حکومت سے مذاکرات، جماعت اسلامی کا پٹرول ریلیف مسترد
عوام کو ریلیف فراہمی حکومت کی اولین ترجیح:علی پرویز، اعظم تارڑ، بلال اظہر ریلیف کسی صورت پٹرولیم لیوی کے مکمل خاتمے کا متبادل نہیں: لیاقت بلوچ
اسلام آباد (دنیا نیوز، مانیٹرنگ ڈیسک، اے پی پی) پٹرولیم لیوی کے معاملے پر جماعت اسلامی اور حکومت کے وفود کے درمیان مذاکرات کا تیسرا دور ہوا۔ حکومتی وفد نے جماعت اسلامی کی سفارشات وزیراعظم تک پہنچانے کی یقین دہانی کرائی، تاہم نائب امیر جماعت اسلامی لیاقت بلوچ نے وزیراعظم کے اعلان کردہ 100 روپے کے ریلیف کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ پٹرولیم لیوی کے مکمل خاتمے کا متبادل نہیں۔ جماعت اسلامی کے احتجاج اور 20 ستمبر کی کال کا مقصد لیوی کا مکمل خاتمہ ہے ، حکومت عوامی دباؤ کا رخ موڑنے کی کوشش کر رہی ہے ۔لیاقت بلوچ کی سربراہی میں جماعت اسلامی کے وفد نے وفاقی وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک، وزیر توانائی اویس لغاری، وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ اور وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی پر مشتمل حکومتی کمیٹی سے اسلام آباد میں ملاقات کی۔
مذاکرات کے دوران حکومتی وفد نے سات روزہ رولنگ ایوریج پر مبنی پٹرولیم قیمتوں کے نظام اور آئی پی پیز کے معاملے پر پیش رفت سے آگاہ کیا۔علی پرویز ملک نے کہا حکومت صارفین کے تحفظ اور ایندھن کی دستیابی کیلئے اقدامات کر رہی ہے ، موٹر سائیکلوں، چنگچی رکشوں اور چھوٹی گاڑیوں کیلئے ٹارگٹڈ سبسڈی دی جا رہی ہے ۔ اعظم نذیر تارڑ نے کہا عوام کو ریلیف کی فراہمی وزیراعظم کی اولین ترجیح ہے ، جبکہ بلال اظہر کیانی نے ٹیکس بیس بڑھانے اور براہ راست ٹیکسوں کے فروغ کیلئے اقدامات کا ذکر کیا۔لیاقت بلوچ نے میڈیا سے گفتگو میں کہا لیوی ختم ہونے سے پٹرول پر 103 روپے فی لٹر تک ریلیف مل سکتا ہے ، حکومت کو واضح کردیا ہے کہ جماعت اسلامی کا مارچ اسلام آباد کی طرف جائے گا۔ اویس لغاری نے آئی پی پیز سے متعلق مؤقف پیش کیا اور تسلیم کیا کہ جماعت اسلامی کے گزشتہ احتجاج کے بعد 54 آئی پی پیز کے معاملات فائنل کئے گئے۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments