خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنرراج نافذ ، فوج تعینات: وزیراعلیٰ ، صوبائی کابینہ کے اختیارات گورنر کو منتقل ، 11 رکنی مشاورتی کونسل ، پشاور میں موبائل فون سروس بند، ریڈزون سیل
کفایت اللہ داخلہ، طارق پاشا خزانہ، ثمر ہارون بلور اطلاعات،عامر جاوید قانون،عامر عبداللہ تعلیم،لیفٹیننٹ جنرل(ر)نگار جوہر صحت، سرفراز شاہ معدنیات،ڈاکٹر ارشاد کامرس، طیب قریشی مذہبی امور، سیف اللہ توانائی کے امور دیکھیں گے 12 اضلاع کیلئے الگ سے سیکرٹریٹ قائم ،مشاورتی کونسل کا پہلا اجلاس،کوئی دنگے فساد میں نہ آئے ، آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا:گورنر فیصل کریم کنڈی، ایپکس کمیٹی کا اجلاس آج طلب،اسلام آباد اور اڈیالہ جیل کے اردگرد بھی سکیورٹی ریڈ الرٹ
اسلام آباد،پشاور(نامہ نگار،دنیا نیوز ،نیوز ایجنسیاں، مانیٹرنگ ڈیسک)وفاقی حکومت نے صدر مملکت کے فرمان کے ذریعے خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ کرتے ہوئے وزیراعلیٰ اور کابینہ کو غیرفعال کردیا جبکہ صوبے میں فوج تعینات کردی گئی،پشاور میں موبائل فون سروس بند، ریڈ زون سیل کردیا گیا۔ گزٹ نوٹیفکیشن کے مطابق صدر آصف علی زرداری نے آئین کے آرٹیکل 232(1) اور 234(1) کے تحت خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی نافذ کردی ہے جوکہ فوری طورپر نافذ العمل ہے ،اس کے تحت خیبر پختونخوا اسمبلی کے اختیارات پارلیمان یا اس کے اختیار کردہ ادارے کے ذریعے استعمال کیے جائیں گے جبکہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا، صوبائی وزرا، مشیران، معاونینِ خصوصی اور ایڈووکیٹ جنرل فوری طور پر اپنے عہدے چھوڑ دیں گے ۔نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ خیبر پختونخوا میں شدت پسندوں کے حملوں سے عوام کی جان و مال کو سنگین خطرات لاحق ہیں جبکہ حالیہ عرصے میں سرکاری تنصیبات، بنیادی ڈھانچے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں پر دہشت گرد حملوں میں اضافہ ہوا ہے جبکہ صوبائی حکومت دہشت گردی اور لاقانونیت کے خطرات سے مو ثر طور پر نمٹنے میں ناکام رہی ہے ۔ گورنر خیبر پختونخوا کی رپورٹ میں بھی صوبے میں آئینی نظام کی ناکامی کی نشاندہی کی گئی اور صوبے کی موجودہ صورتحال صوبائی حکومت کے کنٹرول سے باہر ہو چکی ہے جو ناصرف خیبرپختونخوا بلکہ پاکستان کی مجموعی سلامتی کے لیے بھی خطرہ ہے۔
قبل ازیں وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا ہنگامی اجلاس ہوا، جس میں کابینہ کی جانب سے تجویز دی گئی کہ وزیراعظم صدر مملکت کو مشورہ دیں کہ حالات کی سنگینی کے پیش نظر صدر مملکت آئینی اختیار استعمال کرتے ہوئے خیبر پختونخوا میں آئین پاکستان کے آرٹیکل 232 اور 234 کے تحت ایمرجنسی کا نفاذ کریں ، وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد اس ضمن میں ایک ایڈوائس صدر آصف علی زرداری کو بھجوائی گئی جسے انہوں نے منظورکیا۔وفاقی وزرا نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کی اور خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ صوبے میں سکیورٹی کی صورتحال ‘بہت خراب’ ہے اور وفاقی حکومت نے اپنے آئینی اختیارات استعمال کرتے ہوئے ‘صوبائی حکومت کو غیر فعال کر دیا ہے ۔وفاق نے گورنر کو صوبائی حکومت کے امور چلانے کا اختیار دے دیا ہے اور اس مقصد کے لیے ایک 11 رکنی مشاورتی کونسل بھی تجویز کی گئی ہے ۔وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا وزیر اعظم کے مشورے پر صدر پاکستان نے آئین کے آرٹیکل 232 اور 234 میں دیے گئے اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کا نفاذ کیاہے ۔ انہوں نے کہا کہ صدارتی فرمان کے ذریعے خیبرپختونخوا کی صوبائی حکومت کو غیر فعال کر دیا گیا ہے اور گورنر خیبر پختونخوا کو وفاقی حکومت نے ذمہ داری دی ہے کہ وہ صوبائی حکومت کے اختیارات، جو آئین ایسی صورتحال میں انہیں تفویض کرتا ہے ، وہ استعمال کریں۔
انہوں نے کہا حالیہ اقدامات کے تحت وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا، صوبائی وزرا، مشیران، معاونین، ایڈووکیٹ جنرل اور دیگر کئی آئینی عہدیداران کو فوری طور پر غیر فعال کر دیا گیا ہے ۔اسی طرح آرٹیکل 245 کے تحت وفاقی حکومت نے افواج پاکستان کو صوبائی حکومت (جو اب گورنر کی سربراہی میں صوبے کے معاملات سنبھالے ہوئے ہے ) کی معاونت کیلئے تعینات کرنے کا حکمنامہ بھی جاری کیا گیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ میں یہاں وضاحت کر دوں کہ فوج وہاں پہلے بھی تعینات تھی، مگر اب اس کو مزید تعاون پر مبنی کوششیں کرنے کیلئے تازہ حکمنامہ جاری کیا گیا ہے ۔انہو ں نے کہا ایک ضمنی آرڈر کے ذریعے وفاقی حکومت کی جانب سے گورنر خیبر پختونخوا کو ایک 11 رُکنی مشاورتی کونسل تجویز کی گئی ہے جو صوبے کے معاملات دیکھے گی، اس 11 رُکنی کونسل میں وہ بہترین لوگ شامل ہیں جو موجودہ صورتحال میں معاملات کو بہتری کی جانب لے جا سکیں۔ وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے کہا خیبر پختونخوا کے داخلہ اُمور کے معاملات کفایت اللہ خان (سابق کمشنر اور آئی جی جیل خانہ جات) دیکھیں گے جبکہ فنانس یعنی معیشت کے معاملات طارق محمود پاشا (سابق چیئرمین ایف بی آر)، قانون کے عامر جاوید (سابق ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا) اور تعلیم سے متعلقہ معاملات ڈاکٹر سید عامر عبداللہ (سابق عبوری صوبائی وزیر) دیکھیں گے ۔اُن کے مطابق اسی طرح صحت سے متعلق معاملات لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) نگار جوہر خان (سابق سرجن جنرل پاکستان آرمی)، مائنز اینڈ منرلز ڈاکٹر سرفراز علی شاہ، انڈسٹریز اینڈ کامرس ڈاکٹر محمد ارشاد (سابق چیئرمین ایف بی آر)، کمیونیکیشن اینڈ ورکس آصف رفیق آفریدی (سابق عبوری صوبائی وزیر)، مذہبی اُمور طیب قریشی (جامعہ اشرفیہ)، توانائی عثمان سیف اللہ خان (سابق سینیٹر)، اطلاعات و نشریات سمر ہارون بلور (سابق ایم پی اے ) دیکھیں گے۔
اعظم نذیر تارڑ نے بتایا کہ ایک اور ضمنی آرڈر کے تحت خیبر پختونخوا کے 12 اضلاع، جو تقریباً حالت جنگ میں ہیں، اُن کے لیے گورنر اور چیف سیکرٹری کے تحت ایک سیکرٹریٹ قائم کیا گیا ہے ۔یہ سیکرٹریٹ ان 12 اضلاع کے معاملات کو براہ راست دیکھے گا اور وفاقی حکومت کو آگاہ رکھے گا۔ ان اضلاع کے لیے ایک کونسل تجویز کی گئی ہے جو ان اضلاع کی ترقی، تعمیر نو اور بحالی کے حوالے سے سارے معاملات سنبھالے گی۔ ایک ایڈیشنل سیکرٹری لیول کے افسر اس کونسل کے سربراہ ہوں گے اور ان 12 اضلاع کے معاملات دیکھیں گے ۔وفاقی حکومت کے حکم نامے کے مطابق ڈی آئی خان، ٹانک، لکی مروت، بنوں، باجوڑ، مہمند، خیبر،کرم، اورکزئی، شمالی وزیرستان، جنوبی وزیرستان اپر اورجنوبی وزیرستان لوئر نامزد اضلاع میں شامل ہیں۔ خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے بعد صوبے کے گورنر فیصل کریم کنڈی نے خبردار کیا ہے کہ قانون ہاتھ میں لینے والوں سے آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا۔اتوار کو جاری ایک ویڈیو میں خیبر پختونخوا کے گورنر کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا کے عوام پرامن ہیں، کبھی دہشتگردی کی حمایت نہیں کرتے ۔میں عوام کو کہوں گا کہ کوئی بھی قانون کو ہاتھ میں نہ لے ، کوئی بھی دنگے فساد میں نہ آئے ۔ اگر کسی نے قانون ہاتھ میں لیا، تو قانون ان کے ساتھ آہنی ہاتھوں سے نمٹے گا۔گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی کی سربراہی میں 11 رکنی ایڈوائزری کونسل کا پہلا اجلاس بھی ہوا، جس میں صوبے کو درپیش چیلنجز، امن و امان کی صورتحال، عوام کے تحفظ، کرپشن کے خاتمے اور سیاحت کے فروغ پر توجہ دینے کے عزم کا اظہار کیا گیا۔گورنر نے کہا امن و امان کا قیام اور عوام کا تحفظ اولین ترجیح ہے ، خیبرپختونخوا کے عوام کو دہشت گردی سے نجات دلانے کے لیے اقدامات کیے جائیں گے ، جبکہ پولیس اور کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) کی استعداد کار میں بھی اضافہ کیا جائے گا۔انہوں نے کہا آج پیر کو ایپکس کمیٹی کی میٹنگ ہوگی، جس میں دہشتگردی کے خاتمے سے متعلق امور پر مشاورت کی جائے گی۔
وفاقی وزارت داخلہ نے خیبر پختونخوا میں فوج کی تعیناتی کا نوٹیفکیشن بھی جاری کردیا ، نوٹیفکیشن کے مطابق آئین کے آرٹیکل 245 کے تحت فوج کی تعیناتی کی منظوری دی گئی ہے ، فوج کی تعیناتی انتظامیہ کی معاونت کے لیے ہوگی، فوج شہریوں کی جان کے تحفظ کے لیے تعینات کی جا رہی ہے ، شہریوں کے جان ومال، سرکاری تنصیبات کی سکیورٹی فوج کے ذمہ ہوگی۔نوٹیفکیشن کے مطابق فوج کی تعیناتی ایمرجنسی کی مدت تک ہوگی۔ گورنرخیبرپختونخوا جی ایچ کیو سے مشاورت سے نفری کا تعین کریں گے ۔ ملٹری آپریشنزڈائریکٹوریٹ کے ساتھ مل کردستوں کی تعداد طے کی جائے گی۔ پاک فوج کی تعیناتی سے متعلق حکم نامہ آئندہ گزٹ آف پاکستان پارٹ ٹو میں شائع کیا جائے گا۔خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور سمیت متعدد شہروں میں موبائل فون سگنلز اور انٹرنیٹ کی بندش کی اطلاعات سامنے آ رہی ہیں اور اس صورتحال کے باعث رابطوں میں مشکلات کا سامنا ہے ۔وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں بھی سکیورٹی ریڈ الرٹ جاری کردیا گیا ، حساس علاقے ریڈ زون میں سکیورٹی کے سخت انتظامات کے تحت چھ ہزار اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔ ریڈ زون میں غیر متعلقہ افراد کا داخلہ بند کردیا گیا ہے جبکہ حساس عمارتوں پر رینجرز بھی تعینات کردی گئی ہے ۔پولیس حکام کے مطابق شہر میں دفعہ 144 نافذ ہے جبکہ کسی بھی قسم کے احتجاج پر پابندی عائد ہے ۔ کسی بھی مقام پر بینرز یا ہجوم نظر آنے پر فوری کارروائی کی ہدایت کی گئی ہے ، جبکہ شہر کے داخلی راستوں پر بھی بھاری نفری تعینات کردی گئی ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ شہر بھر میں اسلام آباد پولیس، سندھ پولیس، ایف سی سمیت چھ ہزار اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔ تمام ایس پیز، ڈی ایس پیز اور ایس ایچ اوز کو فیلڈ میں رہنے کی ہدایت کی گئی ہے ۔اڈیالہ جیل اور گردونواح میں بھی سکیورٹی ریڈ الرٹ کردی گئی ہے ۔ ذرائع کے مطابق اڈیالہ جیل کے 6 کلومیٹر کے علاقے میں اضافی پولیس تعینات کردی گئی ہے ، جبکہ جیل کے گیٹ نمبر 5 کے قریب کنٹینرز کی بڑی تعداد پہنچا دی گئی ہے ۔ اڈیالہ جیل کے سامنے واٹر کینن بھی پہنچا دی گئی ہے جبکہ جیل کے اطراف اینٹی رائٹ فورس تعینات کردی گئی ہے ۔اڈیالہ روڈ پر 8 مقامات پر نئے ناکے قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔ اڈیالہ جیل کے قریب سے گزرنے والی گاڑیوں کی سخت چیکنگ کی جائے گی، جبکہ پولیس ذرائع کے مطابق اڈیالہ روڈ سے گزرنے والے افراد کے شناختی کارڈ بھی چیک کیے جائیں گے ۔ شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ پریشانی سے بچنے کے لیے اپنے شناختی کارڈ ساتھ رکھیں۔ راولپنڈی انتظامیہ نے پہلے ہی 8 نومبر تک دفعہ 144 نافذ کر رکھی ہے۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments