عالمی تنازعات ،مہنگا ئی بڑ ھ سکتی :خام تیل کی فراہمی تسلی بخش ،نومبر تک انتظامات موجود ،گیس اور ایل این جی کیلئے بروقت اقدامات کرنا ہونگے تاکہ گھریلو اور صنعتی صارفین کو مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے :وزیر خزانہ

 عالمی تنازعات ،مہنگا ئی بڑ ھ سکتی :خام تیل کی فراہمی تسلی بخش ،نومبر تک انتظامات موجود ،گیس اور ایل این جی کیلئے بروقت اقدامات کرنا ہونگے تاکہ گھریلو اور صنعتی صارفین کو مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے :وزیر خزانہ

زرمبادلہ ذخائر 3 ماہ سے زائد کی درآمدات کیلئے کافی،ترسیلات زر کمی کے خدشے کے باوجود بڑھ کر 44 ارب ڈالر تک پہنچنے کا امکان ،آبادی یونہی بڑھتی رہی تو 39 کروڑ تک پہنچ سکتی:اورنگزیب گندم ذخائر ملکی ضروریات کیلئے کافی، چینی بھی وافر مقدار میں موجود ، اشیائے ضروریہ کی مناسب قیمتوں پر فراہمی حکومت کی ترجیح، منڈیوں ، تجارتی نیٹ ورکس پر کڑی نظر رکھیں:نائب وزیراعظم

لاہور،اسلام آباد(نیوز ایجنسیاں، مانیٹرنگ ڈیسک)وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ عالمی تنازعات کے اثرات کے نتیجے میں مہنگائی بڑھ سکتی ہے ، انہوں نے کہا خام تیل کی فراہمی تسلی بخش ،نومبر تک انتظامات موجود ہیں ،گیس اور ایل این جی کیلئے بروقت اقدامات کرنا ہونگے تاکہ گھریلو اور صنعتی صارفین کو مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے ۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ عالمی معیشت بے یقینی کی صورت حال سے دوچار ہے لیکن چیلنجز کے باوجود پاکستان میں معاشی بہتری کا سفر جاری ہے ، سرمایہ کاروں کو ہر ممکن سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں، عالمی سرمایہ کار پاکستان کے ساتھ دیگر منڈیوں پر بھی نظر رکھے ہوئے ہیں، پاکستان کے بانڈز میں یورپ اور امریکا کے سرمایہ کار بھی دلچسپی لے رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ عالمی تنازعات کے اثرات اشیائے ضرورت کی قیمتوں پر پڑسکتے ہیں، انہوں نے کہاعا لمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف)کا موجودہ پروگرام آئندہ سال اکتوبر میں اختتام پذیر ہو جائے گا۔حکومت ٹیکس نظام میں بہتری اور ٹیکس کا دائرہ کار بڑھانے کے لیے اصلاحات کررہی ہے جبکہ معاشی ترقی کے عمل میں نجی شعبے کی حوصلہ افزائی کی جا رہی ہے ۔وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ حکومت نے کوشش کی کہ دنیا کے دیگر ممالک کی طرح پاکستان میں بھی عوام کو پٹرول کے لیے قطاروں میں نہ لگنا پڑے ، حکومت نے ہدف پر مبنی سبسڈی فراہم کی کیونکہ بڑی گاڑیاں رکھنے والوں کو سبسڈی کی ضرورت نہیں۔

محمد اورنگزیب نے مزید کہا کہ موسم سرما کیلئے توانائی کی ضروریات پوری کرنے پر کام جاری ہے ، گیس اور مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کی ضروریات پوری کرنا ہوں گی، پاکستان میں توانائی کی قلت پیدا نہیں ہونے دی گئی، خام تیل سمیت توانائی کے دیگر ذرائع کی فراہمی کی صورت حال تسلی بخش ہے ۔وزیر خزانہ نے کہا درآمدات پر انحصار کے باعث ماضی میں پاکستان کو ادائیگیوں کے توازن کے بحران کا سامنا کرنا پڑا تاہم 4 سے 5 سال کی کوششوں کے بعد ملک کی کریڈٹ ریٹنگ دوبارہ بی کی سطح پر لائی گئی ہے ،ملک کے زرمبادلہ ذخائر تین ماہ سے زائد کی درآمدات کے لیے کافی ہیں۔انہوں نے توقع ظاہر کی کہ رواں مالی سال پاکستان کی ترسیلات زر 44 ارب ڈالر تک پہنچ جائیں گی، جنگ کے باعث ترسیلات زر میں کمی کا خدشہ تھا تاہم ان میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔وزیر خزانہ نے موسمیاتی تبدیلی اور آبادی میں تیز رفتار اضافے کو پاکستان کے بڑے چیلنجز قرار دیتے ہوئے کہا کہ ملک میں آبادی بڑھنے کی سالانہ شرح تقریبا 2.55 فیصد ہے اور موجودہ رفتار برقرار رہنے کی صورت میں آبادی 39 کروڑ تک پہنچ سکتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ بڑھتی ہوئی آبادی سے تعلیم، صحت، روزگار اور دیگر بنیادی سہولیات پر دباؤبڑھ سکتا ہے ، اس لیے طویل المدتی منصوبہ بندی اور ساختی اقدامات ضروری ہیں۔انہوں نے کہا کہ بنگلہ دیش، انڈونیشیا اور ایران نے ایک دہائی کے دوران آبادی میں اضافے کی شرح ایک فیصد سے کم کرنے میں پیش رفت کی ہے ۔ پاکستان میں بھی خواتین کی تعلیم، افرادی قوت میں ان کی شرکت اور عوامی آگاہی کے فروغ کے لیے اقدامات کرنا ہوں گے ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں خواتین کی افرادی قوت میں شرکت کی شرح تقریبا 22.7 فیصد ہے ، جس میں اضافے سے ملکی پیداواری صلاحیت اور معاشی ترقی کو تقویت مل سکتی ہے ۔

دریں اثنا نائب وزیراعظم اِسحاق ڈار نے گندم کی قیمتوں میں اضافے کے رجحان پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے وفاقی و صوبائی حکام کو ہدایت کی کہ قیمتوں میں استحکام لانے کیلئے گندم کی سپلائی میں اضافے سمیت تمام ضروری اقدامات کئے جائیں، قومی غذائی سکیورٹی کا تحفظ اور عوام کو اشیائے ضروریہ کی مناسب قیمتوں پر فراہمی حکومت کی اولین ترجیح ہے ۔ ترجمان دفتر خارجہ کی طرف سے جاری بیان کے مطابق ان خیالات کا اظہار انہوں نے کابینہ کمیٹی کے ایک اعلیٰ سطح اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا، گندم کے حوالے سے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ مقامی ذخائر اور درآمد شدہ گندم کو ملا کر دستیاب مقدار آئندہ فصل کی کٹائی تک ملکی ضروریات پوری کرنے کیلئے کافی ہے تاہم نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ نے گندم کی قیمتوں میں اضافے کے رجحان پر تشویش کا اظہار کیا اور وفاقی و صوبائی حکومتوں کو ہدایت کی کہ قیمتوں میں استحکام لانے کے لئے گندم کی رسد میں اضافے سمیت تمام ضروری اقدامات کیے جائیں۔ چینی کے حوالے سے کمیٹی کو آگاہ کیا گیا کہ مقامی منڈی میں اس کی قیمت 155 روپے فی کلوگرام کی مقررہ ہدفی خوردہ قیمت سے خاصی کم ہے جبکہ آئندہ کرشنگ سیزن تک ضروریات پوری کرنے کے لئے وافر ذخائر بھی دستیاب ہیں ،نائب وزیراعظم نے اس امر پر زور دیا کہ قومی غذائی سکیورٹی کا تحفظ اور عوام کو اشیائے ضروریہ مناسب قیمتوں پر فراہم کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے ۔ انہوں نے وفاقی اور صوبائی حکام کو ہدایت کی کہ منڈیوں اور تجارتی نیٹ ورکس پر کڑی نظر رکھی جائے ۔

 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...