ڈاکٹر سمیہ حکومت کا اثاثہ ، ہراساں کیا جانا ناقابل قبول،جوڈیشل کمیشن
سوشل میڈیا مہم کی تحقیقات کیلئے این سی سی آئی اے کو سینئر افسر مقرر کرنے کی ہدایت پولیس سرجن اورڈاکٹر اسامہ کے درمیان پیغامات کے تبادلے کی فرانزک جانچ کابھی حکم
کراچی (سٹاف رپورٹر)میر رضا علی کیس کی تحقیقات کے لیے جسٹس عمر سیال کی سربراہی میں قائم جوڈیشل کمیشن نے پولیس سرجن ڈاکٹر سمیہ کے خلاف سوشل میڈیا پر منفی اور ہتک آمیز مہم کی جامع تحقیقات کے لیے ڈائریکٹر این سی سی آئی اے کراچی کو سینئر افسر مقرر کرنے کی ہدایت کردی۔ کمیشن نے پولیس سرجن اور ڈاکٹر اسامہ کے درمیان پیغامات کے تبادلے کی تحقیقات، انٹرنیٹ پر موجود ہتک آمیز مواد کی فرانزک جانچ اور مہم کے ذمہ داران کا تعین کرنے کی بھی ہدایت کی ۔ تحریری حکم نامے میں کمیشن نے قرار دیا کہ ڈاکٹر سمیہ تجربہ کار اور ممتاز پروفیشنل ہیں، انہیں ہراساں کیا جانا ناقابل قبول ہے اور وہ حکومت کا اثاثہ ہیں، تاہم ان کی خدمات کو سراہنے کے بجائے بدنام کیا جارہا ہے ۔ کمیشن ایڈیشنل آئی جی، ڈی آئی جی عامر فاروقی اور ڈی آئی جی فرخ لنجار کو بھی 28 ستمبر کو سوالنامہ ارسال کرے گا۔ کمیشن نے سندھ حکومت سے اپنی رپورٹ پیش کرنے کی مدت میں 15 اکتوبر تک توسیع کی درخواست کی ہے ، جبکہ مزید کارروائی 24 ستمبر کو ہوگی۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments