ہائیکورٹ:این آئی ایچ ملازم کی جبری ریٹائرمنٹ کالعدم

 ہائیکورٹ:این آئی ایچ ملازم کی جبری ریٹائرمنٹ کالعدم

پٹیشنر 31دسمبر 2022کو ریٹائرمنٹ کی عمر کو پہنچ چکا، 3ماہ میں کارروائی مکمل کریں عدالت نے اپیلٹ آرڈر بھی کالعدم قرار دیا، تمام فوائد دینے کا حکم، تحریری فیصلہ جاری

اسلام آباد (رضوان قاضی) اسلام آباد ہائیکور ٹ نے قومی ادارہ صحت کے ملازم صفدر اقبال کی درخواست منظور کرتے ہوئے جبری ریٹائرمنٹ کے احکامات کالعدم قرار دے کر پٹیشنر کو معمول کی ریٹائرمنٹ کے تمام فوائد دینے کا حکم دے دیا اور 13 نومبر 2018 کے احکامات اور 2 جولائی 2019 کا اپیلٹ آرڈر کالعدم قرار دے دیا۔ جسٹس شاہ رخ ارجمند نے 14 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کیا۔ عدالت نے کہا کہ پٹیشنر 31 دسمبر 2022 کو ریٹائرمنٹ کی مقررہ عمر کو پہنچ چکا ہے ، پٹیشنر کا کیس معمول کی ریٹائرمنٹ پر مکمل ہونے والا تصور کیا جائے ۔ متعلقہ حکام پٹیشنر کے تمام واجب الادا سروس، ریٹائرمنٹ اور پنشن فوائد کا تعین کریں اور فیصلے کی مصدقہ نقل موصول ہونے کے بعد تین ماہ میں کارروائی مکمل کریں۔ عدالت نے کہا کہ انکوائری رپورٹ میں درخواست گزار کی جانب سے جوابی شیٹس میں دانستہ ردوبدل یا حتمی بدعنوانی کا الزام ثابت نہیں ہوا، محکمہ جاتی حکام نے الزام ثابت شدہ سمجھ کر کارروائی کی جو قانونی بنیاد میں نقص ہے ، ریکارڈ ہی ظاہر کرتا ہے کہ الزام ثابت نہیں ہوا۔ عدالت نے درخواست منظور کرتے ہوئے دونوں حکم نامے کالعدم قرار دے دیئے۔ 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...