پختونخوا میں تبدیلی اندرسے آئیگی یا باہر سے ،72گھنٹے اہم

پختونخوا میں تبدیلی اندرسے آئیگی یا باہر سے ،72گھنٹے اہم

غلطی کی گنجائش نہیں ،ایسا ہونے کی صورت میں اسکی قیمت بھی اداکرنا پڑ سکتی

(تجزیہ:سلمان غنی)

وزیراعظم شہباز شریف کی وطن واپسی پر وزیراعظم ہاؤس میں 4اکتوبر کے لانگ مارچ کی کال اور صوبہ خیبرپختونخوا کی صورتحال اور خصوصاً وہاں کے حالات اور دہشتگردی کے رحجانات پرگورنر راج اور ایمرجنسی نفاذ کے آپشنز بارے اجلاس کو اہم قرار دیا جا رہا ہے ۔ شرکا نے وزیراعظم کو پختونخوا کے سیاسی و انتظامی حقائق پر اپنی آرا سے آگاہ کیا اور قانونی ماہرین نے آرٹیکل 233 اور 234 پر اپنی آرا دیں،اجلاس میں حتمی فیصلہ تو سامنے نہیں آیا لیکن حتمی فیصلے کیلئے اس پیشرفت کو اہم قرار ضرور دیا جا رہا ہے ،اب وزیراعظم کی صدر آصف زرداری سے ملاقات متوقع ہے ۔اگر یہ کہا جائے تو بیجا نہ ہوگا کہ جس لانگ مارچ کو  وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا اسلام آباد کیلئے خطرناک بنا رہے تھے اب وہ انہی کیلئے اپنے گلے پڑا ہے اور انکا مستقبل داؤ پر لگا نظر آ رہا ہے ، خود انکی جماعت کے اندر انکی تبدیلی کی تحریک موجود ہے اور گروپنگ نمایاں ہو رہی ہے تاہم پی ٹی آئی یہ رسک لینے کو تیار نہیں کہ اسکا آخری سیاسی مورچہ پختونخوا بھی ہاتھ سے نہ نکل جائے ۔ ماہرین یہ کہتے نظر آ رہے ہیں کہ اگر پختونخوا میں تبدیلی اندر سے نہ آئی تو باہر سے آئے گی اور گورنر راج یا ایمرجنسی کی صورت میں صوبہ میں حکمرانی تبدیل ہو جائیگی لیکن اندر کی تبدیلی کا فائدہ یہ ہوگا کہ پی ٹی آئی حکومت تو قائم رہے گی ۔ حالات بتا رہے ہیں کہ اندر سے تبدیلی پر بھی پی ٹی آئی کو اب صوبہ میں بنیادی ذمہ داریاں ادا کرنا ہونگی دہشتگردی کیخلاف فورسز کیساتھ کھڑا ہونا ہوگا نہ کہ احتجاجی بخار میں مبتلا ہو کر روایتی حکمت عملی جاری رکھی جائے ۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ خیبرپختونخوا میں حالات تو اس نہج پر ہیں کہ وفاق اسکی بنیاد پر بڑا فیصلہ کر سکتا ہے مگر یہ فیصلہ اتنا آسان نہیں ہوگا۔ بعض ماہرین کے نزدیک مضبوط گورنر یا وفاق کی آشیر باد سے آنے والا ایڈمنسٹریٹر نا صرف حالات پر قابو پائے گا بلکہ دہشتگردی کی جڑیں بھی کاٹی جا سکیں گی ،جہاں تک 4اکتوبر کے لانگ مارچ کا سوال ہے تو یہ اب پی ٹی آئی کیلئے حکومت سے زیادہ چیلنج ہے اور حکومت نے اگر کوئی آئینی قدم اٹھانا ہوگا تو وہ 4اکتوبر کے لانگ مارچ کی بنا پر اٹھائے گی اور چاہے گی کہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اسلام آباد پرچڑھائی کر کے دکھائیں یہی وجہ ہے کہ پی ٹی آئی اور خصوصاً وزیراعلیٰ سہیل آفریدی لانگ مارچ کے واضح اعلان کے باوجود وہ پریشان ہیں اسلئے کہ انکی جماعت ڈانواں ڈول ہے ان میں یکسوئی کا فقدان ہے عدالتی فیصلہ کے بعد حکومتی وسائل کا استعمال ممنوع نظر آ رہا ہے خود صوبہ کے ا نتظامی افسر احتجاجی کیفیت میں فریق نہیں بن رہے اور سب سے اہم یہ کہ اس لانگ مارچ سے دہشتگردی کے خدشات ہیں اور یہی وہ حقیقی خطرات ہیں جو حکومت کو آئینی تبدیلی کا جواز فراہم کر سکیں گے لہٰذا آنے والے 72گھنٹوں میں وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی حکومت کے مستقبل کا فیصلہ نظر آ رہا ہے اور آپشنز اِن ہاؤس تبدیلی کے علاوہ گورنر راج اور ایمرجنسی کا نفاذ ہیں۔ اسلام آباد اب پختونخوا میں ایسا طرز عمل ہضم کرنے کو تیار نہیں جو دہشتگردی کے سدباب کیلئے ذمہ داری بھی پوری نہ کرے اور وفاق پر چڑھائی جسکی ترجیحات میں سرفہرست ہو لہٰذا فیصلہ اسلام آباد میں ہی نہیں ہونا خود پی ٹی آئی اور اپوزیشن کی قیادت کو بھی کرنا ہے کہ فیصلہ ایسا ہو جس سے سسٹم آگے بڑھے ،کسی غلطی کی صورت میں اسکی قیمت بھی اداکرنا پڑ سکتی ہے ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...