طالبان رجیم پاکستان کے سکیورٹی خدشات دور کرے :وزارت اطلاعات
پاکستان کو موردِ الزام ٹھہرا کر طالبان حکومت دہشتگردی سے بری الذمہ نہیں ہو سکتی
اسلام آباد (دنیا رپورٹ ،اے پی پی )وزارت اطلاعات و نشریات نے افغان طالبان حکومت کے حالیہ بیانات ،جن میں پاکستان کے سلامتی سے متعلق جائز اور دیرینہ خدشات دور کرنے کی بجائے ایک بار پھر توجہ ہٹانے کے لئے الزام تراشی کی گئی ہے ، کا نوٹس لیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے سکیورٹی اداروں کو مورد الزام ٹھہرانے سے افغان طالبان حکومت اپنی اس ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتی ، افغان سرزمین پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال ہونے سے روکنا افغان طالبان رجیم کی ذمہ داری ہے ، اسے چاہئے کہ وہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہ ہونے دے ،پاکستان کے خدشات محض قیاس آرائیوں پر مبنی نہیں ۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی تجزیاتی معاونت اور پابندیوں کی نگرانی کرنے والی ٹیم نے اپنی رپورٹ میں بھی افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی اور سرگرمیوں کا جائزہ لیا ، اسی طرح، امریکی لیڈ انسپکٹر جنرل کی جانب سے جنوری تا مارچ 2026ء کے دوران (Operation Enduring Sentinel) سے متعلق کانگریس کو پیش کی گئی رپورٹ میں بھی کہا گیا ہے کہ افغان طالبان ،تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کو افغان سرزمین سے کارروائیاں کرنے کی اجازت دیتے رہے ہیں۔ وزارتِ اطلاعات نے کہا کہ یہ جائزے افغان سرزمین پر دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہوں اور معاون نیٹ ورکس سے متعلق پاکستان کے خدشات کی سنگینی واضح کرتے ہیں ۔دستاویزی شواہد کی بنیاد پر سامنے آنے والے خدشات کا جواب نہیں ہے ، مسلح دہشت گردوں کی جانب سے پاک افغان سرحد پر دراندازی کی مسلسل کوششیں، پاکستان کی انسدادِ دہشت گردی کی کارروائیوں کے دوران افغان شہریوں اور دہشت گرد گروہوں کے ارکان کی ہلاکتیں، نیز دہشت گرد عناصر سے غیر ملکی اسلحے کی برآمدگی، ایسے معاملات ہیں جو سنجیدہ جانچ پڑتال کے متقاضی ہیں۔
بیان میں کہا گیا کہ پاکستان قندھار میں تعینات حکام سمیت افغان طالبان حکام کی جانب سے دہشت گرد گروہوں کی مبینہ سہولت کاری پر بھی خدشات کا اظہار کرتا رہا ہے ، ان خدشات کو محض تردید کے ذریعے مسترد نہیں کیا جا سکتا، بلکہ ان کے ازالے کے لئے قابلِ اعتماد وضاحت اور قابلِ تصدیق عملی اقدامات ضروری ہیں۔وزارتِ اطلاعات نے واضح کیا کہ پاکستان کے سکیورٹی اقدامات کا ہدف دہشت گردی کے خطرات ہیں ،بیان میں افغان طالبان حکومت پر زور دیا گیا کہ وہ تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی)، بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے ) اور ان سے وابستہ گروہوں سمیت تمام دہشت گرد تنظیموں کیلئے ہر قسم سہولت کاری اور حمایت ختم کرے ، وزارتِ اطلاعات کے مطابق پاکستان کے جائز سکیورٹی خدشات اور ضروری دفاعی اقدامات کو افغانستان کے خلاف دشمنی قرار دینے سے نہ اصل مسئلے سے توجہ ہٹائی جا سکتی ہے اور نہ ہی اسے حل کیا جا سکتا ہے ۔بیان میں کہا گیا کہ پاکستان اپنے شہریوں کی خودمختاری ،علاقائی سالمیت کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات جاری رکھے گا، تاہم پاکستان باہمی احترام، قابلِ تصدیق یقین دہانیوں اور دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہوں، معاون نیٹ ورکس اور سرحد پار دراندازی کے خلاف ٹھوس اقدامات کی بنیاد پر ذمہ دارانہ بات چیت کے لیے بدستور تیار ہے ۔وزارتِ اطلاعات نے زور دیا کہ خطے میں پائیدار امن اسی صورت ممکن ہے جب افغان طالبان حکومت افغان سرزمین سے ہونے والی دہشت گردی سے متعلق پاکستان کے بنیادی خدشات دور کرنے کے لیے قابلِ تصدیق اقدامات کرے ۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments