فرانس سمیت یورپی ممالک میں لاکھوں افراد کے مظاہرے ،جھڑپیں

فرانس سمیت یورپی ممالک میں لاکھوں افراد کے مظاہرے ،جھڑپیں

کئی علاقوں میں کرفیو ،135 گرفتار، عجائب گھر بند ، 8 لاکھ افراد شریک ہوئے :مزدور یونین مہنگائی، تعلیمی مشکلات و دیگر مسائل پراٹلی، بیلجیئم، سپین، پرتگال ، البانیہ میں احتجاجی مارچ

پیرس (نیوز ایجنسیاں )فرانس میں مہنگائی اور بڑھتے اخراجاتِ زندگی کے خلاف مسلسل دوسرے ہفتے لاکھوں مظاہرین سڑکوں پر نکل آئے ، پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں ہوئیں۔ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق، فرانسیسی  وزارت داخلہ نے ملک بھر میں مظاہرین کی تعداد 4 لاکھ 10 ہزار بتائی جبکہ مزدور یونین سی جی ٹی کا دعویٰ ہے کہ مظاہروں میں تقریباً 8 لاکھ افراد شریک ہوئے ۔ حکام کے مطابق صرف پیرس میں ایک لاکھ 10 ہزار افراد احتجاج کر رہے تھے ۔ پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس، لاٹھیاں اور واٹر کینن استعمال کیں۔ پولیس نے پیرس کے علاوہ مارسیل، لیون، لِیل، بورڈو، تولوز، مونپلیے اور نانت میں بھی مظاہرین پر آنسو گیس پھینکی۔ پیرس سمیت بعض شہروں کے مخصوص علاقوں میں کرفیو بھی نافذ کیا گیا۔وزیر داخلہ کے مطابق مرکزی مارچ شروع ہونے سے پہلے 135 افراد گرفتار کیے گئے اور دھاتی گولیاں، سیسے کے چھرے ، آتش بازی کا سامان، غلیلیں، دیسی ساختہ ہتھیار، کٹانا تلوار اور ایئر سافٹ ہتھیار قبضے میں لیے گئے ۔پیرس پولیس نے بعد میں بتایا کہ دارالحکومت میں 65 افراد کو گرفتار کیا گیا۔ ممکنہ لوٹ مار کے خدشے کے پیش نظر متعدد دکانوں کے شیشوں پر حفاظتی تختے لگائے گئے ، جبکہ لوور اور میوزے دورسے عجائب گھر بھی بند رہے ۔ فرانس میں فروری میں مشرقِ وسطیٰ کی جنگ شروع ہونے کے بعد خصوصاً ایندھن کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے ۔ اٹلی، بیلجیئم، سپین اور پرتگال میں بھی مختلف مسائل پر احتجاج جاری ہے ، جن میں مہنگائی اور تعلیم سے متعلق شکایات مشترک ہیں۔ سپین کے دارالحکومت میڈرڈ میں ڈھائی لاکھ افراد نے احتجاجی مارچ کیا۔ بیلجیئم کے دارالحکومت برسلز میں پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں ہوئیں۔ پولیس نے ہجوم کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس اور مرچوں کا اسپرے استعمال کیا ۔ البانیہ کے دارالحکومت تیرانا میں حکومت مخالف مظاہروں کے دوران ہفتے کو ہزاروں افراد نے بھرپور احتجاج کیا ۔ پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس، واٹر کینن اور ربڑ کی گولیاں استعمال کیں۔ اٹلی نے میلان میں سڑکوں پر تشدد کے بعد 500 فوجی تعینات کیے ہیں۔

 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...