولیات اور تکنیکی نگرانی اور پاکستان کی وزارت موسمیاتی تبدیلی اور ماحولیاتی رابطہ کاری کے درمیان ماحولیات اور موسمیاتی تبدیلی کے شعبے میں تعاون کیلئے مفاہمت کی یادداشت ،این ڈی یو پاکستان اور نیشنل انسٹی ٹیوٹ فار سٹریٹجک انیشی ایٹوز کرغزستان کے درمیان اکیڈمک ریسرچ اور معاون سرگرمیوں کے شعبے میں مفاہمت کی یادداشت۔۔۔

کرغزستان کے صدر کے زیر انتظام قومی ایجنسی برائے ورچوئل ایسٹس اور بلاک چین ٹیکنالوجیزاور پاکستان ورچوئل ایسیٹس ریگولیٹری اتھارٹی کے درمیان ورچوئل اثاثوں کے شعبے میں تعاون کے لیے مفاہمت کی یادداشت ، لاہور اور کرغزستان کے شہر اوش کے درمیان سسٹر سٹی تعلقات کے قیام کا معاہدہ، اوجے ایس سی کرغز پوسٹ اور پاکستان پوسٹ کے درمیان پوسٹل سروسز اور ای کامرس کے شعبے میں باہمی تعاون سے متعلق دوطرفہ معاہدہ اور کرغزستان کے چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری اور فیڈریشن آف پاکستان چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے درمیان تعاون کے معاہدے کی دستاویزات کا تبادلہ کیا گیا۔پاکستان کی طرف سے نائب وزیراعظم اسحاق ڈار،وفاقی وزیر مواصلات عبدالعلیم خان ،وفاقی وزیراطلاعات ونشریات عطا اﷲ تارڑ،وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان اور وزیراعظم کے معاون خصوصی طارق فاطمی جبکہ کرغزستان کی طرف سے متعلقہ وزرا نے دستاویزات کا تبادلہ کیا۔دو طرفہ تجارتی حجم 20 کروڑ ڈالر تک بڑھانے کے معاہدے پر دستخط وزیراعظم کی وطن واپسی کے وقت ایئرپورٹ پر ہوئے ، نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار اور کرغزستان کے وزیر خارجہ ژین بیک کولوبایف نے دستخط کئے اور دستاویز کا تبادلہ کیا۔مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کرغزستان وسطی ایشیا میں پاکستان کا اہم شراکت دار ہے ، دونوں ممالک کے درمیان راہداری تجارت معاہدہ خوش آئند پیشرفت ہے ،معاہدوں اور مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخط دوطرفہ تعاون کے فروغ کے نئے دور کا آغاز ہے ، موجودہ دو طرفہ تجارت کے حجم کو آئندہ دو سال میں 16 ملین ڈالر سے 200ملین ڈالر تک بڑھانے کا عزم رکھتے ہیں ،کاسا1000منصوبے کی بروقت تکمیل ضروری ہے ،دہشت گردی ، انتہا پسندی اوردیگرعصری خطرات سے نمٹنے کیلئے تعاون بڑھائیں گے ۔

وزیراعظم نے کرغزستان کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا 28-2027کیلئے غیرمستقل رکن منتخب ہونے اور شنگھائی تعاون تنظیم کی کامیاب چیئرمین شپ پر بھی مبارکباد دی ۔ وزیراعظم نے کہا کہ نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار اوران کی ٹیم نے کرغزستان کے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے غیرمستقل رکن کے انتخاب کیلئے انتھک کوششیں کیں،کرغزستان کے صدرکی قیادت میں ملک کی شاندار ترقی سے بہت متاثر ہوئے ہیں اورکرغزستان نے متاثر کن اقتصادی اہداف حاصل کئے ہیں اوراس ترقی کوعوامی خدمت کا دائرہ وسیع کرنے اورکمزور طبقات کیلئے سہولیات کی فراہمی کے ذریعے بہتر معیار زندگی میں تبدیل کرنے کیلئے بامقصد اقدامات اٹھائے ہیں ۔ وزیراعظم نے کہا کہ اس وقت پاکستان اورکرغزستان کے درمیان دو طرفہ تجارت کا حجم صرف 16 ملین ڈالر ہے جو ہماری دوستی ، بھائی چارے اورمضبوط تعلقات سے کسی طورمطابقت نہیں رکھتا،ہمیں اس بات کو یقینی بنانا ہوگا کہ آئندہ دوسال میں دو طرفہ تجارت کا حجم 16 ملین ڈالر سے بڑھا کر200ملین ڈالر تک لیجائیں، یہ کوئی مشکل کام نہیں ہے ۔ وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کے کاروباری اور مالیاتی اداروں کی کرغزستان کے کاروباری اور مالیاتی اداروں کے ذمہ داروں کے ساتھ وسیع تر رابطوں کا خیرمقدم کرتے ہیں تاکہ دو طرفہ اقتصادی تعاون کے مشترکہ وژن کو آگے بڑھایا جاسکے ۔ پاکستان اور کرغزستان کی حکومتوں اورنجی شعبے کے درمیان تجارتی تعلقات کو وسعت دیں گے ۔انہوں نے کہا ہم راہداری تجارت کے معاہدے کاخیرمقد م کرتے ہیں جس سے دوطرفہ تجارت کو فروغ ملے گا، سفری سہولیات بہتر ہونگی اور علاقائی سطح پر رابطے کیلئے نئے مواقع پیدا ہوں گے ۔ وزیر اعظم نے 4 ملکی راہداری معاہدے پر عملدرآمد کے عزم کا اعادہ کیا اور کہا کہ ٹرانسپورٹ،کسٹمز اورانتظامی طریقہ کار کوآسان بنانے پر اتفاق کیا گیا ہے ۔ توانائی کے شعبے میں تعاون ہماری شراکت داری کا اہم ستون ہے ۔

انہوں نے کہا ہم دو قدیم شہروں اوش اور لاہور کے درمیان سسٹر سٹی تعلقات کے قیام کا خیرمقدم کرتے ہیں،سلمان ٹو، لاہور قلعہ اور بادشاہی مسجد شاندار تاریخ اور ثقافتی ورثے کی عکاسی کرتے ہیں ۔وزیراعظم نے کہا کہ کرغزستان کے صدر کے ساتھ ملاقات میں دو طرفہ امور کے ساتھ ساتھ باہمی دلچسپی کے علاقائی اور بین الاقوامی اموربھی زیر بحث آئے اور ہم نے ماحولیاتی اور موسمیاتی مسائل پر تعاون کو فروغ دینے پراتفاق کیا ہے اوراس بات پر بھی اتفاق کیا ہے کہ موثر کثیرالجہتی نظام عالمی امن اور سلامتی کیلئے اہمیت رکھتا ہے ،پاکستان اور کرغزستان اقوام متحدہ اور دیگرعالمی فورمز پر ایک دوسرے کیساتھ مل کرکام کررہے ہیں ، پاکستان کرغزستان کووسطی ایشیا میں انتہائی اہم اورقابل قدر شراکت دار تصور کرتا ہے ،ہمارے دورے سے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو مزید فروغ ملے گا، دونوں ممالک مل کر دہشت گرد ی اور انتہاپسندی کے خلاف کام کریں گے ۔ وزیر اعظم نے کرغزستان کے صدر کو پاکستان کے دورے کی دعوت بھی دی۔کرغزستان کے صدر صادر ژاپاروف نے دونوں ممالک کے درمیان اعلیٰ سطح کے رابطوں اورباہمی تعلقا ت کو نئی سطح پر لے جانے کے مشترکہ عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان سرمایہ کاری کے وسیع مواقع موجود ہیں،پاکستان کیساتھ ادویہ سازی، زراعت، توانائی، ہلکی مشینری ، سیاحت ، ڈیجیٹل معیشت ، ورچوئل اثاثوں اوردیگر شعبوں میں مشترکہ منصوبوں پر عملدرآمدکیلئے تیار ہیں ۔ شہباز شریف نے کرغزستان کے دارالحکومت بشکیک میں آتا بیئت میموریل کمپلیکس کا دورہ کیا ،وزیراعظم نے آتا بیئت میں معروف ادیب چنگیز ایتماتوف کی قبر پر پھولوں کی چادر چڑھائی اور فاتحہ پڑھی۔وزیراعظم نے کرغزستان کے صدر صادر ژاپاروف کے ہمراہ بشکیک میں آلا آرچا نیشنل پارک کا بھی دورہ کیا۔

دورے کے دوران وزیراعظم کو کرغز ثقافت اور اس سے منسلک مختلف روایتی سرگرمیوں، ثقافتی رقص اور دیگر روایتی فنون کا مظاہرہ پیش کیا گیا۔وزیراعظم نے روایتی گھڑ سواری، عقابوں کے ذریعے شکار اور دیگر ثقافتی سرگرمیوں کا مشاہدہ کیا۔دورہ مکمل ہونے پر کرغزستان کے صدر خود گاڑی چلا کر شہباز شریف کو ایئرپورٹ لائے اور انہیں الوداع کیا۔اعلامیے کے مطابق صدرکرغزستان کا ایئرپورٹ پر الوداع کرنے آنا مثالی مہمان نوازی اور مضبوط تعلقات کا اظہارہے ، صدر ژاپاروف کا شہباز شریف کو ایئرپورٹ پرالوداع کرنابرادرانہ تعلقات میں نئی جہتوں کا اضافہ ہے ۔شہباز شریف نے وطن واپس پہنچنے پر صحت کے شعبے سے متعلق اجلاس کی صدارت کی اور صحت کی سہولیات، ہسپتالوں کی کارکردگی اور طبی امور کا جائزہ لیا ۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ وزیرِ صحت ہفتے میں ایک دن پمز ہسپتال میں بیٹھ کر طبی امور کی براہِ راست نگرانی کریں گے ۔ اس اقدام کا مقصد ہسپتال کے انتظامی اور طبی معاملات کی مؤثر نگرانی اور مریضوں کو بہتر سہولیات کی فراہمی یقینی بنانا ہے ۔اجلاس میں صحت کے شعبے میں اصلاحات اور عوام کو معیاری طبی سہولیات کی فراہمی کے لیے مزید اقدامات پر بھی غور کیا گیا۔ وزیراعظم نے متعلقہ حکام کو صحت کے شعبے میں بہتری کے لیے مو ثر اقدامات یقینی بنانے کی ہدایت کی۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...