پشاور : سکول کی چھت گرگئی، ٹیچر اور 34 بچے جاں بحق

پشاور : سکول کی چھت گرگئی، ٹیچر اور 34 بچے جاں بحق

دیر کالونی کے سکول میں اوپر نیچے تین کلاسز ، 110بچے پڑھ رہے تھے ،ایک چھت دوسری پر گرنے سے عمارت بیٹھ گئی،جاں بحق بچوں کی عمریں 6 سے 14سال کے درمیان،53زخمی تنگ گلیوں کے باعث5گھنٹے طویل ریسکیو آپریشن، پرنسپل گرفتار، سکول پچھلے سال رجسٹرڈ ،تکنیکی معائنہ نہ ہوا:ذرائع،تحقیقاتی کمیٹی قائم،نماز جنازہ ادا، لواحقین کیلئے 10،10لاکھ امداد کا اعلان

پشاور،اسلام آباد(نامہ نگار، دنیانیوز، مانیٹرنگ ڈیسک)پشاور کے علاقے دیر کالونی میں کالج روڈ پر سکول کی چھت گرنے سے 34بچے اور ایک خاتون ٹیچر جاں بحق ہوگئیں، جبکہ ملبے تلے دب کر 53 بچے زخمی ہوئے ۔چھت گرنے کا واقعہ اس وقت پیش آیا جب سکول میں تعلیم و تدریس کا عمل جاری تھا،ترجمان ریسکیو پشاور کا کہنا ہے کہ سکول کی ایک چھت دوسری پر گرنے سے عمارت بیٹھ گئی، ملبے تلے دبنے سے بچوں کی اموات ہوئیں۔ واقعے کے بعد فوج اور دیگر ریسکیو اداروں نے امدادی کارروائیوں میں حصہ لیا۔لیڈی ریڈنگ ہسپتال کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق ہسپتال میں 33 لاشیں لائی گئیں جن میں 25 سالہ ٹیچر ثمرین بی بی بھی شامل ہیں۔ ترجمان لیڈی ریڈنگ ہسپتال محمد عاصم کے مطابق تمام بچوں کی عمریں 6 سے 14 سال کے درمیان ہیں، جاں بحق ہونے والوں میں 6 بچیاں شامل ہیں۔

لیڈی ریڈنگ ہسپتال سے 17 بچوں کو ڈسچارج کر دیا گیا جبکہ ایک ٹیچر اور تین بچے اب بھی ہسپتال میں زیرِ علاج ہیں۔دوسری جانب نصیر اللہ خان بابر میموریل ہسپتال میں 2لاشیں اور 33طلبا و طالبات کو زخمی حالت میں لایا گیا۔سی سی پی او کے مطابق چھت گِرنے سے تین کلاس رومز متاثر ہوئے ۔ہر منزل پر ایک کلاس روم موجود تھا۔ ان کلاس رومز میں مجموعی طور پر تقریباً 110 طلبہ موجود تھے ، جن میں بالائی منزل کی کلاس میں 30، درمیانی منزل کی کلاس میں 40 اور گراؤنڈ فلور کی کلاس میں 45 طلبہ تھے ۔ اب بھی لوگوں سے عمارت سے دور رہنے کی اپیل کر رہے ہیں کیونکہ یہ انتہائی خطرناک ہے اور مزید نقصان ہونے کا خدشہ موجود ہے۔ یہ سنگین غفلت کا معاملہ ہے۔ سکول تنگ گلیوں میں ہونے کی وجہ سے ریسکیو آپریشن میں مشکلات کا سامنا رہا،چار سے پانچ گھنٹوں تک ریسکیو آپریشن جاری رہا۔

ریسکیو 1122 کے ریجنل ڈائریکٹر عارف خٹک کے مطابق ریسکیو آپریشن میں 100 اہلکاروں، 18 ایمبولینسوں اور تین ہیوی ڈیوٹی وہیکلز نے حصہ لیا۔ایس ایس پی آپریشنز نے کہا کہ ریسکیو آپریشن مکمل کر لیا گیا ہے ، سکول مالک کو بھی حراست میں لے لیا ہے ، مالک کے خلاف مقدمہ درج کیا جائے گا۔ پولیس اس بات کی بھی تحقیقات کرے گی کہ آیا اس عمارت کا پہلے کبھی معائنہ کیا گیا تھا یا نہیں۔پولیس کے مطابق مالک سکول کو ایجوکیشن ٹرسٹ کے طور پر چلا رہے تھے ۔ سرکاری ذرائع کے مطابق سکول کی عمارت کا تکنیکی معائنہ نہیں کیا گیا تھا،سکول مارچ 2026 میں پرائیویٹ سکولز ریگولیٹری اتھارٹی کے ساتھ رجسٹرڈ ہوا، خستہ عمارت کے باوجود سکول کو رجسٹریشن دی گئی۔واقعے کی تحقیقات کے لئے ڈی سی پشاور نے کمیٹی بنا دی، انکوائری کمیٹی سے ایک روز میں رپورٹ طلب کر لی گئی۔ایلیمنٹری اور سیکنڈری ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ خیبر پختونخواکی جانب سے بھی ایک تین رکنی کمیٹی بنائی گئی ہے جس کی سربراہی پرائیویٹ سکولز ریگولیٹری اتھارٹی کے سربراہ جاوید اقبال کریں گے۔

سکول کی عمارت گرنے کی ابتدائی رپورٹ سامنے آگئی، رپورٹ کے مطابق سکول کی عمارت پہلے سے خستہ حال تھی، پہلے ایک کمرے کی چھت گری، امدادی کارروائیوں کیلئے رش بڑھنے پر سکول کی باقی عمارت بھی گر گئی۔رپورٹ کے مطابق سکول میں بعض بچوں کو رہائش کی سہولت بھی دی گئی تھی، سکول قریبی مسجد کے امام کی ملکیت، دینی اور دنیاوی تعلیم دی جا رہی تھی۔ جائے وقوعہ پر موجود ریسکیو حکام اور بی بی سی کے نامہ نگار بلال احمد کے مطابق بظاہر سکول میں تیار شدہ چھتیں نصب کی گئی تھیں اور یہاں کوئی پکا لینٹر نہیں تھا۔تمام جاں بحق بچوں کی نماز جنازہ ادا کردی گئی، 16 بچوں کی اجتماعی نماز جنازہ سپیرئیر سائنس کالج کے ساتھ واقع گراؤنڈ میں ادا کردی گئی ،گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی، علاقہ معززین اور شہریوں کی بڑی تعداد نے نمازِ جنازہ میں شرکت کی۔

صدر اور وزیراعظم نے واقعہ پر افسوس کا اظہار کیا، صدرزرداری نے کہا دلخراش سانحہ نے پوری قوم کوصدمے سے دوچار کر دیا ہے ۔شہباز شریف نے گورنر خیبر پختونخوا سے ٹیلی فونک رابطہ کیا اور زخمیوں کو ہر ممکن طبی امداد فراہم کرنے کی ہدایت کی،وزیراعظم نے واقعے کی مکمل رپورٹ طلب کر لی اور حکم دیا کہ واقعے کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا جائے اور ذمہ داران کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی یقینی بنائی جائے ۔ گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے بھی بچوں کی شہادت پر دکھ کا اظہار کرتے ہوئے واقعے کی رپورٹ طلب کر لی اورجاں بحق بچوں کے لواحقین کے لیے 10، 10 لاکھ روپے اور زخمیوں کے لیے دو لاکھ روپے دینے کا اعلان کر دیا۔ چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا پشاور کے سکول میں حادثے کی اندوہناک خبر سے انتہائی صدمہ ہوا ہے۔وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے بھی واقعے پر اظہار افسوس کیا ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...