پٹرول مسلسل مہنگا، سمارٹ لاک ڈاؤن پر مشاورت: جمعہ ،ہفتہ اور اتور چھٹی کی تجویز، حکومتی ریلیف ناکافی ، جتنا بوجھ معیشت اٹھا سکتی تھی اٹھا لیا گیا: وفاقی وزیر
پٹرول مزید 4روپے 10پیسے ،ڈیزل 6روپے 41پیسے لٹرمہنگا،وزیر اعظم کی زیر صدارت اجلاس میں بازاروں کی 3 روزہ بندش،اوقات کار کم ،50فیصد سرکاری گاڑیاں گرائونڈ کر نیکی تجویز سرکاری ملازمین کیلئے روٹیشن میں کام کا فارمولا ،غیر ضروری سفر میں کمی ، لاک ڈائون کا اعلان وزیر اعظم کر ینگے :ذرائع ، پٹرول پر لیوی کم ،100 روپے ریلیف زیادہ :مصدق ملک
اسلام آباد(نامہ نگار،دنیا نیوز)حکومت نے پٹرول اور ڈیزل مزید مہنگا کر دیا جبکہ حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی بڑھتی ہوئی قیمتوں سے نمٹنے کیلئے ملک میں’’ پٹرولیم سمارٹ لاک ڈاؤن‘‘ لگانے پر مشاورت شروع کر دی ہے ،تفصیلات کے مطابق پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ مسلسل جاری ہے ،گزشتہ رات پٹرول کی قیمت میں 4روپے 10پیسے اور ڈیزل کی قیمت میں 6روپے 41پیسے لٹر اضافہ کر دیا گیا،اضافے کے بعد پٹرول کی قیمت 384روپے 34پیسے اور ڈیزل کی 415روپے 83پیسے لٹر ہو گئی ہے ،اس حوالے سے نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا ہے ،ادھر حکومت نے لاک ڈائون پر غور شروع کر دیا،وزیر اعظم شہبازشریف کی زیر صدارت اجلاس میں مختلف تجاویز کا جائزہ لیا گیا، ہفتے میں تین روز چھٹی اور لاک ڈاؤن کی تجویز زیر غور آئی ، لاک ڈاؤن کے تحت سرکاری و نجی دفاتر میں 4 دن کام کی تجویز د ی گئی ہے ، جمعہ، ہفتہ اور اتوار کو چھٹی اور نقل و حمل کم کرنے کی تجویز دی گئی ہے ، سرکاری ملازمین کے روٹیشن میں کام کرنے کا فارمولا بھی زیر غور ہے ،ذرائع کے مطابق بازاروں کی 3 روزہ بندش اور اوقات کار کم کرنے پرغور کیا جا رہا ہے ، تین روزہ تعطیلات کے فیصلے سے قبل وزارتوں اور اداروں سے بھی تجاویز لی جائیں گی،پٹرول کی بچت،غیر ضروری سفر میں کمی اور توانائی کا استعمال محدود کرنے پر توجہ دی جارہی ہے ،50 فیصد سرکاری گاڑیوں کو گراؤنڈ کرنے کی تجویز بھی دی گئی ہے۔تمام تجاویز کا مفصل جائزہ لینے کے بعد حتمی رپورٹ وزیراعظم کو پیش کی جائے گی اور وزیراعظم کی جانب سے رپورٹ کی روشنی میں سمارٹ لاک ڈاؤن کا اعلان متوقع ہے۔
ادھروفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی ڈاکٹر مصدق ملک نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے پٹرول پر 100روپے ریلیف دیا گیا ہے ، جتنا بوجھ معیشت اٹھا سکتی تھی اٹھا لیا گیا،ہم سمجھتے ہیں اب بھی جو ریلیف دیا جارہا ہے وہ ناکافی ہے مگرملکی معیشت اس سے زیادہ ریلیف کا بوجھ نہیں اٹھا سکتی ،انہوں نے کہا کہ پٹرولیم قیمتوں میں اضافے سے عام آدمی شدید متاثر ہو رہا، 100 روپے کے ریلیف سے کچھ سہولت ملے گی،انہوں نے کہا کہ حکومت عوام کو درپیش مشکلات سے آگاہ ہے ، اسی لیے وزیراعظم نے فیول ریلیف سکیم میں سب سے پہلے غریب طبقے کو ترجیح دی ہے ،اُنہوں نے کہا کہ عالمی سطح پر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ امریکا اور ایران کی جنگ کے باعث ہوا، حکومت نے معاشی صورتحال کے مطابق عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف دینے کی کوشش کی ہے ، وفاقی وزیر نے کہا کہ دیہاڑی دار طبقے کو 100 روپے کے ریلیف سے کچھ سہولت ملے گی،مزید کہا کہ اِس وقت پٹرول پر 80 روپے لیوی اور 5 روپے کاربن ٹیکس ہے ، تاہم عوام کو پٹرول پر لیوی ٹیکس سے زیادہ 100 روپے کا ریلیف دیا جا رہا ہے ۔اُنہوں نے کہا کہ پاکستان جنگ رکوانے کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہا ہے ، سیاسی اور عسکری قیادت خطے میں امن کے لیے کوششیں کر رہی ہے ، آج پاکستان کو دنیا میں امن کے ضامن کے طور پر دیکھا جاتا ہے ، جنگ کے شعلے تھمنے سے دنیا کے غریب لوگوں پر بھی بوجھ کم ہوگا۔
ادھرپارلیمانی امور کے وفاقی وزیر ڈاکٹر طارق فضل چودھری نے کہا ہے کہ ڈپٹی وزیراعظم اسحاق ڈار کی زیر صدارت اجلاس میں سمارٹ لاک ڈاؤن کی کوئی بات زیر بحث نہیں آئی، اجلاس میں پٹرولیم مصنوعات سے متعلق امور پر غور کیا گیا ،انہوں نے کہا کہ کسی بھی جماعت کے رہنماؤں کو عوامی مقامات پر قبضہ نہیں کرنے دیا جائے گا،انہوں نے کہا کہ اگر کوئی سمجھتا ہے کہ وہ نظام تبدیل کرنے آ رہا ہے تو کیا اس کی آمد سے نظام تبدیل ہو جائے گا؟ وزیراعظم کے دروازے پر بیل دے کر استعفیٰ مانگنے سے کیا وزیراعظم استعفیٰ دے دیں گے ؟ ۔بی بی سی سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ کسی بھی قیدی کو ہسپتال منتقل کرنے کا فیصلہ میڈیکل بورڈ کرتا ہے اور اس کا اختیار کسی جج کے پاس ہے اور نہ ہی کسی وزیر کے پاس ہے ۔ عمران خان کا معائنہ کرنے والی ٹیم نے سابق وزیر اعظم کو فِٹ قرار دیا جس کے بعد انہیں دوبارہ اڈیالہ جیل منتقل کر دیا گیا تھا۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments