پی سی ایل کیسز میں 100 سے زائد توہین عدالت درخواستیں غیر مشروط معافی نہیں:اسلام آباد ہائیکورٹ
کیسز کمیٹی کے سامنے رکھے ،346کا فیصلہ کیا:وکیل، آپ یہ نہیں کہہ سکتے عدالت کا فیصلہ سکروٹنی کمیٹی کریگی:جسٹس اعظم حکم پر عملدرآمد نہ ہوا تو توہین عدالت کا نوٹس کرینگے ،پیر تک وقت ہے عملدرآمد رپورٹ پیش کریں پھر فیصلہ کیا جائیگا:ریمارکس
اسلام آباد (رضوان قاضی)اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس اعظم خان نے عدالتی حکم کے باوجود شہریوں کے نام پاسپورٹ کنٹرول لسٹ سے نہ نکالنے پر توہین عدالت کے کیسز میں عملدرآمد رپورٹ طلب کرتے ہوئے کہا کہ حکم پر عملدرآمد نہ ہوا تو توہین عدالت کا نوٹس کریں گے ۔ افنان خان خرم شہزاد اور ہادی حسین کی درخواستوں پر سماعت کے دوران جسٹس اعظم خان نے کہاکہ ڈی جی امیگریشن اینڈ پاسپورٹ ڈویژن بینچ کے بعد ذاتی طور پر پیش ہوں۔ دوبارہ سماعت کے دوران عدالت پیش ہونے پر جسٹس اعظم خان نے استفسار کیاکہ رندھاوا صاحب کبھی فہرست مانگی ہے کہ کتنی توہین عدالت کی درخواستیں زیرِ سماعت ہیں،توہین عدالت کی میری کورٹ میں 16 درخواستیں زیر سماعت اور ہائیکورٹ میں 100 سے زائد درخواستیں ہیں۔ وکیل نے کہاکہ وزارت داخلہ نے ایک کمیٹی بنائی ہے ، جسٹس اعظم خان نے کہا ہائیکورٹ کے حکم کو کمیٹی دیکھے گی ایسا کوئی قانون ہے تو مجھے بتا دیں۔ وکیل نے کہا اس عدالت میں جو کیسز آئے وہ کمیٹی کے سامنے رکھے گئے ،346 کیسز کا فیصلہ کمیٹی نے کیا، میٹنگ منٹس کا انتظار ہے ۔ جسٹس اعظم نے کہا کہ آپ یہ نہیں کہہ سکتے کہ عدالت کا فیصلہ کمیٹی سکروٹنی کرے گی۔ پیر تک وقت دے رہے ہیں عملدرآمد رپورٹ پیش کریں پھر فیصلہ کیا جائے گا،توہین عدالت کا نوٹس دیا تو غیر مشروط معافی نہیں مانی جائے گی،عدالت نے سماعت پیر تک ملتوی کر دی۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments