پی ٹی آئی کو معاملہ ٹالنے کا آخری موقع بھی دیا، جواب نہ ملا: محسن نقوی
سہیل آفریدی حفاظتی تحویل میں،گرفتار نہیں کیا،خیبرپختونخوا اسمبلی کی حیثیت معطل :عطاتارڑ 4مرتبہ ڈرافٹ تیار کیا، بتادیاہمیں مسئلہ دہشتگردی سے ہے :وزیر داخلہ ،2آرٹیکلز کا استعمال ہوا:اعظم نذیر
اسلام آباد(دنیا نیوز، مانیٹرنگ ڈیسک) وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا رات پونے 12 بجے تک پی ٹی آئی سے رابطہ رہا، معاملہ ٹالنے کا آخری موقع بھی دیا، جواب نہ ملا۔خیبرپختونخوا میں گورنر راج کے نفاذ کے بعد دیگر وفاقی وزرا کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا حکومت نے مذاکرات کے دوران پی ٹی آئی کے ساتھ چار مرتبہ ڈرافٹ تیار کیے اور آخری ڈرافٹ پر بھی تجاویز طلب کی گئیں۔ان کے مطابق ڈرافٹ کے پیراگراف چار پر پی ٹی آئی کو اعتراضات تھے ، جس پر حکومتی ٹیم نے ان سے متبادل سفارشات مانگی تھیں۔محسن نقوی نے کہا کل ہفتہ کی رات پونے 12 بجے تک میرا پی ٹی آئی کی قیادت سے رابطہ رہا۔ میں نے ان سے کہا کہ جو تبدیلیاں چاہتے ہیں وہ بتا دیں، ہم اس پر بات کر لیتے ہیں۔میں نے آخری کال پونے 12 بجے کی اور کہا کہ ابھی بھی موقع ہے کہ ہم اس صورتحال سے بچ سکتے ہیں، تاکہ صبح ہونے والے اقدام (ایمرجنسی اور گورنر راج)سے گریز کیا جا سکے ۔وزیر داخلہ کے مطابق حکومت مسلسل خیبر پختونخوا حکومت کو یہ بتاتی رہی کہ ہمیں دھرنے سے مسئلہ نہیں، ہمیں دہشت گردی سے مسئلہ ہے ۔تاہم انہوں نے کہا کہ مذاکرات کے دوران پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کا مؤقف یہ تھا کہ اگر مذاکرات آگے بڑھانے ہیں تو دھرنا مؤخر کیا جائے۔
محسن نقوی نے مزید کہا کہ خیبر پختونخوا کے بعض اضلاع میں صورتحال اس قدر خراب ہے کہ ‘شام کے وقت لوگ گھروں سے بھی نہیں نکل سکتے ۔’ان کے مطابق انہوں نے خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی سے متعدد ملاقاتیں کیں اور اس بات پر اتفاق ہوا تھا کہ 12 اضلاع میں ایمرجنسی نافذ ہونی چاہیے کیونکہ وہاں دہشت گردی حد سے زیادہ بڑھ چکی ہے ۔محسن نقوی نے کہا صوبے میں گزشتہ ڈیڑھ سال کے دوران دہشت گردی کے واقعات میں 195 فیصد اضافہ ہوا ہے ۔ وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا خیبرپختونخوا کو درپیش صورتحال اتنی غیرمثالی تھی کہ وفاقی حکومت کو آئین کے آرٹیکلز 232 اور 234 کا بیک وقت استعمال کرنا پڑا۔عام اصطلاح میں جب آرٹیکل 232 کے معاملات ہوتے ہیں تو ہم انہیں ایمرجنسی کہتے ہیں اور آرٹیکل 234 کو گورنر راج۔’‘مگر درپیش صورتحال اتنی سنگین تھی کہ آئین کے ان دونوں آرٹیکلز میں جو شقیں ہیں، حالات اس طرح کے تھے کہ آئین کے ان دونوں آرٹیکلز کی شقوں کو استعمال کیا گیا۔ پاکستان ماضی میں بہت بڑی بڑی مشکلات سے گزرا ہے ، مگر حالیہ صورتحال غیر مثالی ہے ۔انہوں نے کہا کہ آئین کے تحت اب وفاقی حکومت وقتاً فوقتاً گورنر خیبر پختونخوا کے ذریعے اقدامات کا اعلان کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ آج جاری ہونے والے تمام تر احکامات اور حکمناموں کی توثیق آئین کے تحت پارلیمان کے مشترکہ اجلاس سے آئندہ دس روز کے دوران حاصل کی جائے گی اور اس حوالے سے منگل کے روز پارلیمان کا اجلاس طلب کر لیا گیاہے ۔ وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے خصوصی حکمنامے کے تحت قائم کردہ 11 رکنی مشاورتی کونسل میں شامل ارکان کو شائننگ سٹار قراردیتے ہوئے کہا یہ ارکان اپنے اپنے شعبوں کے ماہر ہیں اور جنہیں تکنیکی معاملات پر عبور حاصل ہے ۔عطا تاڑر نے کہا صوبے میں جن کی ذمہ داری سکیورٹی اور امن وامان کی تھی، وہ دہشت گردوں کے شراکت دار تھے ، یہ پورے صوبے کو دہشت گردی میں دھکیل رہے تھے ۔دنیا نیوز کے پروگرام ‘‘ٹونائٹ ود ثمر عباس’’ میں گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات ونشریات عطا تارڑ نے کہا ہے کہ سہیل آفریدی حفاظتی تحویل میں ہیں، گرفتار نہیں کیا گیا، خیبرپختونخوا اسمبلی کی حیثیت معطل ہو چکی ہے ۔انہوں نے کہا بعض افراد کے تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے ساتھ روابط کے شواہد موجود ہیں۔
سہیل آفریدی اپنے دوروں کے دوران مختلف مقامات پر گئے اور وہاں دہشت گردوں سے اپنے لوگوں کا خیال رکھنے کی بات کی، ایسے اقدامات کے ذریعے لوگوں کی جانوں کو خطرے میں ڈال کر سیاسی مقاصد حاصل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے ، انہوں نے سہیل آفریدی پر صوبے میں دہشت گردی روکنے میں ناکامی کا الزام بھی عائد کیا۔انہوں نے کہا پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی)کے کارکنوں کا گورنر ہاؤس کو آگ لگانے اور وہاں توڑ پھوڑ کرنے کا منصوبہ تھا، تاہم لوگ اس مقصد کے لیے باہر نہیں نکلے ۔عطا تارڑ نے کہا کہ شفیع جان بھی بھاگ گئے ہیں اور لانگ مارچ کو آگے بڑھانے والا کوئی نہیں رہا، سہیل آفریدی کو سیاسی طور پر کمزور قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ صوبے میں گھومتے گھومتے گم ہو گئے ۔اُن کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا اسمبلی کی حیثیت معطل ہو چکی ہے اور صوبے میں ان ہاؤس تبدیلی جیسا کوئی معاملہ زیر غور نہیں، ان کا کہنا تھا کہ صوبے کو ایک نیا سیٹ اپ بڑی مہارت سے چلائے گا، جبکہ سہیل آفریدی کی واپسی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ قومی اسمبلی کا اجلاس منگل کو بلایا جائے گا ، 9 مئی کے مقدمات میں مفرور افراد کو گرفتار کرنے کی کوشش کی جائے گی۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments