کراچی سمیت سندھ بھر کے ہسپتالوں میں طبی آلات ناکارہ، تحقیقات کا حکم
آڈٹ کے دوران انکشاف،کے ایم سی کے 10ہزار سے زائد ملازمین اوراسنادکی تصدیق کی جائے ، چیئرمین پی اے سی وزیراعلیٰ انسپکشن ٹیم ہسپتالوں سے متعلق تحقیقات کرکے 1ماہ میں رپورٹ دے ،نثار کھوڑوکی زیرصدارت اجلاس
کراچی (اسٹاف رپورٹر) پی اے سی نے کراچی میٹرو پولیٹن کارپوریشن کے ماتحت چلنے والی متعدد اسپتالوں سمیت سندھ بھر کے متعدد ہسپتالوں میں ایکسرے ، سی ٹی اسکین، الٹرا ساؤنڈ،ای سی جی مشینوں سمیت دیگر آلات کے فنکشنل نہ ہونے سے متعلق وزیراعلیٰ انسپکشن ٹیم کو تحقیقات کا حکم دیتے ہوئے سی ایم آئی ٹی سے ایک ماہ میں تحقیقاتی رپورٹ طلب کرلی۔ جمعرات کو پی اے سی کا اجلاس چیئرمین نثار کھوڑو کی صدارت میں کمیٹی روم میں ہوا، جس میں کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن کی 2024 اور 2025 کے آڈٹ پیراز کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں کمیٹی رکن طٰحہٰ احمد، میونسپل کمشنر کے ایم سی ابرار احمد جعفر سمیت دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی۔اجلاس میں اعتراض اٹھایا گیا کہ آڈٹ کے دوران کے ایم سی کے سوبھراج میٹرنٹی اسپتال سمیت متعدد اسپتالوں میں ایکسرے مشین، الٹرا ساؤنڈ، ای سی جی مشینوں سمیت دیگر مشینری نان فنکشنل ہے ۔ ایم ایس سوبھراج اسپتال نے بتایا کہ 2022 سے 2025 تک ایکسرے مشین خراب تھی جس کو مرمت کرکے اب فنکشنل کردیا گیا ہے ۔ پی اے سی چیئرمین نثار کھوڑو نے کہا کیا 20222 سے 2025 تک اتنے سال کے ایم سی کے فنڈز نہیں تھے جو ایکسرے مشین کی مرمت کرائی جاتی۔
کمیٹی رکن طٰحہ ٰاحمد نے کہا کے ایم سی اسپتال کی 4 سال تک ایکسرے مشین خراب پڑی رہنے سے مریضوں کو دشواری کا سامنہ کرنا پڑا، یہ کسی کی نااہلی ہے اور حالت یہ ہے سندھ بھر کے دیگر متعدد اسپتالوں میں ایم آ ر آئی مشینیں آپریٹ کرنے کے لئے یا توفنی اسٹاف نہیں یا مشینیں خراب کی جاتی ہیں تاکہ مریض باہر سے ایکسرے کرائیں۔چیئرمین نے کہا سندھ حکومت مفت علاج اور اسپتالوں میں مریضوں کو سہولیات فراہم کرنے کے لئے اربوں روپے فنڈنگ کر رہی ہے تو پھر ایکسرے مشینیں خراب پڑی رہنا افسران کی غفلت کے زمرے میں آتا ہے ، اس لئے افسران کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے کے ایم سی حکام سے استفسار کیا کہ کے ایم سی کے ماتحت کتنے اسپتال ہیں۔ میونسپل کمشنر کے ایم سی ابرار احمد جعفر نے بتایا کے ایم سی کے ماتحت 13 اسپتال ہیں اور میئر کے ساتھ اسپتالوں کا دورہ کرکے مریضوں کو خدمات فراہم کی جارہی ہیں۔ نثار کھوڑو نے کہا کی ایم سی کے اسپتالوں سمیت سندھ بھر کے اسپتالوں میں ایکسرے مشینیں فنکشنل ہیں یا نہیں اس سے متعلق سی ایم آئی ٹی تحقیقات کرے ۔ اس موقع پر پی اے سی نے سندھ بھر کے متعدد اسپتالوں میں ایکسرے ، الٹراساؤنڈ، سی ٹی اسکین ، ایم آر آئی، ای سی جی مشینیں خراب پڑی رہنے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن کے ماتحت چلنے والے متعدد اسپتالوں سمیت سندھ بھر کے متعدد اسپتالوں میں ایکسرے ، سی ٹی اسکین ، الٹرا ساؤنڈ،ای سی جی مشینوں سمیت دیگر آلات فنکشنل نہ ہونے سے متعلق وزیراعلیٰ انسپکشن ٹیم کو تحقیقات کا حکم دیتے ہوئے ایک ماہ میں رپورٹ طلب کرلی۔
پی اے سی نے کے ایم سی کے 10 ہزار سے زائد ملازمین کی تعلیمی ڈگریوں اور ملازمین کی فزیکل تصدیق کا حکم دیا۔ نثار کھوڑو نے استفسار کیا کے ایم سی ملازمین کی فزیکل تصدیق اور حاضری کے لئے بایو میٹرک سسٹم نصب کرنے کی ہدایت دی تھی اس سے متعلق رپورٹ اور ثبوت فراہم کریں اور یہ ہدایت اس لئے دی تھی، یہ تصدیق ابھی تک کیوں نہیں کی گئی ؟۔ میونسپل کمشنر نے بتایا کے ایم سی میں 10 ہزار ملازمین ہیں جن کی فزیکل تصدیق کے لئے کے ایم سی کے تمام محکموں کی سربراہان کو ہدایات دی گئی ہیں۔ پی اے سی نے کے ایم سی ملازمین کی فزیکل تصدیق اور حاضری کے لئے بائیو میٹرک نظام نہ لانے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کے ایم سی کے 10 ہزار سے زائد تمام ملازمین کی تعلیمی ڈگریوں، ملازمین کی فزیکل تصدیق کرانے اور حاضری کے لئے بائیو میٹرک نظام لانے کا حکم دیتے ہوئے چیف سیکریٹری کو عمل یقینی بنانے کی ہدایت کردی۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments