جے یو آئی کیا پی ٹی آئی کی پالیسی اپنا کر اپنی سیاست گنوائے گی؟

جے یو آئی کیا پی ٹی آئی کی پالیسی اپنا کر اپنی سیاست گنوائے گی؟

مولانا فضل الرحمن زیرک سیاستدان، لائن کراس کرنے کو تیار نہیں ہونگے

(تجزیہ:سلمان غنی)

جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کے خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور دہشت گردی کے حوالہ سے بیانات اور حکومتی پالیسیوں پر مسلسل تنقید پر حکومت اور اتحادیوں کا ردعمل کا سلسلہ جاری ہے اور وہ معدنیات کے ایشو پر مولانا فضل الرحمن کے بیانات کو بھی ٹارگٹ کرتے نظر آ رہے ہیں ، مولانا فضل الرحمن کا حکومت اور پالیسیوں پر تحفظات کا سلسلہ 2024 کے بعد سے جاری ہے ۔مولانا فضل الرحمن کے سیاسی کردار کو دیکھا جائے تو وہ ایک ذہین سیاستدان کے طور پر ہمیشہ حکومتوں میں حصہ بناتے نظر آتے رہے ہیں ، ایک وقت تھا کہ مولانا فضل الرحمن پی ٹی آئی کے بانی کے شدیدتر ناقد رہے اور یہاں تک کہ ان پر یہودی ایجنٹ ہونے کا الزام بھی لگا دیا اور بانی پی ٹی آئی نے بھی ان کی ذات کو ٹارگٹ کرتے ہوئے اخلاقیات سے عاری طرز عمل اختیار کئے رکھا ،لیکن پی ٹی آئی کے اقتدار سے باہر ہونے کے بعد بانی پی ٹی آئی کی اپنی جماعت کے ذمہ داران کو ہدایت تھی کہ وہ احتجاجی اور مزاحمتی سیاست کیلئے مولانا فضل الرحمن کو ساتھ لیں اور اس حوالہ سے اسد قیصر کو مشن سونپا گیا ،لیکن بوجوہ اسد قیصر اس میں کامیاب نہ ہو سکے ، اس لئے کہ مولانا فضل الرحمن اپنے پلیٹ فارم سے ہی اپوزیشن کا کردار چاہتے تھے اور کسی طور پی ٹی آئی کے ساتھ ایک پلیٹ فارم پر آ کر فیصلہ سازوں کو اپنا پیغام نہیں دینا چاہتے تھے کہ وہ مخالفت میں حدود پارکریں گے۔

لیکن مولانا فضل الرحمن کو یہ دکھ اور رنج رہا کہ ماضی میں ان کی اتحادی دونوں جماعتوں نے انہیں ساتھ لے کر چلنے کی آفر نہیں کی۔ البتہ انہوں نے 26ویں اور 27ویں ترمیم کا ساتھ دے کر یہ ظاہر کیاکہ وہ خود کو کسی بھی بندوبست میں باہر نہیں رکھنا چاہتے ۔ایسی اطلاعات ہیں کہ مولانا فضل الرحمن کو بتایا گیا تھا کہ پاکستان میں جاری سیاسی بندوبست میں حکومت اور اتحادیوں سے کہا گیا تھا کہ مولانا فضل الرحمن سے پرہیز برتیں ،لہٰذا وہ اپنے ماضی کے اتحادیوں کے ساتھ پاکستان کی مقتدرہ کو بھی ٹارگٹ کرتے نظر آئے لیکن حکومت یا ریاست میں سے کوئی بھی ان کے دباؤ میں نہیں آیا ،اب جبکہ پی ٹی آئی کی پختونخوا کی حکومت نے لانگ مارچ کا اعلان کرتے ہوئے ریاست مخالفت بیانیہ اختیار کیا تو مولانا فضل الرحمن نے دوطرفہ رجوع پر خود کو ثالثی کے لئے تیار کیا ،لیکن وہ یہ نہ سمجھ پائے کہ فیصلہ سازی کا اصل اختیار کہاں ہے ۔

بلاشبہ مولانا فضل الرحمن نے پی ٹی آئی کی لیڈر شپ سے رابطہ کر کے بدلے حالات اور حکومت کی انتظامی تیاریوں کا بتاتے ہوئے انہیں لانگ مارچ ملتوی کرنے پر تیار کر لیا، لیکن اس وقت تک ایمرجنسی اور گورنر راج کا فیصلہ ہو چکا تھا اور فضل الرحمن کی ثالثی بھی دھری کی دھری رہ گئی اور انہوں نے خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کو بنیاد بناتے ہوئے حکومت پر دباؤ ڈالنا شروع کر دیا،یہاں تک کہ دہشت گردی کے حوالہ سے حکومتی پالیسی کو بنیاد بناتے ہوئے کہا کہ اگر دہشت گردی ہی گورنر راج اور ایمرجنسی کی وجہ ہے تو اس بنیاد پر بلوچستان میں آئینی پیش رفت کیوں نہیں ہوتی ،اس موقف کو پی ٹی آئی کی جانب سے بھی پذیرائی ملی، تاہم پی ٹی آئی کا فی الحال نہ ہی سیاسی کردار نظر آ رہا ہے ا ور نہ ہی مستقبل میں اقتدار میں آنے کے امکانات نظر آ رہے ہیں بلکہ اسی پالیسی کے تحت انہوں نے اپنی ،خیبر پختونخوا کی حکومت بھی گنوا لی ہے ، لہٰذا جس پالیسی کے تحت پی ٹی آئی نے اپنی حکومت گنوا لی ہو اس پر کاربند ہوکر جے یو آئی اپنی سیاست کیونکر گنوائے گی۔مولانا فضل الرحمن ایک زیرک سیاستدان کے طور پر لائن کراس کرنے کو تیار نہیں ہوں گے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...