قرعہ اندازی میں کامیابی سے نااہل کو الاٹمنٹ کا حق نہیں ملتا :وفاقی آئینی عدالت

قرعہ اندازی میں کامیابی سے نااہل کو الاٹمنٹ کا حق نہیں ملتا :وفاقی آئینی عدالت

یہ اہلیت پر پورا اترنے والے افراد کے انتخاب کا طریقہ، حکام کو غلط الاٹمنٹ منسوخ کرنے کا مکمل قانونی حق حاصل ہے درخواستگزاروں کو ذاتی سماعت کا موقع دینے کے بعد فیصلے پر عمل، پشاور ہائیکورٹ کا فیصلہ برقرار، توہینِ عدالت اپیل خارج

اسلام آباد (حسیب ریاض ملک)وفاقی آئینی عدالت نے قرار دیا ہے کہ قرعہ اندازی میں نام آنے سے نااہل شخص کو الاٹمنٹ کا قانونی حق حاصل نہیں ہوتا، کسی ہاؤسنگ سکیم میں مقررہ اہلیت کے معیار پر پورا نہ اترنے والے شخص کا کمپیوٹرائزڈ قرعہ اندازی میں کامیاب قرار پانا اسے فلیٹ یا مکان کی الاٹمنٹ کا قانونی، مستقل یا قابلِ نفاذ حق نہیں دیتا، قرعہ اندازی صرف ان افراد میں انتخاب کا طریقہ ہے جو پہلے ہی اہلیت کے معیار پر پورا اترتے ہوں۔چیف جسٹس امین الدین خان اور جسٹس علی باقر نجفی پر مشتمل دو رکنی بینچ نے پشاور کے حیات آباد فیز فائیو میں فلیٹس کی الاٹمنٹ سے متعلق درخواستیں اور فوجداری اپیل اخراجات سمیت مسترد کر دی۔ عدالت نے تفصیلی تحریری فیصلے میں قرار دیا کہ درخواست گزار قرعہ اندازی کے وقت وفاقی حاضر سروس ملازمین تھے اور سکیم میں ان کیلئے مقررہ اہلیت موجود نہیں تھی اس لیے قرعہ اندازی میں ان کے نام آنا قانونی طور پر کوئی حیثیت نہیں رکھتا۔ سرکاری ادارے اپنی غلطی کی بنیاد پر قانون اور سکیم کی شرائط سے انحراف جاری رکھنے کے پابند نہیں بلکہ غلط الاٹمنٹ کا علم ہونے پر درست کرنا ان کی قانونی ذمہ داری ہے ۔ حکام نے معاملے پر دوبارہ غور کیا، درخواست گزاروں کو مؤثر سماعت کا موقع دیا گیا، خصوصی کمیٹی نے جائزہ لے کر الاٹمنٹ منسوخ کی۔ عدالت نے توہینِ عدالت کی فوجداری اپیل مسترد کرتے ہوئے قرار دیا کہ ہائیکورٹ کے سابقہ فیصلے نے درخواست گزاروں کو سکیم کے تحت اہل قرار نہیں دیا تھا۔ درخواست گزار مقررہ اہلیت کی شرائط پوری نہیں کرتے تھے اس لیے فلیٹس کی الاٹمنٹ کو مستقل یا قابلِ نفاذ حق کے طور پر دعویٰ نہیں کر سکتے ۔ 

 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...