سینیٹ کمیٹی : ایم ڈی کیٹ سال میں دو بار، ویٹیج 30 فیصد ، میڈیکل نشستیں بڑھانے کی سفارش
نتائج 3 سال قابلِ استعمال رکھنے ، امتحان کی تاریخ پہلے جاری کرنے اور متنازع سوالات پر باقاعدہ شکایتی نظام بنانے کی تجویز ایف ایس سی، اے او لیول، او لیول ، آئی بی طلبہ کیلئے یکساں امتحان، نصاب میں متعلقہ ماہرین شامل کئے جائیں:رپورٹ پیش
اسلام آباد (نیوز رپورٹر، دنیا نیوز)سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے نیشنل ہیلتھ سروسز، ریگولیشنز اینڈ کوآرڈی نیشن کا اجلاس چیئرمین سینیٹر امیر ولی الدین چشتی کی زیر صدارت ہوا جس میں میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج ایڈمیشن ٹیسٹ (ایم ڈی کیٹ) کے حوالے سے پالیسی، تیاری، منصوبہ بندی اور رابطہ کاری سے متعلق ذیلی کمیٹی کی رپورٹ کا جائزہ لیا گیا۔ سینیٹ کمیٹی برائے صحت کی ذیلی کمیٹی نے ایم ڈی کیٹ اور مجموعی میڈیکل داخلہ نظام میں بڑے پیمانے پر اصلاحات کی سفارشات پیش کر دیں۔ ذیلی کمیٹی کی رپورٹ سینیٹر انوشہ رحمان نے پیش کی ، رپورٹ میں ایم ڈی کیٹ سال میں دو مرتبہ منعقد کرنے کی سفارش کی گئی تاکہ امتحان میں ناکامی کی صورت میں طالب علم کا پورا سال ضائع نہ ہو۔ موجودہ 50 فیصد ویٹیج کم کرکے 30 فیصد کرنے اور میڈیکل داخلے کے لیے صرف ایک امتحان پر انحصار کم کرنے کی تجویز بھی دی گئی ہے ۔ ایم ڈی کیٹ میں نیگیٹو مارکنگ متعارف کرانے کے اثرات کا جائزہ لینے کی سفارش کی گئی ہے ۔ذیلی کمیٹی نے ایم ڈی کیٹ کے نتائج کو تین سال تک قابلِ استعمال رکھنے ، امتحان کی تاریخ بہت پہلے جاری کرنے اور غیر معمولی حالات کے سوا تاریخ تبدیل نہ کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔
مبہم، غلط یا متنازع سوالات کے خلاف باقاعدہ شکایتی اور ریویو نظام بنانے پر بھی زور دیا گیا ۔رپورٹ میں ایف ایس سی، اے او لیول، او لیول اور آئی بی طلبہ کے لیے ایم ڈی کیٹ کو یکساں اور منصفانہ بنانے کی ضرورت پر زور دیا گیا ۔ نصاب کی تیاری میں کیمبرج، او/اے لیولز اور آئی بی ماہرین کو شامل کرنے جبکہ طلبہ کی ایم ڈی کیٹ تیاری کے لیے مہینوں اکیڈمیوں پر انحصار ختم کرنے کے اقدامات کی سفارش کی گئی ہے ۔میڈیکل کالجز میں نشستوں میں اضافے کے لیے پانچ سالہ منصوبہ بنانے ، سرکاری میڈیکل کالجز میں نشستوں کی مرحلہ وار توسیع اور بلوچستان، آزاد کشمیر سمیت پسماندہ علاقوں میں میڈیکل تعلیم کے مواقع بڑھانے کی سفارش کی گئی ہے ۔رپورٹ میں کہا گیا کہ 2024ء میں تقریباً ایک لاکھ 69 ہزار 520 امیدواروں نے ایم ڈی کیٹ دیا جن میں سے تقریباً 16 ہزار 648 کامیاب ہوئے ، جبکہ ملک میں میڈیکل و ڈینٹل نشستوں کی تعداد تقریباً 22 ہزار 300 ہے ۔ اہل امیدواروں کی کم تعداد اور دستیاب نشستوں کے درمیان فرق کو موجودہ داخلہ پالیسی کے حوالے سے اہم سوال قرار دیا گیا ہے۔
ذیلی کمیٹی کے مطابق حالیہ برسوں میں 40 ہزار سے زائد اہل پاکستانی ڈاکٹرز بیرونِ ملک ملازمت کے لیے منتقل ہوئے ، اس لیے ڈاکٹروں کی تعداد محدود رکھنے کے بجائے میڈیکل افرادی قوت بڑھانے کی پالیسی اپنانے کی ضرورت ہے ۔رپورٹ میں نجی میڈیکل کالجز کی بھاری فیسوں کا جائزہ لینے ، مستحق طلبہ کے لیے مالی معاونت اور خالی میڈیکل نشستوں کے مؤثر استعمال کی سفارش کی گئی ۔ سیلاب، قدرتی آفات اور سکیورٹی صورتحال سے متاثر ایم ڈی کیٹ امیدواروں کے لیے مستقل ریلیف میکنزم بنانے کی تجویز بھی دی گئی ہے ۔پی ایم ڈی سی کو ایم ڈی کیٹ رجسٹریشن، نتائج، نشستوں اور داخلوں کا مکمل سالانہ ڈیٹا جاری کرنے ، فوری شکایتی نظام، فاسٹ ٹریک ای میل اور مؤثر کال سینٹر قائم کرنے کی سفارش کی گئی ۔ ایم ڈی کیٹ پالیسی میں تبدیلی سے قبل قانونی جانچ اور باقاعدہ منظوری لازمی بنانے پر بھی زور دیا گیا۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments