آج لاہور میں جلسہ، وزیراعظم سے ریلیف نہ ملا تو لانگ مارچ پھر شروع : حافظ نعیم
عوام ساتھ نہیں تو تبدیلی نہیں آئیگی ، سیٹوں کی چاہت سے انقلاب نہیں آئیگا، عوام کو اعتماد میں لیں سیٹیں خود آ ئینگی دستخطی مہم شروع ،دو کروڑ افراد دستخط کر ینگے :خطاب ،حکومت پی ٹی آئی کی پیشکش کا مثبت جواب دے ،لیاقت بلوچ
لاہور (سیاسی نمائندہ)امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ وزیراعظم سے ملاقات میں ریلیف نہ ملا تو لانگ مارچ شروع کر دیں گے ، مطالبات کے لیے دستخطی مہم شروع کر دی ہے اور کم از کم دو کروڑ افراد کے دستخط کروائے جائیں گے ، احتجاجی کیمپ، ریلیاں اور جلسے جاری ر کھیں گے، انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی اپنی تحریک سے دستبردار نہیں ہوئی ،جماعت اسلامی نے آج لاہور میں جلسے کابھی اعلان کیا ہے ،کارکنوں سے آن لائن خطاب کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ رائے عامہ ہموار کئے بغیر انقلاب نہیں لایا جا سکتا، عوام جماعت اسلامی سے نہیں جڑیں گے تو تبدیلی نہیں لائی جا سکتی، آئی پی پیز کے خلاف جدوجہد سے عوام کو ریلیف ملا، پٹرول کے مسئلے پر کوئی سیاسی جماعت آواز نہیں اٹھا رہی تھی، چند ماہ قبل لوگ پٹرولیم لیوی کے بارے میں کچھ نہیں جانتے تھے۔
ہم نے سمجھایا کہ لیوی کا پٹرول کی قیمت سے کوئی تعلق نہیں، یہ جگا ٹیکس ہے، اب روزانہ میڈیا پر لیوی ختم کرنے کی باتیں ہوتی ہیں، حافظ نعیم نے کہا کہ حکومتی و اپوزیشن جماعتیں عوامی مسائل پر بات نہیں کر سکتیں، یہ سیاسی جماعتیں مافیاز کے ذریعے چلتی ہیں اور ان کے جلسے بھی مافیاز کرواتے ہیں، انہوں نے کہا کہ چند سیٹیں لینے کی چاہت انقلاب برپا نہیں کر سکتی، عوام کو اعتماد میں لیں تو سیٹیں خود چل کر آئیں گی،دوسری طرف منصورہ میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے لیاقت بلوچ نے آج لاہور میں جلسہ عام کا اعلان کیا۔
انہوں نے کہا کہ لانگ مارچ چند روز کے لیے حکمت عملی کے تحت موخر کیا، وزیراعظم وطن واپسی پر بلا تاخیر پٹرولیم لیوی پر بات چیت کا آغاز کریں ،حکومت نے جماعت اسلامی اور پی ٹی آئی کارکنوں کے ٹکراؤ کا جال بچھایا تھا ، اسے ناکام کردیا ہے ،مزید کہا کہ اسلام آباد سومنات ہے نہ کسی کی جاگیر، جہاں پالیسی ساز ادارے ، سپریم کورٹ ، پارلیمنٹ موجود ہے وہاں ہر سیاسی پارٹی کو احتجاج کا حق ہے ، پی ٹی آئی کے احتجاج کی حمایت اور کارکنوں اور بالخصوص خواتین کی گرفتاریوں کی مذمت کرتے ہیں، ، علامہ راجہ ناصر عباس ، محمود خان اچکزئی اور بیرسٹر گوہر نے حکومت کو مذاکرات کی پیش کش کی ہے ، حکومت کی ذمہ داری ہے کہ مثبت جواب دے اور بات چیت کے لیے کمیٹی تشکیل دے۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments