پی ٹی آئی کو لانگ مارچ سے روکنے کیلئے کچھ دینا پڑے گا
عمران خان کو علاج کی سہولت اور وکلا کی ملاقاتوں پر لچک کا امکان ہے
(تجزیہ:سلمان غنی)
حکومت اپوزیشن کے درمیان جاری مذاکراتی عمل میں خوش آئند بات ان کا مل بیٹھنا اور ایک دوسرے کی جانب سے قومی ایشوز پر ایک دوسرے کے مؤقف کو سننا اور سمجھنا رہا لیکن ان مذاکرات کی نتیجہ خیزی بارے ابھی کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا۔ کامیابی کے امکانات بھی موجود ہیں مگر بڑی رکاوٹیں بھی حائل ہیں۔ فی الحال حکومت کا مطالبہ لانگ مارچ کے اعلان کی واپسی جبکہ اپوزیشن خصوصاً پی ٹی آئی کے چیئرمین گوہرخان کا کہنا ہے کہ مذاکرات میں پیش رفت ہی اتوار کے لانگ مارچ کے فیصلے کا حتمی تعین کرے گی۔ البتہ مذاکرات میں اصل رکاوٹ اعتماد کی کمی کو قرار دیا جا رہا ہے اور اس میں بنیادی بات یہ ہوگی کہ اپوزیشن کے مطالبات میں کیا حکومت انہیں ماننے کی پوزیشن میں ہوگی ۔جہاں تک مذاکرات کی سنجیدگی کا سوال ہے تو فریقین واقعتاً دباؤ کے عمل سے دوچار ہیں۔ حکومت پر اپوزیشن کی جانب سے اتوار کے لانگ مارچ کی تلوار لٹک رہی ہے ، تو دوسری جانب اپوزیشن خصوصاً پی ٹی آئی خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے خوف کا شکار ہے اور اس صورت میں اس کی متبادل حکمت عملی کیا ہوگی اس پر سوچ بچار جاری ہے ۔ سپیکر قومی اسمبلی کے چیمبر میں ہونے والی پہلی ملاقات کو خوشگوار قرار دیا جا رہا ہے لیکن یہ سلسلہ کب تک چلتا ہے یہ دیکھنا ہوگا۔ اب تک کی صورتحال میں مثبت اشارے یہ ہیں کہ صدر اور وزیراعظم نے اپنے وفود کو ہدایات دے رکھی ہیں کہ مسائل کا سیاسی حل نکالنا ہے اور مذاکرات اب نتیجہ خیز ہونے چاہئیں اور اپوزیشن نے پیشگی شرائط کے باوجود جو مذاکرات پر اتفاق کیا ہے اسے ان کی نیک نیتی قرار دیا جا سکتا ہے ۔
پی ٹی آئی مذاکراتی عمل میں بانی پی ٹی آئی کی بہنوں کی فوری رہائی ، عمران خان کیلئے ہسپتال میں صحت کی سہولت اور ملاقاتوں پر پابندی کے خاتمہ پر زور دیتی نظر آ رہی ہے ۔اس ضمن میں آج ہفتہ کو دوپہر دو بجے اجلاس کے دوسرے دور کو اہم قرار دیا جا رہا ہے ۔ حکومت کے حوالے سے یہ توکہا جا رہا ہے کہ ہو سکتا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کی علاج معالجہ کیلئے ہسپتال کی سہولت اور عزیز و اقارب و وکلا کی ملاقاتوں کے عمل پر تو لچک سامنے آئے مگرکسی بھی رہائی بارے حکومت کچھ کہنے اور یقین دہانی کرانے کی پوزیشن میں نظر نہیں آ رہی۔حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکراتی عمل کے روز ہی 277ویں کور کمانڈرز کانفرنس کے اعلامیہ میں جو نکتہ سب سے واضح دکھائی دے رہا ہے وہ یہی ہے کہ 9مئی جیسے واقعات کی کوشش سے فیصلہ کن قوت کے ساتھ نمٹا جائے گا ۔حکومت پر بھی دباؤ تھا کہ وہ لانگ مارچ سے نمٹنے کیلئے سیاسی حل نکالے ، اس بنا پر تو کہا جا سکتا ہے کہ حکومت کو اپوزیشن اور پی ٹی آئی کو لانگ مارچ سے باز رکھنے کیلئے کچھ نہ کچھ دینا پڑے گا تاکہ اس سیاسی محاذ پر فیس سیونگ بھی ملے اور پی ٹی آئی خود اپنے کارکنوں کو بھی مطمئن کر سکے ۔ حکومت کو جو کچھ دینا ہے اس میں انہیں اپنے طور پر فیصلہ نہیں کرنا، اس میں انہیں فیصلہ ساز قوتوں کو بھی اعتماد میں لینا پڑے گا ۔جبکہ اس معاملے میں وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کی رائے بھی اہم ہوگی کیونکہ مذکورہ صورتحال میں لانگ مارچ کو ان کی سیاسی بقا کیلئے لازم قرار دیا جا رہا ہے اور اگر وہ پسپائی اختیار کرنے کیلئے تیار نہیں ہوں گے تو پھر حکومت کے پاس بھی آئینی آپشنز پر پیش رفت کے سوا چارہ نہیں ہوگا۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments