پختونخوا حکومت کی وجہ سے دہشتگردی بڑھی:شہبازشریف

پختونخوا حکومت کی وجہ سے دہشتگردی بڑھی:شہبازشریف

پانی سرسے گزر چکا، فیصلے کا وقت، ابھی نہیں تو کبھی نہیں:کابینہ سے خطاب

اسلام آباد(نامہ نگار)وزیراعظم شہباز شریف نے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ دہشت گردی پر خاموشی ملک دشمنی کے مترادف ہے ،دہشت گردوں کا مقابلہ کرنا وفاق کے ساتھ خیبرپختونخوا حکومت کی بھی ذمہ داری ہے ، صوبائی حکومت کی عدم توجہ کی وجہ سے دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ ہوا ،دہشت گردی کے واقعات کو پس پشت ڈالتے ہوئے اسلام آباد پر چڑھائی کا ناپاک منصوبہ بنایا گیا ،ملک کو دوبارہ تباہی کی طرف نہیں لے جانے دیں گے ۔دہشت گردی کے واقعات میں عام شہری اور سکیورٹی اہلکار شہید ہو رہے ہیں لیکن خیبر پختونخوا کی حکومت اور وزیراعلیٰ کو توفیق نہیں ہوتی کہ ان واقعات کی مذمت ہی کر دیں،پانی اب سر سے گزر رہا ہے ، ہمیں فیصلہ کرنا ہے ، اب یا کبھی نہیں تاریخ ہمیں انہی فیصلوں سے یاد رکھے گی۔انہوں نے ان خیالات کا اظہار وفاقی کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔وزیر اعظم نے کہا خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے واقعات میں عام شہری، سیاستدان، ڈاکٹرز،انجینئرز ، دکاندار سبھی شہید ہوئے ہیں،انسداد دہشتگردی کے لیے 2010 سے 2026 تک خیبر پختونخوا حکومت کو 800 ارب روپے دئیے جا چکے ہیں لیکن نہ تو پولیس اور سی سی ڈی کو مضبوط کیا گیا، نہ ان کی تربیت کی طرف توجہ دی گئی اور نہ ہی انٹیلیجنس کو بہتر بنایا گیا۔

ٹانک ،ڈیرہ اسماعیل خان اور دیگر مقامات پر دہشت گردی کے آئے روز واقعات ہوتے ہیں،انسداد دہشت گردی وفاقی حکومت کے ساتھ صوبائی حکومت کی بھی ذمہ داری ہے ،دہشت گرد دوسروں کو تو نشانہ بناتے ہیں لیکن ان کے جلوس بحفاظت نکلتے ہیں اس کا کیا مطلب لیا جائے ، دہشت گردی کی وجہ سے صورتحال خراب ہوتی جا رہی ہے اور پھر اب اسلام آباد کی چڑھائی کا انہوں نے ناپاک منصوبہ بنایا ہے ،جب معیشت کے عشارئیے بہتر ہو رہے ہیں، ترسیلات زر میں اضافہ ہوا ہے ،مالیاتی نظم و ضبط بہتر ہوا ہے ،سٹیٹ بینک کے پاس زر مبادلہ کے ذخائر بلند ترین سطح پر ہیں،تیل کے بحران سے پیدا ہونے والی صورتحال سے ٹیم ورک کے طور پر نبرد آزما ہوئے ہیں،فیول سبسڈی سے کروڑوں لوگ مستفید ہو رہے ہیں۔بین الاقوامی سطح پر پاکستان کو سفارتی کامیابیاں مل رہی ہیں تو یہ جتھے سے لانگ مارچ کے ذریعے اسلام آباد پر چڑھائی کرنا چاہتے ہیں اور ماضی کی بھیانک یادوں کو تازہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ ملک کو دوبارہ تباہی کے دہانے کی طرف لے جائیں، پاکستان کو دوبارہ تباہی کے دہانے پر لے جا کر پاکستان کے ساتھ یہ دشمنی کرنا چاہتے ہیں۔13 سال سے خیبر پختونخوا میں یہ حکومت کر رہے ہیں عوام کو انہوں نے کیا دیا ہے ،میں سمجھتا ہوں اس سے زیادہ ملک دشمنی کی اور کوئی حرکت ہو نہیں سکتی،یہ چاہتے ہیں کہ مزدور کارخانے نہ جائیں، دکاندار دکانوں پر نہ جا سکیں۔

بچے سکولوں میں نہ جا پائیں اور پاکستان میں کوئی سرمایہ کاری نہ کرے اور ملک دوبارہ تباہی کی طرف چلا جائے ، یہ پاکستان کو بالکل لاچار کرنا چاہتے ہیں یہ نہیں ہوگا ،قانون اپنا راستہ بنائے گا اور ہر صورت بنائے گا۔ وزیراعظم نے کہا کہ پیپلز پارٹی اور پی ایم ایل این نے بات چیت سے معاملات حل کرنے کی کوشش کی، صدر مملکت آصف زرداری ، بلاول بھٹو،میاں محمد نواز شریف کی اجازت سے بات چیت ہوئی،امید بھی پیدا ہو گئی تھی کہ معاملہ طے پا جائے گا،وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کی وجہ سے اس کو بریکیں لگ گئیں اور بات آگے نہ بڑھ سکی، وہ طے پانے والے مسودے سے پیچھے ہٹ گئے ،وہ چاہتے نہیں کہ ملک میں امن قائم ہو، وہ چاہتے نہیں کہ یہ ترقی کا سفر آگے بڑھے ، وہ چاہتے نہیں کہ ہماری سفارتی کامیابی آگے بڑھے ، وہ نہیں چاہتے کہ معاشی انقلاب آئے ۔ وزیر اعظم نے کہا کہ جمیعت علمائے اسلام (ف )کے امیر مولانا فضل الرحمن سے بھی ملاقات ہوئی، انہوں نے بھی مذاکرات میں کردار ادا کرنے کی ہامی بھری،انہیں پھر بھی غیر رسمی طور پر کہا گیا کہ لانگ مارچ ختم کر دیں اب بھی ہم بات چیت کر سکتے ہیں لیکن انہوں نے اس کا کوئی مثبت جواب نہیں دیا۔ 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...