ملک کوامن کی ضرورت، مہم جوئی ناقابل قبول :احسن اقبال

 ملک کوامن کی ضرورت، مہم جوئی ناقابل قبول :احسن اقبال

مار کٹائی اور ہلڑ بازی کے ماحول میں کون سا بین الاقوامی سرمایہ کار پاکستان آئیگا؟ شکایات ہیں تو پارلیمنٹ ، عدالتیں موجود، اسلام آباد کو سومنات قرار دینا شرمناک :گفتگو

نارووال (خبر نگار)وفاقی وزیر منصوبہ بندی و ترقی احسن اقبال نے کہا ہے کہ پاکستان اور سعودی عرب کے دفاعی معاہدے کے بعد پاکستان کی فوج ایک نئی طاقت بن کر ابھری ہے ۔ ہمارے دشمن ملک کے اندر دہشت گردی اور انتشار کے ذریعے اپنے مقاصد حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ تمام سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کو سنجیدگی سے سوچنا چاہیے کہ ملک میں انتشار اور ہلڑ بازی پیدا کرکے کیا ہم دشمن کے مقاصد کو کامیاب بنائیں گے ؟، اس وقت پاکستان کو امن اور استحکام کی بہت زیادہ ضرورت ہے ۔ سڑکوں پر آگ اور فساد ملک کی ترقی کا راستہ نہیں، انتشار اور فساد کے ذریعے ملک کو بربادی کی طرف لے جانے کی اجازت نہیں دیں گے ۔نارووال میں میڈیا سے گفتگو کرتے  ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان کا مفاد اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ ملک میں استحکام اور امن ہو۔ اگر ٹی وی سکرینوں پر مار کٹائی، ڈنڈے اور ہلڑ بازی دکھائی جائے گی تو کون سا بین الاقوامی سرمایہ کار پاکستان آئے گا؟ اگر کسی کو کوئی شکایت ہے تو وہ پارلیمنٹ میں آئے ، اس پر بحث ہونی چاہیے ، جبکہ کوئی قانونی جنگ لڑنی ہے تو وہ عدالتوں میں لڑی جائے ۔

ہمارے چاروں طرف خطرات کے بادل ہیں اور دشمن دہشت گردی کے ذریعے پاکستان میں انتشار پیدا کرنا چاہتا ہے ۔ اسلام آباد کو سومنات قرار دینا انتہائی شرمناک طرز عمل ہے ۔ جو لوگ ایسا سوچتے ہیں، پاکستان کے عوام ان کی سیاست کا سومنات بنا دیں گے ۔ ہم ملک کے استحکام اور معاشی مفاد کا ہر قیمت پر دفاع کریں گے ۔ کسی کو اجازت نہیں کہ وہ اپنے مذموم مقاصد کے لیے جب چاہے دارالحکومت پر چڑھائی کر دے ۔ تحریک انصاف کے سنجیدہ اور محب وطن لوگوں سے اپیل ہے کہ وہ اپنی قیادت پر اثر انداز ہوں اور اسے ذمہ دارانہ طرز عمل اختیار کرنے پر زور دیں۔ پاکستان اس وقت کسی ایسی مہم جوئی کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ ایسے طرز عمل سے صرف پاکستان کے دشمنوں کا ایجنڈا پورا ہوگا اور ملک کا نقصان ہوگا۔ جس رہنما کے لیے احتجاج کیا جا رہا ہے ، اسے عدالت سے سزا ہوئی ہے ، اس لیے مقدمہ عدالت میں لڑا جائے ۔ 190 ملین پاؤنڈ پاکستان کو برطانیہ نے واپس د ئیے تھے ، جو سرکاری خزانے میں جمع کرانے کے بجائے ملک ریاض کو د ئیے گئے یہ رقم پاکستان کے غریب عوام کی تھی۔ اس رقم پر ڈاکا ڈالا گیا۔ امریکا یا برطانیہ میں ایسا جرم ہوتا تو سیاستدان ساری عمر منہ دکھانے کے قابل نہ رہتا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...