لاہور ہائیکورٹ کا پولیس کے نوٹسز کی تعمیل کے طریقہ کار پر اظہارِ برہمی
مدعی کے بجائے بھائی کو نوٹس کیوں؟ :چیف جسٹس عالیہ نیلم کے دوران سماعت ریمارکس آئندہ احتیاط کرینگے ، ایسا نہیں ہوگا:سی سی پی او لاہور، عدالت میں تفصیلی رپورٹ طلب
لاہور (کورٹ رپورٹر)چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس عالیہ نیلم نے پولیس کی جانب سے نوٹسز کی تعمیل کے طریقہ کار پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس میں کہا ہے کہ نوٹسز کی تعمیل بذریعہ بھائی نہیں ہوسکتی ۔ سی سی پی او لاہور نے عدالت کو آئندہ احتیاط کی یقین دہانی کرادی۔چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس عالیہ نیلم نے قتل کے ملزم محمد وقار کی ضمانت بعد از گرفتاری کی درخواست پر سماعت کی۔ سماعت کے دوران پولیس کی جانب سے نوٹسز کی تعمیل درست طریقے سے نہ ہونے پر سی سی پی او لاہور عدالت پیش ہوئے۔
چیف جسٹس عالیہ نیلم نے ریمارکس میں کہا کہ پولیس کا نوٹسز کی تعمیل کروانے کا طریقہ کار قانونی نہیں ، مدعی کے بجائے بھائی کو نوٹس کیوں؟ ،نوٹسز کی تعمیل بذریعہ بھائی نہیں ہوسکتی،پولیس ایسے میں کس لیول کی تفتیش کرتی ہوگی، پولیس کے دباؤ پر عدالت میں آنے والا کیس واپس لے لیا جاتا ہے ۔ عدالت نے پولیس کے طریقہ کار پر سوال اٹھاتے ہوئے آئندہ نوٹسز کی قانونی طریقے سے تعمیل یقینی بنانے کی ہدایت کی۔ سی سی پی او لاہور نے عدالت کو یقین دہانی کرائی کہ آئندہ احتیاط کی جائے گی، ایسا نہیں ہوگا۔ عدالت نے سی سی پی او لاہور سے آئندہ سماعت پر تفصیلی رپورٹ طلب کرلیا۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments