امریکا ، ایران میں مثبت اور نتیجہ خیز بات چیت ،وفودکی 3 گھنٹے ملاقات : ایک اور میٹنگ بہت جلد طے ہے: ٹرمپ

 امریکا ، ایران میں مثبت اور نتیجہ خیز بات چیت ،وفودکی 3 گھنٹے ملاقات : ایک اور میٹنگ بہت جلد طے ہے: ٹرمپ

معاہدہ نہ ہونے پر ایران کو فنا کرنیکی دھمکی ، تمام ممالک عالمی فوجداری عدالت سے نکل جائیں،روس یوکرین تنازع خاتمے کے قریب،شہباز شریف بہترین:جنرل اسمبلی سے خطاب کیوبا کے وفد کا واک آؤٹ،ایران کی 7روز میں ہرمز کھولنے کی پیشکش، یمن میں جھڑپیں، برطانیہ ، فرانس کا سعودیہ کیساتھ دفاعی تعاون کا اعلان،مشرقی مغربی پائپ لائن دوبارہ فعال

نیو یارک(نیوز ایجنسیاں، مانیٹرنگ ڈیسک) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر امریکا اور ایران کے وفود نے تین گھنٹے تک ملاقات کی جس میں مثبت اور نتیجہ خیز بات چیت ہوئی، ایک اور میٹنگ بہت جلد طے ہے ، ٹرمپ نے معاہدہ نہ کرنے کی صورت میں ایران کو فنا کرنے کی دھمکی بھی دے دی۔ ٹرمپ نے یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی کے ساتھ صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے اس ملاقات کا انکشاف کیا، جب ٹرمپ سے پوچھا گیا کہ آیا امریکی ایلچی سٹیو وٹکوف اور ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر نے اس ملاقات میں شرکت کی تھی تو امریکی صدر نے اس کی تردید نہیں کی۔ انہوں نے وٹکوف اور کشنر سے پوچھا کہ کیا وہ کچھ کہنا چاہتے ہیں۔وٹکوف  نے کہامیں اس وقت بہت اچھا محسوس کر رہا ہوں۔ صدر ٹرمپ کیلئے کام کرنا ایک نعمت ہے ۔ٹرمپ نے پھر کہا کہ بالآخر معاہدہ کرنا ایران کے مفاد میں ہوگا۔ایران کے پاس دو راستے ہیں، امن معاہدے کے ذریعے عظمت کی طرف ممکنہ پیش رفت یا مکمل تباہی۔قبل ازیں جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا تمام ممالک سے مطالبہ کرتا ہوں کہ ایران کی مکمل اقتصادی تنہائی یقینی بنانے میں مدد کریں،اگر ہم مل کر کھڑے ہوں تو ہم جلد ہی اس آفت سے چھٹکارا پا لیں گے جس کا ہمیں 51 سالوں سے سامنا ہے اور تیل کی قیمتیں تنازع سے پہلے سے بھی کم سطح پر آجائیں گی۔انہوں نے کہا میرا خیال ہے کہ انتخابات کے فوراً بعد ہم معاہدہ کر لیں گے ، کیونکہ ان کیلئے ایسا نہ کرنا کوئی معنی نہیں رکھتا۔

وہ یہ دیکھنے کے انتظار میں ہیں کہ وسط مدتی انتخابات میں میری کارکردگی کیسی رہتی ہے ، ایرانیوں کو احساس نہیں کہ میں تو مڈٹرم الیکشن میں لڑ ہی نہیں رہا،میں پہلے ہی حصہ لے چکا ہوں اور بھاری اکثریت سے جیتا تھا،میں اگلے ڈھائی سال یہیں ہوں۔انہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ وہ بڑا فیصلہ کرنے جا رہے ہیں، انہیں فیصلہ کرنا ہے کہ وہ ایران کو تباہ کردیں یا انہیں دوبارہ پنپنے دیں، ایران مشرق وسطٰی میں بدمعاشی کرتا تھا لیکن اب نہیں کرسکتا، ایران کسی صورت ایٹمی ہتھیار نہیں رکھ سکتا، ایران دنیا میں دہشتگردی کو پروموٹ کر رہا تھا۔تہران سے معاہدہ کرنا چاہا لیکن ایران نے انکار کردیا، ایران کی دہشتگرد رجیم بہت برے طرز عمل کا مظاہرہ کر رہی ہے ، ایران کا برا طرز عمل اس لیے نہیں کہ وہ طاقتور ہیں بلکہ اس لیے کہ وہ کمزور ہوگئے ہیں۔ایران کی معیشت تباہ ہوچکی اور اب وہاں مہنگائی 300 فیصد ہوچکی ہے ۔ ٹرمپ نے کہا انہیں یقین ہے کہ مڈٹرم الیکشن کے بعد ایران سے ڈیل ہوجائے گی۔ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ امریکی بحریہ نے آبنائے ہرمز سے ایک ارب بیرل تیل نکلوایا ہے ۔انہوں نے جنرل اسمبلی اجلاس سے خطاب میں ایک بارپھر کہا میں نے 8 جنگیں رکوائیں، پاکستان اور بھارت کی جنگ ختم کرانے کا بھی ذکر کیا اور پاکستانی وزیر اعظم کی تعریف کی۔ٹرمپ نے کہا وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا میں نے کروڑوں لوگوں کی زندگیاں بچائیں،امریکی صدر نے شہباز شریف کو عظیم لیڈر قرار دیدیا اور کہا کہ پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف بہترین شخص ہیں۔

ٹرمپ نے ایک بار پھر یوکرین کی جنگ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ دونوں فریق اب اس جنگ سے تنگ آ چکے ہیں اور تنازعے کا مذاکرات کے ذریعے خاتمہ قریب ہے ،روس اور یوکرین کے درمیان جلد معاہدہ ہوجائے گا۔کسی دشمن کو گرین لینڈ میں فوجی موجودگی کی اجازت نہیں دیں گے ۔صدر ٹرمپ نے کیوبا سے متعلق کہا کہ کیوبا ایک ناکام ریاست ہے اور منہدم ہوجائے گی۔امریکی وزیرخارجہ کیوبا کے رہنماؤں سے مذاکرات کر رہے ہیں، دیکھتے ہیں کیوبا کے ساتھ مذاکرات کا کیا نتیجہ نکلتا ہے ۔نیویارک میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خطاب کے دوران کیوبا کے وفد نے واک آؤٹ بھی کیا۔اپنے خطاب میں ٹرمپ نے تمام ممالک سے اپیل کی کہ وہ بین الاقوامی فوجداری عدالت سے نکل جائیں۔ٹرمپ نے واضح کیا کہ امریکا اپنے فوجی اہلکاروں کو کسی بھی امریکا مخالف ٹربیونل کے نام نہاد اور نمائشی ٹرائلز کا نشانہ بننے کی ہرگز اجازت نہیں دے گا۔انہوں نے رکن ممالک کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ میں عدالت کے تمام رکن ممالک سے مطالبہ کرتا ہوں کہ وہ فوری طور پر اس بدمعاش ادارے سے باضابطہ طور پر مستعفی ہو جائیں۔انہوں نے کہا آج امریکا میں دنیا کے کسی بھی ملک سے زیادہ سرمایہ کاری ہو رہی ہے ، امریکی فوج دنیا کی طاقتور ترین فوج ہے ، آج امریکی سرحدیں پہلے کے مقابلے میں زیادہ محفوظ ہیں، امریکا میں آج 125 سال کے مقابلے میں قتل کی وارداتوں کی شرح کم ترین ہے ،لوگوں نے امن کی باتیں کیں، میں نے امن کا قیام ممکن بنایا، امریکا میں غربت کی شرح ریکارڈ سطح تک نیچے آگئی ہے ۔خیال رہے ایرانی اور امریکی صدور اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کیلئے نیویارک میں موجود ہیں۔ایران کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے کہا کہ اگر امریکا تہران پر فوجی دباؤ کم کرنے اور ایرانی بندرگاہوں کی امریکی ناکہ بندی ختم کرنے کے مطالبات پورے کرتا ہے تو ایران سات دن کے اندر خلیجی جہاز رانی کیلئے آبنائے ہرمز دوبارہ کھول سکتا ہے۔

عہدیدار نے مزید کہا کہ تہران نے گزشتہ ہفتے ثالثوں کے ذریعے اپنی تازہ ترین تجویز واشنگٹن تک پہنچا دی تھی۔ایران کے مذکورہ اعلیٰ عہدیدار نے اس سے قبل رائٹرز کو بتایا تھا کہ امریکا کو اعلان کرنا چاہیے کہ وہ اس مسئلے کو سفارتی طریقے سے حل کرنا چاہتا ہے ، اسے باضابطہ طور پر واضح کرنا چاہیے اور پھر مذاکرات کیلئے ایک ٹائم لائن پر اتفاق کرنا چاہیے ۔عہدیدار نے کہااقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی امریکا کیلئے سفارت کاری کی طرف واپس آنے کا سنہری موقع ہے ۔ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر باقر قالیباف نے کہا کہ ایران کبھی ہتھیار نہیں ڈالے گا،ٹرمپ کو سمجھنا ہوگا کہ وہ ایرانی عوام اور اس کی مسلح افواج پر اپنی طاقت مسلط نہیں کر سکتا۔پاسداران انقلاب کے ترجمان جنرل حسین محبی نے کہا ہے کہ امریکی حملے کی صورت میں ایران ہر طرح کے جواب کیلئے مکمل طور پر تیار ہے ، انہوں نے امریکا کو خبردار کیا کہ ایران میں کسی بھی مقام بشمول پِک ایکس ماؤنٹین پر حملے سے گریز کیا جائے ۔ٹرمپ کو منگل کو خلیج کی چھ عرب ریاستوں بحرین، کویت، قطر، عمان، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے رہنماؤں سے ملاقات کرنا تھی۔یہ تمام ممالک آبنائے ہرمز کے ذریعے بحری آمدورفت بحال کرنے کے خواہاں ہیں۔ جنگ سے قبل دنیا کی تقریباً پانچواں حصہ تیل اور گیس کی ترسیل اسی راستے سے ہوتی تھی، تاہم یہ ممالک اپنے دیرینہ حریف ایران کو بہت زیادہ طاقت دینے سے بھی محتاط ہیں۔عمان کے سوا ان تمام ممالک میں امریکا کے بڑے فوجی اڈے بھی موجود ہیں، جنہیں جنگ کے دوران ایران کی جانب سے بارہا حملوں کا نشانہ بنایا گیا ہے ۔ان ممالک میں سب سے بڑا ملک سعودی عرب اس ماہ جنگ میں مزید گہرائی تک شامل ہو گیا ہے ، کیونکہ ایران سے وابستہ حوثی جنگجو یمن میں پیش قدمی کرتے ہوئے سعودی حمایت یافتہ حکومت کی افواج کو پیچھے دھکیل رہے ہیں اور بحیرۂ احمر کے راستے سعودی تیل کی برآمدات کے لیے خطرہ بن گئے ہیں۔

حوثیوں نے دعویٰ کیا ہے کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران یمن کے مختلف علاقوں پر سعودی فضائی حملوں میں 20 سے زیادہ شہری ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں، فوجی ترجمان نے کہا کشیدگی میں حالیہ اضافے کے بعد سے سعودی عرب نے اُن کے ٹھکانوں پر 900 سے زیادہ فضائی اور میزائل حملے کیے ہیں۔یمنی حکومت نے حوثیوں پر الزام عائد کیا ہے کہ انہوں نے گروپ پر ہونے والے حملوں کے ردعمل میں صوبہ لحج کی ایک مارکیٹ پر حملہ کر کے شہریوں کو زخمی کیا۔فریقین نے دعویٰ کیا کہ یمن میں 2روزہ جنگ کے دوران 154 افراد ہلاک ہوگئے ، حوثی فوجی ذرائع کے مطابق تعز، الجوف، مارب اور صعدہ کے صوبوں میں سعودی فضائی حملوں، جھڑپوں اور توپ خانے کی فائرنگ سے 118 افراد ہلاک ہوئے جبکہ یمنی حکومت کے ذرائع نے اپنی صفوں میں 36 اہلکاروں کی ہلاکت کی اطلاع دی ۔حوثیوں نے بتایا کہ شمال مغربی یمن میں سعودی عرب کے ایک جیل پر حملے کے نتیجے میں 9 قیدی ہلاک ہوگئے ۔برطانوی وزیر دفاع لیوک پولارڈ نے حوثیوں کے حملوں کا مقابلہ کرنے والے سعودی لڑاکا طیاروں کو ایندھن فراہم کرنے میں مدد کا اعلان کردیا جبکہ فرانس نے بھی سعودی توانائی تنصیبات کے تحفظ کیلئے دفاعی تعاون کا اعلان کیا۔جی سیون ممالک نے حوثیوں سے سعودی عرب پر حملے روکنے کا مطالبہ کیا ہے ۔ ذرائع نے رائٹرز کو بتایا کہ سعودی عرب نے اپنی ایسٹ ویسٹ آئل پائپ لائن میں آپریشن دوبارہ شروع کر دیا ہے اور بحیرۂ احمر کی بندرگاہ ینبع سے چند گھنٹوں کے اندر اگرچہ کم مقدار میں برآمدات بحال کی جا سکتی ہیں۔یہ پائپ لائن سعودی عرب کا آبنائے ہرمز میں جنگ کے باعث پیدا ہونے والی رکاوٹ سے بچنے کے لیے تیل برآمد کرنے کا مرکزی متبادل راستہ ہے۔

اسے رواں ماہ ہونے والے حملوں کے بعد بند کر دیا گیا تھا، جن کا الزام ریاض نے عراق میں موجود ایران کے اتحادیوں پر عائد کیا تھا۔مذکورہ اطلاع کے بعد منگل کو تیل کی منڈیوں میں کچھ اطمینان دیکھا گیا، ایک وقت برینٹ خام تیل کی قیمت دو ڈالر کی کمی کے بعد 98 ڈالر فی بیرل پر ریکارڈ کی گئی ۔تاہم مارکیٹ کے اختتام تک قیمت 100 ڈالر کے آس پاس رہی ۔ جب مارکو روبیو سے پوچھا گیا کہ واشنگٹن نے حوثیوں کو نشانہ بنانے سے گریز کیوں کیا تو انہوں نے کہابالآخر اگر معاملہ اس مرحلے تک پہنچتا ہے تو امریکا ہمیشہ سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہوگا اور اس کی حمایت کرے گا، کیونکہ ہمارا ان کے ساتھ ایسا کرنے کا معاہدہ ہے ۔تاہم یہ ایک انتہائی خطرناک اور پیچیدہ تنازع ہے جو پہلے سے جاری ہے ۔ حوثیوں کے ساتھ بھی ہماری ایک تاریخ ہے اور ہم یہ بھی نہیں چاہتے کہ اس پر کوئی اثر پڑے ۔علاقائی ذرائع کے مطابق خلیجی ریاستوں کے ٹرمپ کے ساتھ اجلاس میں قطر کی جانب سے پیش کردہ ایک تجویز بھی زیرِ بحث آئے گی، جس کا مقصد ایران اور عرب خلیجی ریاستوں کو ایک مشترکہ سلامتی کے نظام میں شامل کرنے کیلئے ایک فریم ورک تیار کرنا ہے ۔ ایک ذریعے نے بتایا کہ ایران اس تجویز کا جائزہ لے رہا ہے۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...