ایمرجنسی پہلے غیر آئینی وفاقی حکومت کیخلاف لگاؤ : فضل الرحمٰن

ایمرجنسی پہلے غیر آئینی وفاقی حکومت کیخلاف لگاؤ : فضل الرحمٰن

وفاقی حکومت کا اقدام سنگین سیاسی غلطی، عوام کبھی قبول نہیں کریں گے :بیرسٹر گوہر ثالثی کا کہہ کر وعدہ خلافی کی،سربراہ جے یو آئی ،حقوق کیلئے ہرجگہ آواز اٹھائیں:اسد قیصر،سلمان

 اسلام آباد (اپنے رپورٹرسے ) جمعیت علماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے خیبر پختونخوا میں  گورنر راج و ا یمرجنسی کے اقدام کو مکمل مسترد کرتے ہوئے کہا کہ جے یو آئی آئینی حقوق کی بحالی کیلئے عوام ،عدالت پارلیمان سب جگہ جائے گی ، ہم آئینی حقوق کی بحالی کیلئے جدوجہد جاری رکھیں گے ، غیر آئینی اقدام کے سامنے ایک لمحہ کے لئے بھی جھکنے کو تیار نہیں، مجلس شوریٰ اجلاس کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ میں نے اسحق ڈار سے کہا مجھے ثالثی کا کیوں کہا تھا اگر کابینہ نے خود ہی فیصلہ کرلینا تھامیں اس کا گواہ ہوں حکومت نے بات ماننے کے باوجود وعدہ خلافی کی ، مجھے افسوس ہے کہ پی پی پی ہی آئین و جمہوریت کو دفن کررہی ہے ، پی پی پی نے چار مرتبہ گورنر راج لگایا ،ہم آئین پاکستان کے ساتھ کھڑے ہیں ، پرویز مشرف سے لیکر آج تک بار بار آپریشنز ان کی حکمت عملی ناکام رہی، ہمیں کہا جارہاہے کہ آپریشن کی حما یت کریں مجھے بتائیں نائن الیون کے بعد سارے آپریشن کیوں ناکام ہوئے ،ایمرجنسی لگانی ہے تو پہلے غیر آئینی وفاقی حکومت کے خلاف لگاؤ ،میں نے اڑھائی سو کارکنوں کی لاشیں اٹھائی ہیں، فورسز قربانیاں دے رہی ہیں تو ہم بھی تو دے رہے ہیں۔

مجھے لگتاتھاکہ حکومت فیصلے کرچکی ہے میرے ساتھیوں نے پھر بھی مجھے وزیر اعظم کے پاس جانے کی تجویز دی ،مجھے وزیر اعظم کافون آیا میں وزیر اعظم ہاؤس گیا حکومت نے صاف کہا کہ پہلے لانگ مارچ ختم کیا جائے جبکہ پی ٹی آئی کا مطالبہ تھا کہ عمران خان سے ملنے دیا جائے ، انہیں ہسپتال منتقل کرنے کے عدالتی فیصلے پر عمل کیا جائے جس پر میں نے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کو بھی اعتماد میں لینے کا کہا، کانفرنس کال پر سہیل آفریدی بیرسٹر گوہر اسد قیصر سب نے بات کی میں نے کہا آپ لانگ مارچ ختم کر یں ، سہیل آفریدی نے کہا ہمارے مطالبات تسلیم کرلیں ہم لانگ مارچ ختم کردیں گے ، آج صبح میں وزیر اعظم ہاؤس گیا وزیر اعظم سے کہا وہ لانگ مارچ ختم کرنے کو تیار ہیں، میں نے وزیر اعظم سے کہا آپ وعدہ کریں کہ عمران سے ملاقات اور علاج کی سہولت دی جائے گی، میں پشاور جاکر آ فریدی سمیت دیگر سے بات کرنا چاہتا تھا ،میں پی ٹی آئی اور مسلم لیگ ن کے دو ، دو رہنما لیکربات چیت اپنی نگرانی میں آگے بڑھانا چاہتا تھا ،نائب وزیر اعظم اسحق ڈار نے کابینہ اجلاس سے مجھے فون کیا مجھے کہا گیا کہ دہشتگردی کی وجہ سے ایمرجنسی لگانا چاہتے ہیں میں نے کہا بلوچستان میں تو حالات کے پی کے سے بھی خراب ہیں وہاں گورنر راج کیوں نہیں لگایا گیا۔ 

پشاور، اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ بیرسٹر گوہر نے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کی مذمت کرتے ہوئے کہا وفاق کا اقدام انتہائی تشویشناک اور سنگین سیاسی غلطی ہے ، عوام اسے کبھی قبول نہیں کریں گے ، اب بھی وقت ہے ، اس فیصلے کو چند دنوں میں واپس لیا جا سکتا ہے ،سیاسی فیصلوں پر نظرثانی کمزوری نہیں بلکہ قومی مفاد میں دانش مندی کی علامت ہوتی ہے ، ورنہ بہت نقصان ہوجائے گا۔سوشل میڈیا پر اپنے بیان میں انہوں نے کہا خیبرپختونخوا کے عوام کا مینڈیٹ ان کا آئینی اور قانونی حق ہے ، اس مینڈیٹ کو نظر انداز کرکے ، صوبائی خودمختاری کو کمزور کرکے اور وفاق و صوبے کے درمیان تصادم پیدا کرکے نہ امن قائم کیا جاسکتا ہے اور نہ استحکام لایا جاسکتا ہے ۔صوبوں کو کمزور کر کے وفاق مضبوط نہیں ہوسکتا۔ انہوں نے کہا دہشت گردی کے خاتمے پر کوئی اختلاف نہیں، لیکن دہشت گردی کے خلاف جنگ کو عوامی آواز کو دبانے ، سیاسی مقاصد کے حصول یا صوبے کے آئینی اختیارات محدود کرنے کا جواز نہیں بنایا جاسکتا۔ مسائل کا حل طاقت، تصادم اور غیر معمولی اقدامات میں نہیں بلکہ سیاسی بصیرت، آئین کی بالادستی اور بامعنی مذاکرات اور عملی اقدامات میں ہے ۔تحریک انصاف کے سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا لانگ مارچ کا جو اعلان سہیل آفریدی نے کیا تھا، اس میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے ، اب یہ آگے کیسے بڑھے گا، وہاں کیسے حالات ہیں، بربریت کی کیا نوعیت ہے وہ مقامی قیادت بہتر جانتی ہے ۔ فی الحال پی ٹی آئی کی صوبائی قیادت سے کوئی رابطہ نہیں ہے۔

ہم سیاسی لائحہ عمل اپنائیں گے ۔ ہم سمجھتے ہیں کہ احتجاج کرنا عوام کا بنیادی اور آئینی حق ہے ۔سابق سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے ایکس اکاؤنٹ پر لکھا کہ ہم نے ہمیشہ دہشت گردی کے خلاف آواز اٹھائی ہے ۔ وفاقی حکومت کی پالیسیوں پر سنجیدہ سوالات ہیں، جن کے باعث موجودہ حالات پیدا ہوئے ۔ امن جرگے کی متفقہ قرارداد پر عمل درآمد کیا جائے ، جس پر تمام سیاسی جماعتیں متفق تھیں۔انہوں نے کہا کہ تمام سیاسی جماعتیں خیبرپختونخوا کے حقوق کے تحفظ کے لیے آواز اٹھائیں۔ یہ صوبے کے آئینی حقوق پر ڈاکہ ہے ، جو نامنظور ہے ! ہم اپنی آئینی اور جمہوری جدوجہد جاری رکھیں گے ۔جنید اکبر کے ایکس اکاؤنٹ سے یہ پیغام شیئر کیا گیا ہے کہ گورنر راج لگائیں یا مارشل لا، ہمارا لانگ مارچ ان شاء اللہ ہر صورت ہوگا۔ صوابی پہنچیں ۔ نہ دباؤ ہمیں روک سکتا ہے ، نہ دھمکیاں ہمارے عزم کو کمزور کر سکتی ہیں۔تحریک انصاف کے سینئر رہنما اور خیبر پختونخوا کے سابق وزیر اطلاعات شفیع جان نے لکھا پختونوں کے سر کا سودا نہیں کیا اور حکومت قربان کر دی، پورا خیبر پختونخوا پشاور پہنچے ۔پاکستان تحریک انصاف نے ایکس پر اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ ماضی کے آمریت پر مبنی اقدامات کی طرح وفاق کا یہ اقدام بھی تاریخ کے کوڑے دان میں جا گرے گا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...