کوہاٹ: 31 شہادتیں، حملے میں افغانستان کے خوارج ملوث : وزارت اطلاعات

کوہاٹ: 31 شہادتیں، حملے میں افغانستان کے خوارج ملوث : وزارت اطلاعات

کلیئرنس آپریشن میں اے آئی جی پر گرینیڈ حملہ،فوجی کمانڈوز نے آخری 2بمبار ہلاک کئے 1بمبار افغان شہری، اقوام متحدہ ،افغانستان کی مذمت،دہشتگرد نیٹ ورک ختم کریں:پاکستان

کوہاٹ(نیوز ایجنسیاں،مانیٹرنگ ڈیسک)کوہاٹ پولیس لائنز مسجد میں دھماکے سے شہادتیں 31 ہوگئیں، جن میں 16 پولیس اہلکار شامل ہیں۔ وفاقی وزارت اطلاعات و نشریات نے کہا ہے کہ کوہاٹ حملہ افغانستان میں جڑیں رکھنے والے بدترین خوارج نے کیا ہے ، افغانستان میں دہشت گردوں کی پناہ گاہیں اور بھرتیاں پاکستان کی سلامتی کیلئے براہ راست خطرہ ہیں تاہم پاکستان اپنے شہریوں، حدود اور خودمختاری کے تحفظ کے لیے بین الاقوامی قوانین کے تحت ہر ضروری اقدام کرے گا۔ افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کی جانب سے پاکستان کو سنگین نتائج کی دھمکی قابل مذمت ہے ، افغان طالبان ذمہ داری سے بھاگنے اور پاکستان پر الزام تراشی کے بجائے اپنی سرپرستی میں پلنے والے دہشت گردی کے نیٹ ورکس کا خاتمہ کریں۔

کوہاٹ حملے کی مذمت کافی نہیں، زبانی ہمدردی کو ٹھوس اور قابل تصدیق کارروائیوں میں بدلنا ہوگا۔ ہم مذاکرات کے نام پر اپنے عوام کی جانوں کو خطرے میں ڈالنے والوں کو ہرگز برداشت نہیں کریں گے ، پاکستان اپنے شہریوں، حدود اور خودمختاری کے تحفظ کے لیے بین الاقوامی قوانین کے تحت ہر ضروری اقدام کرے گا۔خیال رہے جمعہ کو ہونے والے حملے کے بعد کلیئرنس آپریشن گزشتہ صبح مکمل ہوا، فجر کے بعد پاک فوج کے کمانڈوز نے کارروائی کرتے ہوئے پولیس لائنز میں چھپے آخری 2خودکش بمباروں کو ہلاک کیا ،مجموعی طورپر 8دہشتگرد مارے گئے ، آپریشن کی براہ راست نگرانی جنرل آفیسر کمانڈنگ کوہاٹ نے کی، پاک فوج کے کمانڈوز،جوانوں اوربم ڈسپوزل سکواڈ نے علاقے کو کلیئر کرکے پولیس کے حوالے کردیا ۔آپریشن کے دوران شدت پسندوں کی جانب سے ایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی پر گرینیڈ حملہ بھی کیا گیا، جس میں وہ زخمی ہوئے ،پولیس کے مطابق انہیں ابتدائی طبی امداد دی گئی، جس کے بعد وہ دوبارہ آپریشن کی نگرانی کے لیے فرنٹ لائن پر پہنچ گئے۔

آئی جی خیبر پختونخوا پولیس ذوالفقار حمید بھی آپریشن کے دوران جائے وقوعہ پر موجود رہے ،انہوں نے جوانوں کا حوصلہ بڑھایا اور آپریشن میں حصہ لینے والے افسروں کیلئے انعامات کا بھی اعلان کیا۔سکیورٹی ذرائع کے مطابق دھماکے میں ملوث ایک خودکش بمبار افغان شہری نکلا جس کی شناخت مطیع اللہ کے نام سے ہوئی ،جبکہ دوسرے دہشتگرد کی شناخت کا عمل جاری ہے ۔وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے کوہاٹ پولیس لائنز دھماکے کے شہدا کے اہل خانہ سے ملاقات کی اور کہا دہشت گردوں کا بہادری سے مقابلہ کرنے والے پولیس اہلکاروں کو خراجِ تحسین پیش کرتا ہوں، شہدا نے قوم کے تحفظ کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔انہوں نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا 22 سال سے دہشتگردی کے خلاف جنگ لڑ رہا ہے ، وفاقی حکومت کی دہشتگردی سے متعلق پالیسی مکمل ناکام ہو چکی ہے ۔ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے پالیسی دے رہے ہیں لیکن کوئی توجہ دینے کو تیار نہیں۔

انہوں نے کہا پولیس کو جدید اسلحے سے لیس کرنے کے لیے 35 ارب روپے اضافی دئیے ، مالی سال 27-2026 میں پولیس کا بجٹ بڑھا کر 190 ارب روپے کر دیا۔ پولیس کو مضبوط کیے بغیر صوبے میں پائیدار امن قائم نہیں ہو سکتا، ڈسٹرکٹ ہسپتال کوہاٹ کو تمام ضروری طبی آلات فراہم کیے جائیں گے ۔انہوں نے کہا کہ دھماکے سے متاثرہ مسجد اور سپیشل برانچ پولیس سٹیشن کی عمارت کو دوبارہ تعمیر کیا جائے گا، کوہاٹ میں ایک ہزار بستروں کا ہسپتال کم سے کم مدت میں مکمل کیا جائے گا،جو شہدا حکومتی شہدا پیکیج کے دائرہ کار میں نہیں آتے ، ان کے خاندانوں کیلئے بھی مالی معاونت کا اعلان کرتا ہوں۔انہوں نے کہا افغانستان کے ساتھ تعلقات بہتر نہیں، بارڈر بند ہے ، گزشتہ مالی سال خیبرپختونخوا کو 8 ارب روپے سے زائد کا نقصان ہوا، بارڈر کی مسلسل بندش کے باعث رواں مالی سال بھی خیبرپختونخوا کو معاشی نقصان کا سامنا ہوگا۔

انہوں نے کہا پنجاب کی جعلی وزیراعلیٰ کہتی ہیں کہ انہیں بھارت سے نہیں بلکہ پاکستان کے تین چھوٹے صوبوں سے خطرہ ہے ، ان کے بیان کا مطلب یہ ہے کہ ریاستی بیانیہ غلط ہے ، پاکستان کو فتنہ الہندوستان سے خطرہ نہیں۔ افغان وزارتِ خارجہ کے ترجمان عبدالقہار بلخی نے کوہاٹ میں پولیس کمپاؤنڈ میں نمازِ جمعہ کے دوران خودکش حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا افغانستان مقدس مقامات پر حملوں کو ناقابلِ جواز اور قابلِ مذمت اقدام قرار دیتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ اس افسوسناک واقعے میں جاں بحق ہونے والوں کے اہل خانہ سے گہری ہمدردی ہے ۔اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے بھی واقعے کی مذمت کی ، ترجمان سٹیفن دوجارک نے بتایا کہ انتونیو گوتریس نے کہا شہریوں اور عبادت گاہوں کو نشانہ بنانے والے حملے ناقابل قبول ہیں اور حملے کے ذمہ داروں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جانا چاہیے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...