"RS" (space) message & send to 7575

دو لانگ مارچ: تاریخ کے آئینے میں

پاکستان تحریک انصاف کا ایک ہفتہ قبل شروع ہونے والا لانگ مارچ تادم تحریر چارسدہ پہنچا ہے۔ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے کارکنوں کو صوابی پہنچنے کی ہدایت کی ہے جہاں سے وہ آئندہ لائحہ عمل کا اعلان کریں گے۔ سیاسی حکمت عملی کے اعتبار سے یہ تدبیر بہتر معلوم ہوتی ہے کیونکہ صوابی کا انتخاب کرنے سے کارکنان کا جوش و خروش قائم رہے گا اور انہیں ساتھ جوڑے رکھنا آسان ہو گا۔ اس تدبیر کے پیچھے وزیراعلیٰ کے پیشِ نظر یہ بھی ہو سکتا ہے کہ چونکہ خیبرپختونخوا ان کا سیاسی گڑھ ہے اور وہاں اپنی حکومت ہونے کی وجہ سے کوئی رکاوٹ نہیں‘ اس لیے اپنے صوبے کی حدود میں رہتے ہوئے لوگوں کو بڑی تعداد میں متحرک کرنا نسبتاً آسان ہے۔ اس کے ذریعے وفاقی حکومت کو یہ پیغام دینے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ وہ اسلام آباد کی طرف روانگی سے پہلے مذاکرات کی میز پر آئے اور مطالبات پر بات چیت کرے۔ ظاہر ہے وفاقی حکومت بھی اس سٹرٹیجی سے اچھی طرح واقف ہے اور یہ دیکھنے کی منتظر ہے کہ لانگ مارچ کی اسلام آباد کی طرف روانگی کے وقت اس میں کتنے لوگ شامل ہوتے ہیں۔ تادم تحریر ہمیں تحریک انصاف کی جانب سے وفاقی دارالحکومت کی طرف باقاعدہ پیش قدمی کے حوالے سے کوئی حتمی اطلاعات موصول نہیں ہو ئیں‘ تاہم اس احتجاج اور لانگ مارچ کا سب سے بڑا مطالبہ دیکھ کر حیرانی ہوئی۔ حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان ہونے والے ابتدائی رابطوں اور پی ٹی آئی قیادت کے بیانات میں جو مطالبہ سرفہرست نظر آتا ہے‘ وہ عمران خان سے ملاقات ہے۔کسی بھی سیاسی جماعت کیلئے پُرامن احتجاج اور لانگ مارچ کا انعقاد اس کا آئینی و جمہوری حق ہے لیکن قومیں ہمیشہ انہی تحریکوں کو یاد رکھتی ہیں جن کی بنیاد کسی عظیم مقصد اور اجتماعی مقصد پر قائم ہو۔
پی ٹی آئی کا یہ لانگ مارچ اکتوبر کے مہینے میں ہو رہا ہے اور آج سے تقریباً نو دہائیاں پہلے بھی اکتوبر میں ہی تاریخ کا ایک عظیم لانگ مارچ شروع ہوا تھا۔ جب ہم ان دونوں لانگ مارچوں کا موازنہ کرتے ہیں تو دونوں کی ترجیحات اور مقاصد میں نمایاں فرق نظر آتا ہے۔ 1934ء سے 1935ء کے دوران چین میں ہونے والا لانگ مارچ چینی تاریخ میں انتہائی اہم سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے‘ جس نے کمیونسٹ پارٹی کا مستقبل اور سمت بدل کر رکھ دی۔ 1930ء کی دہائی کے اوائل میں چیانگ کائی شیک کی قوم پرست حکومت (گوومنتانگ) نے کمیونسٹ فورسز کو ختم کرنے کیلئے پانچ بڑی فوجی مہمات چلائیں۔ اکتوبر 1934ء میں جب کمیونسٹوں کا جنوبی بیس (جیانگ شی) شدید خطرے میں پڑ گیا تو ماؤزے تنگ اور پارٹی قیادت نے مکمل تباہی سے بچنے کیلئے محفوظ انخلا کا راستہ اختیار کرنے کا فیصلہ کیا۔ تقریباً ایک لاکھ سپاہیوں پر مشتمل ریڈ آرمی نے جنوب مشرقی چین سے شمال مغربی چین کے دور دراز علاقے ینآن (Yan'an) کی طرف سفر شروع کیا۔ یہ سفر ایک سال پر محیط تھا جس کے دوران فورسز نے انتہائی کٹھن حالات میں دلدلوں‘ برف پوش پہاڑوں اور تیز رفتار ندی نالوں کو عبور کرتے ہوئے نو سے دس ہزار کلومیٹر کا دشوار گزار فاصلہ طے کیا۔چینی عوام اور کمیونسٹ پارٹی لانگ مارچ کو عزم‘ قربانی اور جدوجہد کی عظیم ترین علامت مانتی ہے۔ مسلسل جنگ‘ محاصروں اور سخت موسم کے باعث صرف 10 فیصد (تقریباً سات سے آٹھ ہزار) سپاہی منزل مقصود تک پہنچ سکے‘ مگر اسی کٹھن راستے نے ماؤزے تنگ کو ایک مضبوط اور مدبر قائد کے طور پر قوم کے سامنے پیش کیا۔ 22اکتوبر 1935ء کو جب ریڈ آرمی کی مختلف ٹکڑیاں شانشی کے مقام پر یکجا ہوئیں تو کمیونسٹ تحریک کو ایک نئی بنیاد ملی جس نے آگے چل کر 1949ء میں انقلابِ چین اور عوامی جمہوریہ چین کے قیام کی راہ ہموار کی۔ چینی قوم کیلئے 1935ء کا لانگ مارچ صرف ایک تاریخی واقعہ نہیں بلکہ ان کی جدید ریاست کے وجود‘ عزم اور خودداری کا ایک استعارہ ہے۔ چینی بیانیے میں اس مارچ کو فکری و نظریاتی بنیاد کا درجہ حاصل ہے جس نے بکھری ہوئی قوم کو اتحاد اور ایثار کا وہ درس دیا جس پر عمل کر کے ایک پسماندہ ملک دنیا کی عظیم طاقت بن گیا۔ چینی عوام کے نزدیک لانگ مارچ سپرٹ اس بات کا ثبوت ہے کہ اگر نظریاتی لگن اور مضبوط قیادت موجود ہو تو سخت ترین حالات اور بحرانوں پر بھی فتح حاصل کی جا سکتی ہے۔ 22 اکتوبر 2026ء کو اس واقعے کے 90سال مکمل ہونے پر چین میں قومی سطح پر جن تقریبات کا آغاز کیا جا رہا ہے‘ ان کی اہمیت انتہائی معنویت کی حامل ہے۔ یہ تقریبات نہ صرف ماضی کے شہدا اور ماؤزے تنگ کی قیادت کو خراجِ تحسین پیش کرنے کا ذریعہ ہیں بلکہ موجودہ عالمی تناظر میں بیجنگ کی طرف سے اپنے عوام اور دنیا کو ایک واضح پیغام بھی ہیں۔ ان تقریبات کے ذریعے چینی قیادت نئی نسل میں وہی نظم و ضبط‘ جذبہ اور یکجہتی بیدار کرنا چاہتی ہے جو 1935ء میں ریڈ آرمی کی پہچان تھا‘ تاکہ جدید دور کی عالمی مسابقت اور چیلنجز کا مقابلہ بھی اسی جذبے کے ساتھ کیا جا سکے۔ یوں 90سالہ تقریبات صرف ایک یادگار کا دن ہی نہیں بلکہ چین کی جدید ریاست کی روح کو تازہ کرنے کی ایک روشن علامت ہیں۔
دنیا کی تاریخ احتجاج اور لانگ مارچ کے واقعات سے بھری پڑی ہے لیکن تاریخ صرف انہی لانگ مارچوں کو یاد رکھتی ہے جو کسی ذاتی مقصد کے بجائے خالصتاً قومی اور اجتماعی مقصد کیلئے کیے گئے ہوں۔ تحریک انصاف اس سے پہلے بھی تقریباً انہی مطالبات کے ساتھ کئی ناکام احتجاج کر کے واپس جا چکی ہے۔ اس بار بھی مطالبات پرانے ہیں اور بنیادی مقصد ایک ملاقات تک محدود دکھائی دیتا ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ ان مطالبات میں سے کتنے پورے ہوتے ہیں یا اس بار بھی پی ٹی آئی ایک اور ناکام اور بے نتیجہ احتجاج کا لیبل لگوا کر واپس لوٹے گی؟
ماؤ زے تنگ نے جس تاریخی لانگ مارچ کو تاریخ میں امر کیا وہ مجموعی طور پر دو سال تک جاری رہنے والی جان گسل جدوجہد کا نام تھا‘ جس کے دوران چینی کمیونسٹوں کی سرخ فوج نے تقریباً 10ہزار کلومیٹر کا دشوار گزار سفر طے کیا اور بے شمار قربانیاں دیں۔ اس کے برعکس پی ٹی آئی کا لانگ مارچ دائروں میں سفر کرنے سے آگے نہیں بڑھ رہا۔ نہ منزل کا تعین‘ نہ سمت کا اندازہ اور نہ ہی کوئی واضح سیاسی ہدف۔ محض احتجاج کو لانگ مارچ کا نام دینے سے کوئی تحریک تاریخی لانگ مارچ نہیں بن جاتی۔ اگر ہم چین کا اپنے حالات سے موازنہ کریں تو فرق بالکل واضح ہو جاتا ہے۔ چین نے اپنے لانگ مارچ کے بعد ذاتی و سیاسی مفادات کو پیچھے چھوڑ کر صرف قومی تعمیر‘ نظم و ضبط اور معاشی خودمختاری کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنایا‘ جس کا نتیجہ یہ ہے کہ آج وہ دنیا کی دوسری بڑی معاشی و صنعتی طاقت بن چکا ہے۔ اس کے برعکس ہم دہائیوں سے سیاسی بے ثباتی‘ ذاتی عناد اور بے مقصد احتجاجی سیاست کے دائرے میں گھوم رہے ہیں‘ جس کی وجہ سے ہم معاشی ابتری‘ قرضوں کے بوجھ اور شدید داخلی بحرانوں کا شکار ہیں۔ چین نے 90برس میں غربت کے خاتمے سے لے کر تسخیرِ خلا تک کے عظیم معرکے سر کیے جبکہ ہم آج بھی بنیادی سہولیات اور ذاتی نوعیت کے سیاسی مطالبات کے گرد الجھے ہوئے ہیں۔ کاش ہماری سیاسی قیادتیں اور عوام چین کے اس تاریخی سفر سے سبق حاصل کریں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...