اسلام آباد: سکیورٹی اہلکاروں کی آمد، 24تعلیمی ادارے بند

اسلام آباد: سکیورٹی اہلکاروں کی آمد، 24تعلیمی ادارے بند

راولپنڈی میں سکول کھلے رہیں گے ، پولیس کی نفری ٹھہرانے کی درخواست واپس سندھ کے 1950اہلکار وفاقی دارالحکومت پہنچ گئے ، پنجاب سے بھی نفری طلب

اسلام آباد (ماہتاب بشیر، دنیا نیوز، آن لائن) اسلام آباد اور راولپنڈی میں احتجاج اور لانگ مارچ کے پیش نظر مختلف صوبوں سے سکیورٹی ڈیوٹی کیلئے طلب کیے گئے پولیس و سکیورٹی اہلکاروں کی رہائش کیلئے وفاقی دارالحکومت کے 24 سرکاری تعلیمی ادارے آج (منگل) سے بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جبکہ دیگر تعلیمی ادارے اور راولپنڈی میں بھی سکول کھلے رہیں گے ، پولیس کی چھٹیاں منسوخ کر دی گئیں، اہم مقامات فیض آباد، 26نمبر، روات، چکری، 17میل پر کنٹینرز رکھے جا رہے ہیں، 30 داخلی راستے بند کیے جانے کی توقع ہے جن میں راولپنڈی کے 11 راستے شامل ہیں۔ وفاقی نظامت تعلیمات (ایف ڈی ای) حکام کے مطابق اسلام آباد کے مختلف سیکٹرز میں واقع سکولز اور کالجز کو عارضی طور پر سکیورٹی اہلکاروں کی رہائش کیلئے استعمال کیا جائے گا، ان میں جی-6/1، جی-6/2، ایف-6/4، ایف-7/2، جی-7/3، جی-8/1، جی-9/2، جی-9/3، جی-10/4، جی-13/2، آئی-9/4 اور آئی-10/2 و دیگر علاقوں کے تعلیمی ادارے شامل ہیں۔ دنیا کو دستیاب دستاویز کے مطابق بری امام، ملپور، ترنول، سہالہ، پہاگ پنوال، ایچ-9 اور راول ڈیم کے علاقوں سمیت دیہی و مضافاتی علاقوں کے بعض تعلیمی ادارے بھی بند رہیں گے جبکہ دیگر سیکٹرز میں تعلیمی ادارے کھلے رہیں گے ۔ اسلام آباد ضلعی انتظامیہ نے فورسز کی رہائش کے انتظامات کے سلسلے میں 24 تعلیمی اداروں کا کنٹرول سنبھال لیا، سکولز اور کالجز کے پرنسپلز اور غیر تدریسی عملہ ڈیوٹی پر حاضر ہوگا، اساتذہ اور طلبہ نہیں آئیں گے ۔ پولیس ذرائع کے مطابق اسلام آباد میں 8 ڈپٹی انسپکٹر جنرلز کی زیر نگرانی 22 ہزار سے زائد سکیورٹی اہلکار تعینات کیے جانے کی توقع ہے ۔

خیبرپختونخوا اور پنجاب کے اہم راستے اٹک میں تقریباً 30 ہزار اہلکار جبکہ راولپنڈی پولیس نے سکیورٹی آپریشنز میں معاونت کیلئے مزید 9 ہزار اہلکار طلب کیے ہیں۔ پنجاب کانسٹیبلری اور رائٹ مینجمنٹ پولیس سمیت پنجاب کے مختلف اضلاع سے اضافی نفری طلب کی گئی ہے جن میں شیخوپورہ، ڈیرہ غازی خان، ملتان اور فیصل آباد شامل ہیں۔ سکیورٹی انتظامات کے تحت سندھ پولیس کے 1950 اہلکار اور افسران بھی اسلام آباد پہنچ گئے ہیں۔ سٹی پولیس آفیسر راولپنڈی کے حکم کے تحت شہر میں پولیس اہلکاروں کی چھٹیاں یکم اکتوبر تک منسوخ کردی گئیں۔اسلام آباد انتظامیہ نے 13 ہوٹلوں اور گیسٹ ہاؤسز کے 132 کمروں میں 362 سینئر پولیس افسران اور اہلکاروں کو ٹھہرانے کا فیصلہ کیا ہے ۔ 8 ڈی آئی جیز کو جی-6 کے میلوڈی میں اسلام آباد ہوٹل، 10 ایس ایس پیز کو بلیو ایریا کے ایک ہوٹل میں رہائش دی جائے گی۔ مزید 40 ایس پیز، 58 ڈی ایس پیز اور 246 انسپکٹرز کو دیگر ہوٹلوں اور گیسٹ ہاؤسز میں ٹھہرایا گیا ہے ۔ دیگر پولیس اور فرنٹیئر کانسٹیبلری اہلکاروں کو سرکاری عمارتوں، سکولز، کالجز، سپورٹس کمپلیکس، شادی ہالز اور پولیس سٹیشنز میں رہائش فراہم کی جا رہی ہے ۔ حکام نے جڑواں شہروں تک رسائی محدود کرنے کیلئے اہم مقامات پر کنٹینرز رکھنا شروع کر دیئے جبکہ ریڈ زون میں صرف سرکاری و نجی دفاتر کے ملازمین کو جانے کی اجازت ہے جس کیلئے دو راستے کھلے رکھے گئے ہیں۔ وزارت داخلہ سکیورٹی پلان کے مطابق 30 داخلی راستے بند کیے جانے کی توقع ہے جن میں راولپنڈی کے 11 راستے شامل ہیں۔ سکیورٹی فورسز نے اسلام آباد اور راولپنڈی کے اہم داخلی راستوں پر نفری بڑھا دی ہے ، فیض آباد، چونگی نمبر 26، روات، چکری، اڈیالہ روڈ، پیرودھائی، بھارہ کہو اور 17 میل سمیت مختلف مقامات پر کنٹینرز پہنچا دیئے گئے ہیں، فیض آباد، 26 نمبر سمیت اہم مقامات پر کنٹینرز رکھے جا رہے ۔

ادھر راولپنڈی پولیس نے نفری ٹھہرانے کیلئے سکول دینے کی درخواست واپس لے لی ہے ، 48 تعلیمی اداروں میں نفری ٹھہرانے کیلئے ضلعی انتظامیہ کو درخواست دی گئی تھی۔ ڈی سی راولپنڈی ندیم ناصر نے دنیا نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کوئی بھی تعلیمی ادارہ بند نہیں ہوگا ۔ پولیس نفری کو متبادل عمارتوں میں ٹھہرانے کا انتظام کیا جا رہا ہے ، تعلیمی اداروں کو کھلا رکھنا ترجیح ہے ، بندش آخری آپشن ہوگا، پولیس نے گوجر خان کے 5، کلر سیداں کے 3، ٹیکسلا کے 10، راولپنڈی شہر کے 21، چکری انٹرچینج سے ملحقہ 6 تعلیمی ادارے نفری ٹھہرانے کیلئے مانگے تھے ۔ ادھر ضلعی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ شہر میں انٹرا سٹی اور بین الاضلاعی ٹرانسپورٹ معمول کے مطابق بحال رہے گی، راولپنڈی اسلام آباد کے درمیان رابطہ سڑکیں کھلی رہیں گی۔ راولپنڈی میں فی الوقت کوئی شاہراہ بند نہیں کی گئی، شہری صورتحال سے متعلق صرف سرکاری ذرائع کی اطلاعات پر انحصار کریں۔ 

 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...