ملتان : کراچی سے پشاور جانیوالی ٹرین الٹ گئی ، 7 مسافر جاں بحق ، 30 سے زائد زخمی
رحمن بابا ایکسپریس کی 14بوگیاں شیر شاہ پل کے قریب پٹڑی سے اتر یں، ایک ہزار مسافر سوار تھے ، زخمی نشتر ہسپتال منتقل ،بعض کی حالت نازک، ٹریک پر ٹرینوں کی آمدورفت بند خود کو واقعے کا ذمہ دار سمجھتا ہوں،متاثرین کی امداد کرینگے :حنیف عباسی،جائے وقوعہ کا دورہ،صدر ، وزیراعظم کا اظہار افسوس، بریکنگ سسٹم کا لٹکتا آہنی راڈحادثہ کی وجہ:ابتدائی رپورٹ
ملتان،لاہور،اسلام آباد(خصوصی رپورٹر، اپنے کامرس رپورٹر سے ،دنیا نیوز )کراچی سے پشاور جانیوالی ٹرین ملتان میں اُلٹ گئی، 7 مسافر جاں بحق، 30 سے زائد زخمی ہوگئے ، جنہیں نشتر ہسپتال منتقل کردیا گیا، بعض زخمیوں کی حالت نازک ، حکومت نے حادثہ کی تحقیقات کا حکم دے دیا۔ تفصیلات کے مطابق کراچی سے پشاور جانے والی ٹرین رحمن بابا ایکسپریس کی منگل کی صبح تقریباًسوا 5 بجے ملتان میں ناگ شاہ اور شیر شاہ پل کے قریب 14 بوگیاں پٹڑی سے اتر گئیں اور متعدد الٹ گئیں، جس کے نتیجے میں 45 سالہ نامعلوم شخص، 45 سالہ اسماء اسرار، 46 سالہ شکیلہ بی بی، 43 سالہ سائرہ بی بی ، ڈیڑھ سالہ سالہ شفا کامران سمیت 7افراد دم توڑ گئے جبکہ 8 بچوں اور متعدد خواتین سمیت 30 سے زائدمسافر زخمی بھی ہوئے ۔ زخمیوں میں 5 سالہ مجیب ، 35 سالہ نرگس ، 32 سالہ زونیرہ مناف ،32 سالہ محمد ہارون ، 50سالہ محمد کامران ، 21 سالہ اسد مشتاق، 60 سالہ چاندنی بی بی ، 40 سالہ گل خان ، 40 سالہ سمیرا گل خان، 3 سالہ نمرہ گل ، 5 سالہ عمر گل ،5 سالہ ملائکہ گل ، 46 سالہ محمد اسرارخان، 33 سالہ حرا خان ، 24 سالہ محمد عاصم ، 45 سالہ طارق محمود ، 36 سالہ مہوش ، 2 سالہ منتہا ، 12 سالہ ارسلان ، 20سالہ منیراسلم ،20سالہ ایان طارق ،40 سالہ یاسمین رشید ، 20 سالہ احمد اسلم ،10 سالہ آمنہ دختر فیاض ، 22 سالہ عرب ولد منگل، 6 سالہ حذیفہ ستار اور 30 سالہ کلیم عباس شامل ہیں۔ حادثے کے بعد خوف و ہراس پھیل گیااور کئی مسافر بوگیوں میں پھنس گئے ، اطلاع پر ریسکیو ٹیموں نے موقع پر پہنچ کر امدادی کارروائیاں شروع کر دیں۔
ایک متاثرہ بوگی کو کاٹ کر مسافروں کو نکالا گیا، تمام زخمیوں کو نشتر ہسپتال ملتان منتقل کردیا گیا،متعدد زخمیوں کی حالت نازک ہے جبکہ انتظامیہ نے ہسپتال میں ایمرجنسی نافذ کردی ہے ۔ریسکیو حکام کے مطابق دیگر 22 متاثرین کو موقع پر ابتدائی طبی فراہم کی گئی۔ادھر ایک مسافر نے دعویٰ کیا ہے کہ روہڑی کے قریب بوگی نمبر 9 کے نٹ بولٹ درست کئے گئے تھے ۔جبکہ ایک اور مسافر اور ٹرین کے ایک ملازم نے کہا ہے کہ سمہ سٹہ سٹیشن پر ایک بوگی کی نشاندہی کی گئی تھی، لیکن توجہ نہیں کی گئی اور 120کی سپیڈ سے چلنے والی ٹرین حادثے کا شکار ہوگئی۔ حادثے کے بعد اپ ٹریک پر ٹرینوں کی آمدورفت بند ہو گئی ۔ حکام کے مطابق حادثے کے باعث اپ اور ڈاؤن کی تمام ٹرینیں متبادل راستے کارڈ لائن کے ذریعے خانیوال اور لودھراں سے روانہ کی جارہی ہیں جبکہ متاثرہ ٹریک کی بحالی کا کام شروع کر دیاگیا ہے ۔ وفاقی حکومت نے حادثے کا نوٹس لیتے ہوئے تحقیقات کا حکم دیدیا ہے ۔حکام کے مطابق حادثے کی وجوہات جاننے کیلئے شواہد اکٹھے کئے جارہے ہیں ، حتمی ذمہ داری کا تعین تحقیقاتی رپورٹ سامنے آنے کے بعد ہی ہوسکے گا۔ریلوے انتظامیہ کے مطابق ٹرین میں لگ بھگ ایک ہزار افراد سوار تھے ۔ادھر ٹرین حادثہ کی انکوائری کیلئے ریلوے ہیڈکوارٹرز لاہور سے تکنیکی انکوائری کمیٹی جائے حادثہ پہنچ گئی۔ دریں اثناء صدر مملکت آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف نے حادثے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ حکام کو امدادی کارروائیاں تیز کرنے اور زخمیوں کو ہر ممکن طبی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت کی ہے۔
دوسری طرف وفاقی وزیر ریلوے حنیف عباسی بھی جائے حادثہ پہنچ گئے ،انہوں نے زخمی مسافروں کی عیادت کیلئے نشتر ہسپتال کا بھی دورہ کیا، کمشنر ملتان ڈویژن عامر کریم خاں بھی ان کے ہمراہ تھے ۔ حنیف عباسی نے ڈاکٹروں اور ہسپتال انتظامیہ کوہدایت کی کہ زخمیوں کوبہترین طبی سہولیات فراہم کی جائیں۔اس موقع پر حنیف عباسی نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ ٹرین حادثے میں قیمتی انسانی جانوں کا ضیاع انتہائی افسوسناک ہے ،تاہم صرف افسوس کرنے سے بات نہیں بنے گی بلکہ ریلوے نظام میں موجود خامیوں کو دور کرنا ہوگا ،خود کو واقعے کا ذمہ دار سمجھتا ہوں،دکھ کی اس گھڑی میں متاثرہ خاندانوں کے غم میں برابر کے شریک ہیں۔وفاقی وزیر ریلوے نے جاں بحق افراد کے لواحقین اور زخمیوں کیلئے مالی امداد کا اعلان کرتے کہا کہ متاثرین کو ریلوے کی انشورنس پالیسی کے مطابق معاوضہ دیا جائے گا ۔ ادھر حادثے کی ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ سامنے آ گئی ہے جس میں حادثے کی ابتدائی وجہ بریکنگ سسٹم کے لٹکتے آہنی راڈ کا کراسنگ میں پھنسنا قرار دیا گیا ہے ۔ مشترکہ سرٹیفکیٹ کے مطابق آہنی راڈ کراسنگ کے سوئچ میں پھنسنے سے ٹرین کی دوسری بوگی الٹی اوردوسری بوگی الٹنے کے بعد پیچھے آنے والی 13 بوگیاں بھی پٹڑی سے اتر گئیں۔ رحمن بابا ایکسپریس 672 ٹن لوڈ کے ساتھ سفر کررہی تھی، حادثے کی جگہ سے تحقیقاتی ٹیم کو ٹریس بار ہینگر کا باقی حصہ مل گیاہے ۔علاوہ ازیں رحمن بابا ایکسپریس حادثے کے بعد جعفر ایکسپریس اور تیز گام کا شیڈول متاثر ہوا اوران کے روٹ تبدیل کر دئیے گئے ، روٹ تبدیلی کے باعث یہ دونوں ٹرینیں تاخیر سے لاہور پہنچیں۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments