حوثیوں کا سعودی دارالحکومت پر حملہ : حساس تنصیبات کو میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنانے کا دعوی، ریاض ائیر پورٹ پر دھویں کے بادل، ینبع میں آرامکو تیل تنصیب بھی ہدف بنی
حوثیوں نے بیشہ، طائف اورفرسان میں بھی شہری تنصیبات کو نشانہ بنانے کی کوشش کی ،ریاض پرداغا گیا بیلسٹک میزائل فضا میں تباہ ،تمام حملے ناکام بنا دئیے :سعودی فوجی اتحاد حوثی حملوں کے باعث پاکستان کیساتھ مل کر سعودیہ کی عسکری ضروریات کا جائزہ لیں گے : ترکیہ ،یمن میں جھڑپیں، 48افراد ہلاک،اسحاق ڈار کا ایرانی وزیر خارجہ سے رابطہ
تہران،واشنگٹن،اسلام آباد، صنعا، ریاض (نیوز ایجنسیاں،نمائندہ دنیا)یمن کے حوثیوں نے ہفتے کو سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں حساس مقامات اور بندرگاہی شہر ینبع میں تیل کی تنصیبات پر حملے کرنے کا دعویٰ کیا ہے ۔ حوثی فوج کے ترجمان یحیی سریع نے ٹیلیگرام پر جاری بیان میں کہا کہ سعودی عرب کی جانب سے صنعا کو نشانہ بنانے کی کوششوں کے جواب میں دو فوجی کارروائیاں کی گئیں۔ ان کے مطابق حملوں میں بڑی تعداد میں بیلسٹک اور کروز میزائلوں سمیت ڈرونز بھی استعمال کیے گئے ۔ ترجمان نے دعویٰ کیا کہ پہلا حملہ ریاض کے حساس مقامات جبکہ دوسرا ینبع میں سعودی آرامکو کی تنصیبات پر کیا گیا۔ یمن کے حوثیوں کے خلاف کارروائی کرنے والے سعودی قیادت میں قائم فوجی اتحاد نے کہا ہے کہ ایران کے حمایت یافتہ گروپ نے ہفتے کی صبح ریاض پر بیلسٹک میزائل داغا، جسے فضائی دفاعی نظام نے فضا میں ہی تباہ کردیا۔سعودی فوجی اتحاد کا یہ بیان دارالحکومت ریاض میں دھماکوں کی آوازیں سنائی دینے کے بعد سامنے آیا۔
اتحاد کے ترجمان نے ایکس پر بتایا کہ حوثیوں نے بیشہ، طائف، فرسان اور ینبع میں شہریوں اور شہری تنصیبات کو بھی نشانہ بنانے کی کوشش کی۔ ترجمان کے مطابق سعودی فضائی دفاع نے تمام حملے ناکام بنا دئیے ۔ ترجمان نے مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔ادھر سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں بین الاقوامی ہوائی اڈے کے قریب آرامکو کے ایک فیول ٹینک میں آگ بھڑک اٹھی۔فوری طور پر آگ لگنے کی وجہ اور کسی ممکنہ جانی نقصان کی تفصیلات سامنے نہیں آسکیں، ریاض میں ہفتے کی صبح دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں، جس کے بعد حکام نے فضائی حملے کا الرٹ جاری کیا۔ شہریوں کو گھروں کے اندر رہنے کی ہدایت کی گئی، جبکہ تقریباً 30 منٹ بعد الرٹ ختم کردیا گیا۔ ریاض ایئرپورٹ کے قریب آرامکو فیول ٹینک میں آتشزدگی کے واقعے کے بعد سعودی دارالحکومت ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ہفتے کو پروازوں کا شیڈول شدید متاثر ہوا، متعدد پروازیں منسوخ اور کئی تاخیر کا شکار ہوگئیں۔
فلائٹ ریڈار 24 کے مطابق ایئرپورٹ کو شدید خلل کے زیادہ سے زیادہ 5 انڈیکس پر رکھا گیا، جس کا مطلب طویل تاخیر اور متعدد پروازوں کی منسوخی ہے ۔ یہ صورتحال ایئرپورٹ کے قریب دھواں اور شعلے نظر آنے کے بعد پیدا ہوئی۔ سعودی حکام نے رات گئے فضائی حملے کے الرٹ جاری کیے تھے ۔ترک وزیر خارجہ حاقان فیدان نے کہا ہے کہ یمنی حوثیوں کے جاری حملوں کے باعث سعودی عرب کی کچھ عسکری ضروریات ہوسکتی ہیں، ہم پاکستان کے ساتھ مل کر مکہ معاہدے کے تحت ان عسکری ضروریات کا جائزہ لیں گے ۔ترک وزیرخارجہ کا کہنا تھا کہ یمن میں جنگ ختم کرنے کے لیے تمام فریقین تک تجاویز پہنچا دی گئی ہیں، سعودی عرب کو امریکا ایران جنگ کا حصہ بنانا ناقابل قبول ہے ، مشرق وسطیٰ کا بحران اب معاشی طور پر ناقابل برداشت ہو چکا ہے ۔ حاقان فیدان کا مزید کہنا تھا کہ ہم نے یوکرین اور روس کو بحیرہ اسود میں لڑائی ختم کرنے کی پیشکش بھیجی ہے۔
ترک وزیرخارجہ کا کہنا تھا کہ یمن میں جنگ ختم کرنے کے لیے تمام فریقین تک تجاویز پہنچا دی گئی ہیں، سعودی عرب کو امریکا ایران جنگ کا حصہ بنانا ناقابل قبول ہے ، مشرق وسطیٰ کا بحران اب معاشی طور پر ناقابل برداشت ہو چکا ہے ۔ حاقان فیدان کا مزید کہنا تھا کہ ہم نے یوکرین اور روس کو بحیرہ اسود میں لڑائی ختم کرنے کی پیشکش بھیجی ہے ۔جنوبی یمن میں سعودی حمایت یافتہ حکومتی فورسز اور ایران نواز حوثی جنگجوؤں کے درمیان شدید جھڑپوں میں گزشتہ روز 48 افراد ہلاک ہوگئے ۔ فوجی ذرائع نے بتایا کہ حکومتی فوج کے 17 اہلکار مارے گئے ، جبکہ حوثیوں کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ان کے 31 جنگجو ہلاک ہوئے ۔ ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکرٹری محسن رضائی نے کہا ہے کہ تہران نے قطر اور پاکستان کی ثالثی کے ذریعے امریکا کو مذاکرات کے لیے اپنی شرائط پہنچا دی ہیں اور اب صدر ٹرمپ کے جواب کا انتظار کر رہا ہے۔
ان کے مطابق ایران کی شرائط میں تمام محاذوں پر جنگ کا خاتمہ، منجمد ایرانی اثاثوں کی بحالی اور بحری ناکہ بندی کا خاتمہ شامل ہے ۔ قطری اور پاکستانی ثالثوں کے ساتھ مشاورت بھی جاری ہے۔محسن رضائی نے کہا کہ اگر ایران پر حملہ کیا گیا تو اس کی افواج خطے میں امریکی اڈوں اور امریکی مفادات کو زیادہ شدت سے نشانہ بنائیں گی۔جوہری پروگرام کے بارے میں کہا کہ ایران نے اب تک جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے (این پی ٹی) سے نکلنے کا فیصلہ نہیں کیا، تاہم مستقبل کا انحصار امریکا کے رویے پر ہوگا۔ ایران اب بھی جوہری ہتھیاروں کے خلاف اپنے سابق رہنما کے فتوے پر قائم ہے اور اس کے جوہری نظرئیے میں کوئی تبدیلی نہیں آئی، تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہم نہیں جانتے کہ مستقبل میں کیا ہوگا۔رضائی نے سعودی عرب اور یمن کے درمیان جنگ کے خاتمے کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ ان کے خیال میں یمن کے حوثی بھی سعودی عرب کے ساتھ معاہدہ کرنا چاہتے ہیں۔نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ٹیلی فونک گفتگو کی ہے ۔دونوں رہنماؤں نے تازہ ترین علاقائی پیش رفت پر تبادلہ خیال کیا۔
ہفتہ کو ترجمان دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق نائب وزیر اعظم نے خاص طور پر ترقی پذیر ممالک اور عالمی سپلائی چینز پر اثرات کو مدنظر رکھتے ہوئے توانائی کی بلا تعطل فراہمی اور بحری جہازوں کی محفوظ اور تیز رفتار آمدورفت کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ بات چیت اور سفارت کاری ہی علاقے میں امن و استحکام کو یقینی بنانے کا واحد قابلِ عمل ذریعہ ہے ۔دونوں رہنماؤں نے قریبی تعاون برقرار رکھنے اور 81ویں اقوامِ متحدہ جنرل اسمبلی کے موقع پر نیویارک میں ملاقات کرنے پر اتفاق کیا۔نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے ہفتہ کو ملائیشیا کے وزیر خارجہ محمد حسن سے بھی بات چیت کی جس میں دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کے لیے اعلیٰ سطح پر مسلسل رابطوں کی اہمیت پر زور دیا گیا۔
ترجمان دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق دونوں وزرا خارجہ نے پاکستان اور ملائیشیا کے دوطرفہ تعلقات پر تبادلہ خیال کیا جس میں تجارت اور اقتصادی تعاون کو وسعت دینے پر خصوصی توجہ دی گئی۔انہوں نے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کے لیے اعلیٰ سطح پر مسلسل رابطوں کی اہمیت پر زور دیا۔انہوں نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے موقع پر نیویارک میں ملاقات کرنے پر بھی اتفاق کیا۔ ایرانی وزارتِ داخلہ کے ترجمان علی زینی وند نے کہا ہے کہ مسائل کے حل اور اسلام آباد معاہدے کی جانب واپسی کیلئے کوششیں اور بین الاقوامی سفارتی ثالثی جاری ہے ۔نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی تسنیم کے مطابق پریس بریفنگ کے دوران علی زینی وند نے کہا ہے کہ ایران کا مطالبہ ہے کہ امریکا اس معاہدے کے تحت اپنی ذمے داریوں کی پاسداری کرے ۔ یہ ایسا معاہدہ ہے جس کی منظوری سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل نے دی ہے اور سپریم لیڈر نے اس کی توثیق کی ہے ، لہٰذا اسے نظام کا باضابطہ فیصلہ تصور کیا جاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ فعال سفارت کاری جاری ہے ، جس میں صدر کی بھارت اور کرغزستان میں شنگھائی تعاون تنظیم اور برکس کے اجلاسوں میں شرکت کے ساتھ ساتھ وسیع پیمانے پر مشاورت بھی شامل ہے ۔ایرانی وزارتِ داخلہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ بڑھتی ہوئی قیمتیں عوام کے لیے باعثِ تشویش ہیں اور تمام حکام اس مسئلے کے حل کے لیے کام کر رہے ہیں۔علی نے کہا ہے کہ دشمن کے حملوں کے نتیجے میں ہرمزگان اور گلستان سمیت مختلف صوبوں میں تقریباً 75 ہزار رہائشی یونٹس، بعض بنیادی ڈھانچے اور رابطہ پل متاثر ہوئے ہیں۔دوسری جانب امریکی صدر ٹرمپ نے ایک بار پھر کہا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ جلد ختم ہو جائے گی اور ساتھ ہی یہ پیشگوئی بھی کی ہے کہ جنگ کے خاتمے کے بعد پٹرول کی قیمتیں کم ہو جائیں گی۔اوول آفس میں صحتِ عامہ سے متعلق ایک تقریب کے دوران انہوں نے کہا کہ لوگ نہیں چاہتے کہ ایران جوہری ہتھیار حاصل کرے اور آپ جانتے ہیں کہ وہ کیا چاہتے ہیں۔ یہ جنگ جلد ختم ہو جائے گی اور جب یہ ختم ہوگی تو پٹرول کی قیمتیں دوبارہ پہلے کی سطح پر آ جائیں گی یا اس سے بھی کم ہو جائیں گی۔
ایرانی جوہری تنصیبات کے خلاف بی ٹو بمبار طیاروں کے استعمال کا حوالہ دیتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ ان کے خیال میں تہران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنے کے لیے فوجی کارروائی ضروری تھی۔انہوں نے کہا کہ میرے پاس کوئی اور راستہ نہیں تھا۔ میں نے اپنی ٹیم سے کہا کہ مجھے ایران کے خلاف کارروائی کرنا ہوگی کیونکہ اگر ہم نے بی ٹو بمبار طیاروں سے ان پر حملہ نہ کیا ہوتا تو وہ جوہری ہتھیار حاصل کر لیتے ۔ٹرمپ گزشتہ چند روز کے دوران جنگ اور توانائی کی قیمتوں کے حوالے سے ایسی ہی پیشگوئیاں کر چکے ہیں۔ بدھ کو بھی انہوں نے کہا تھا کہ جنگ ختم ہوتے ہی پٹرول کی قیمتیں تیزی سے کم ہو جائیں گی۔ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں پائیدار سلامتی باہر سے مسلط نہیں کی جا سکتی، خطے کے ممالک کو غیر ملکی مداخلت کے بغیر اپنی سلامتی، استحکام اور ترقی کے بارے میں خود اپنے فیصلے کرنے چاہئیں۔
انڈونیشیا کی خارجہ پالیسی ایسوسی ایشن کے زیرِ اہتمام ‘گلوبل ڈائیلاگ فورم 2026’ کے لیے اپنے ویڈیو پیغام میں عباس عراقچی نے ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں کو غیر قانونی اور جارحانہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر ایسے اقدامات پر مؤثر بین الاقوامی ردعمل نہ دیا گیا تو اس سے بین الاقوامی قانون کی بنیادیں متاثر ہو سکتی ہیں۔انہوں نے میناب میں 168 طلبا کی شہادت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ متاثرین کو صرف جنگی اعداد و شمار کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے ۔ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا کے جدید جنگی طیارے اب ایرانی حملوں سے محفوظ نہیں رہے ہیں اور ٹرمپ کو یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگا۔
ایرانی چیف مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے ایکس پر امریکی محکمہ دفاع کے انسپکٹر جنرل کی کانگریس کو پیش کردہ رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایران جنگ کے دوران امریکا کے جنگی طیارے ایف 35 اور ایف 15 کے نقصان کی اطلاعات اس بات کا ثبوت ہیں کہ جنگ کی صورتحال تبدیل ہوچکی ہے ۔ وہ دور شروع ہوچکا ہے جب امریکی جنگی طیارے شکار بنیں گے اور امریکا کو ان کے نقصان کی اطلاع بھی دنیا کو خود دینا پڑے گی۔محمد باقر قالیباف نے امریکی جنگی طیاروں کی تباہی کا حوالہ دیتے ہوئے مزید کہا کہ جو چیز پہلے ایک خوفناک خواب تصور ہوتی تھی وہ اب روزمرہ کی حقیقت بن چکی ہے ۔تاہم بعد میں پروازوں کی آمدورفت معمول پر آنا شروع ہوگئی۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments