نئے صوبوں کی تحریک، حکومت اور سیاسی قیادت کا بڑا امتحان
پیپلز پارٹی کا تقسیم کی مخالفت کا واضح اعلان، مسلم لیگ ن تذبذب کا شکار
(تجزیہ:سلمان غنی)
مسلم لیگ ن کے سربراہ نواز شریف وطن واپس پہنچ چکے ہیں اور صدر آصف زرداری کی آج واپسی متوقع ہے ، امکان یہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ حکمران اتحاد کی لیڈر شپ کی وطن واپسی کے بعد نئے صوبوں کے حوالہ سے جاری تحریک پر بڑی جماعتیں کسی حتمی پوزیشن پر پہنچ پائیں گی، کیونکہ اب تک کی صورتحال میں پیپلز پارٹی واضح اعلان کر چکی اور سندھ اسمبلی میں صوبوں کی تقسیم کیخلاف قرارداد خود اسلام آباد کیلئے بڑے پیغام سے کم نہیں، جبکہ دوسری جانب حکمران مسلم لیگ گومگو کی صورتحال سے دوچار ہے اور خود وزرا کے اختلافی بیانات سامنے آ رہے ہیں۔ لہٰذا بڑا اور بنیادی سوال اب یہی ہے کہ نئے صوبوں کی تشکیل کا عمل ایوان کے اندر سے ممکن بن پائے گا یا نہیں۔ ویسے تو واقفان حال کا کہنا ہے کہ نئے صوبوں پر سیاسی لیڈر شپ کی تائید اور اختلافی بیانات سب کچھ ریکارڈ پر ہے ، مگر نئے صوبوں کے حوالہ سے اصل سرگرم قوت خاموشی سے صورتحال پر نظر جمائے اپنی حکمت عملی کو حتمی شکل دے رہی ہے اور فیصلہ ساز قوتیں ملک میں گورننس کی بنیاد پر جو کرنا چاہ رہی ہیں اس کا اظہار نظر نہیں آ رہا ۔لیکن ملک میں ایک ماحول بنا نظر آ رہا ہے اور سیاسی محاذ پر پیدا جمود بھی ٹوٹتا دکھائی دے رہا ہے ۔ اس حوالہ سے ہوگا کیا؟ فی الحال کچھ کہنا مشکل ہے ۔ لیکن ایک بات نظر آ رہی ہے کہ نئے صوبوں یا انتظامی یونٹس کے حوالہ سے ایک بات روکے نہیں رکنی ۔جہاں تک پیپلز پارٹی اور خود صدر آصف علی زرداری کے طرز عمل اور خود مسلم لیگ ن کی حکمت عملی کا سوال ہے تو بات اب فیصلہ کن موڑ پر پہنچ چکی۔
پیپلز پارٹی کے طرز عمل سے تو لگ رہا ہے کہ اس نے حکومت کی بجائے سیاست کو ترجیح دینے کا فیصلہ کیا ہے اور یقیناً اسے اس کی قیمت دینا پڑے گی اور یہ قیمت ایوان صدارت اور سندھ حکومت کی قربانی بھی ہو سکتی ہے ۔ تاہم مسلم لیگ ن کیا کرے گی اور نواز شریف کا فیصلہ کیا ہوگا ؟،تو بلاشبہ نواز شریف نہیں چاہیں گے کہ پنجاب تقسیم ہو، کیونکہ پنجاب کی تقسیم سے مسلم لیگ ن کی سیاسی گرفت پر بڑی زد پڑ سکتی ہے ۔ لہٰذا بوجوہ وہ صوبوں کی تقسیم کے عمل میں بڑی رکاوٹ نہیں ڈالیں گے ، لیکن یہ ضرور چاہیں گے کہ معاملہ طویل ہو اور اسے پارلیمنٹ میں لے جایا جائے ۔ لہٰذا کہا جا سکتا ہے کہ اب سیاسی لیڈر شپ اور مقتدرہ دونوں کا امتحان ہے ۔جہاں تک اس امر کا سوال ہے کہ نئے صوبوں یا انتظامی یونٹس کے قیام کا عمل آئینی عمل کے ذریعے ممکن ہوگا ،تو ایک بات توواضح ہے کہ آئین کو بائی پاس کر کے صوبے نہیں بنائے جا سکتے ،اب بھی گیند پاکستان کی بڑی لیڈر شپ کے کورٹ میں ہے کہ اپنی انا کو پیچھے رکھیں اور ایسا فیصلہ کریں کہ ان کی عوام سے خود اپنے سسٹم اور ملک سے کمٹمنٹ ظاہر ہو۔ مجوزہ 28ویں ترمیم سے متعلق قیاس آرائیاں اہمیت رکھتی ہیں اور یہ قیاس آرائیاں بھی جاری ہیں کہ تمام صوبوں کیلئے متفقہ ایک یکساں بااختیار بلدیاتی قانون متعارف کرایا جا سکتا ہے اور اس کی مخالفت کسی سیاسی جماعت کی جانب سے مشکل ہوگی۔ موجودہ صورتحال میں نئے صوبے ناگزیر سمجھے جا رہے ہیں، لہٰذا اس پر سنجیدہ اور بامقصد بحث ہونی چاہئے اور حکمرانی عوام کے قریب ہونی چاہئے ،تو سب سے پہلے وہ بلدیاتی حکومتیں قائم ہونی چاہئیں جن کا وعدہ خود سیاسی جماعتوں نے 18ویں آئینی ترمیم کرتے ہوئے کیا تھا۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments