امریکی اسلحہ ذخائر میں کمی ، خلاء میں ہتھیار نصب

امریکی اسلحہ ذخائر میں کمی ، خلاء میں ہتھیار نصب

ایران کیخلاف جنگ پر33ارب 40کروڑ ڈالر خرچ، 4ایف 15طیارے تباہ ہوئے :امریکی محکمہ دفاع امریکی اقدام کے بعد چین، روس بھی خلا میں ہتھیار نصب کرسکتے ، مسابقت بڑھنے کا خدشہ:ماہرین

واشنگٹن، بیجنگ (نیوز ایجنسیاں) امریکا اور ایران کے درمیان جنگ نے امریکی اسلحہ اور گولہ بارود کے ذخائر پر دباؤ بڑھا دیا، جس کے باعث امریکی محکمہ دفاع نے ذخائر کی کمی پوری کرنے کیلئے ہتھیاروں کی پیداوار اور خریداری کا عمل تیز کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ امریکی محکمہ دفاع کے انسپکٹر جنرل کی رپورٹ کے مطابق 28 فروری سے 30 جون تک ایران کیخلاف جنگ پر امریکا نے 33 ارب 40 کروڑ ڈالر خرچ کئے ، جن میں 22 ارب 33 کروڑ ڈالر صرف استعمال ہونے والے گولہ بارود پر خرچ ہوئے ۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ نئی پیداواری صلاحیت بڑھانے میں وقت لگے گا، جس سے یوکرین اور تائیوان کیلئے بھی تشویش پیدا ہوسکتی ہے کیونکہ وہ امریکی ہتھیاروں پر انحصار کرتے ہیں۔رپورٹ کے مطابق جنگ کے دوران امریکا کے 4 ایف 15 طیارے اور 30 تک ایم کیو 9 ریپر ڈرونز تباہ ہوئے ، جبکہ ایک ایف 35 اور 7 کے سی 135 طیارے متاثر ہوئے ۔ لڑائی میں 18 امریکی فوجی ہلاک اور 417 زخمی ہوئے ۔ سینٹکام کے مطابق ایرانی حملوں کے نتیجے میں کویت، بحرین، قطر، متحدہ عرب امارات، سعودی عرب، عراق، عمان اور اردن میں امریکی فوجی اڈوں کی سینکڑوں عمارتوں اور تنصیبات کو نقصان پہنچا یا وہ تباہ ہوئیں۔ دوسری جانب صدر ٹرمپ مسلسل دعویٰ کرتے رہے ہیں کہ امریکا کے پاس تقریباً لامحدود گولہ بارود موجود ہے۔

ادھر امریکی فضائیہ کے سیکرٹری ٹروائے مینک نے میری لینڈ میں ایئر اسپیس اینڈ سائبر کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پہلی بار باضابطہ طور پر اعتراف کیا ہے کہ امریکا نے دشمن کی ممکنہ جارحانہ کارروائیوں کا مقابلہ کرنے کیلئے خلا میں مہلک دفاعی و جارحانہ ہتھیار نصب کر دیئے ہیں۔ امریکی فوج اور فضائیہ کے مطابق مدار میں امریکی سپیس فورس کے ایسے ہتھیار موجود ہیں جو زمینی، فضائی اور خلائی اثاثوں کا دفاع کرسکتے ہیں۔ تاہم ہتھیاروں کی نوعیت، صلاحیت اور انہیں مدار میں کب پہنچایا گیا، اس بارے میں تفصیلات خفیہ رکھی گئی ہیں۔ماہرین کے مطابق ان نظاموں میں الیکٹرانک جیمنگ، مواصلاتی نظام میں خلل ڈالنے والی ٹیکنالوجی اور طاقتور لیزر ہتھیار شامل ہوسکتے ہیں، جبکہ فزیکل یا ٹکرانے والے ہتھیار بھی ممکن ہیں۔ تاہم خلائی ملبے کے خطرے کے باعث نان کائنیٹک نظام کو ترجیح دی جاسکتی ہے ۔ امریکی حکام کے مطابق یہ پیش رفت صدر ٹرمپ کے اعلان کردہ ‘‘گولڈن ڈوم’’ دفاعی نظام کا حصہ ہے ، جس کا مقصد خلائی سینسرز اور مدار میں موجود انٹرسیپٹرز کے ذریعے بیلسٹک میزائلوں کو ابتدائی مرحلے میں نشانہ بنانا ہے۔

پینٹاگون کا کہنا ہے کہ روس اور چین کے ہائپر سونک و بیلسٹک میزائلوں سے دفاع کیلئے خلائی ٹیکنالوجی کی تنصیب ناگزیر تھی۔امریکی سپیس فورس کے ترجمان کے مطابق خلائی کنٹرول کیلئے روایتی اور غیر روایتی ذرائع استعمال کئے جاسکتے ہیں تاکہ مخالف کی صلاحیتوں کو متاثر، کمزور یا ضرورت پڑنے پر تباہ کیا جا سکے ۔ 2024 میں امریکا نے دعویٰ کیا تھا کہ روس نے ایسا سیٹلائٹ مدار میں بھیجا ہے جو دیگر سیٹلائٹس پر حملہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے ، جبکہ امریکی سپیس فورس کے مطابق چین بھی اپنی فوج کو جدید بنانے کیلئے خلائی صلاحیتیں حاصل کر رہا ہے ۔چین نے امریکا پر زور دیا ہے کہ وہ خلا میں جنگ کی تیاری اور عسکری صلاحیتوں میں توسیع سے باز رہے ۔ چینی وزارت خارجہ کے ترجمان گو جیاکون نے کہا کہ خلا میں ہتھیاروں کی دوڑ شروع کرنے سے گریز کیا جائے ۔ دفاعی ماہرین کے مطابق امریکا کے اس کھلے اعتراف کے بعد چین اور روس بھی مدار میں اپنی خلائی جنگی صلاحیتوں اور ہتھیاروں کی تنصیب کا کھل کر اظہار کرسکتے ہیں، جس سے خلا میں عسکری مسابقت تیز ہونے کا خدشہ ہے ۔ 1967 کے عالمی خلائی معاہدے کے تحت خلا میں بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کی تنصیب ممنوع ہے ، تاہم عام ہتھیاروں اور الیکٹرانک وارفیئر پر پابندی نہیں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...