وزیراعلیٰ سندھ کی آسیان ممالک کے سفیروں سے ملاقات ،سرمایہ کاری کی دعوت
مشترکہ دلچسپی کو عملی تعاون میں تبدیل کرنے کیلئے سفارتی مشنز سے فعال رابطہ برقرار،تعاون، سہولت فراہم کرینگے سندھ اہم محل وقوع، بندرگاہی ڈھانچے کے باعث بین الاقوامی سرمایہ کاروں کیلئے خاطر خواہ مواقع رکھتا،مرادعلی شاہ
کراچی (اسٹاف رپورٹر) وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے جمعہ کو فلپائن اور آسیان کے دیگر رکن ممالک کو سندھ میں خصوصاً زراعت، فوڈ پروسیسنگ، ادویہ سازی، انفارمیشن ٹیکنالوجی، توانائی، معدنیات، صنعت، لاجسٹکس اور سیاحت کے شعبوں میں سرمایہ کاری کے وسیع مواقع سے فائدہ اٹھانے کی دعوت دی۔ وہ وزیراعلیٰ ہاؤس میں آسیان کے سفیروں، ہائی کمشنرز اور سفارت کاروں کے اعلیٰ سطح کے وفد سے گفتگو کر رہے تھے ، جس کی قیادت پاکستان میں فلپائن کے سفیر اور اسلام آباد میں آسیان کمیٹی کے چیئرمین ڈاکٹر ایمانوئل آر فرنانڈیز کر رہے تھے ۔ وفد میں انڈونیشیا کے سفیر لیفٹیننٹ جنرل (ر) چندرا وارسننتو سوکوتجو، ملائیشیا کے ہائی کمشنر داتو محمد اظہر مزلاں، میانمار کے سفیر وونا ہان، تھائی لینڈ کے سفیر رونگ وودی ویرا بوتر، انڈونیشیا کے قونصل جنرل مذکر ایم اے ، ملائیشیا کے قونصل جنرل محمد یونس ابراہیم، تھائی لینڈ کے قونصل جنرل سوراشیت بونٹینند، ویتنام کے تجارتی مشن کی سربراہ نگوین تھی دیپ ہا، کراچی میں فلپائن کے اعزازی قونصل جنرل ڈاکٹر عمران یوسف، برونائی دارالسلام کے نائب سربراہ مشن ایچ جے خیرالریجل حازم اور فلپائن کے سفیر کی اہلیہ ایلیشیا کالاؤ فرنانڈیز شامل تھیں۔ ملاقات کے دوران شریک سفیروں، ہائی کمشنرز اور سفارتی نمائندوں نے سندھ اور اپنے اپنے ممالک کے درمیان روابط مضبوط بنانے کے حوالے سے اپنی آرا پیش کیں۔ انہوں نے دوطرفہ تجارت کے فروغ، سرمایہ کاری میں اضافے ، ثقافتی اور تعلیمی تبادلوں کو وسعت دینے اور ادارہ جاتی و عوامی سطح پر قریبی روابط استوار کرنے کی اہمیت پر زور دیا۔سفارت کاروں نے اس امکان کو اجاگر کیا کہ ان کے ممالک اور سندھ ایک دوسرے کی مہارت، ٹیکنالوجی، تجربات اور کاروباری مواقع سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ انہوں نے زراعت، صنعتی ترقی، تعلیم، سیاحت، انفارمیشن ٹیکنالوجی، توانائی اور انسانی وسائل کی ترقی کے شعبوں میں مشترکہ اقدامات تلاش کرنے میں دلچسپی ظاہر کی۔وزیراعلیٰ نے ان تجاویز کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ سندھ حکومت مشترکہ دلچسپی کو عملی تعاون میں تبدیل کرنے کے لیے آسیان کے سفارتی مشنز سے فعال رابطہ برقرار رکھے گی۔
باقاعدہ روابط، علم کے تبادلے اور ادارہ جاتی تعاون سے دونوں فریق اپنی اپنی صلاحیتوں اور مہارت سے فائدہ اٹھا سکیں گے ۔مراد علی شاہ نے فلپائن اور آسیان کے دیگر رکن ممالک کو صوبے میں سرمایہ کاری کے متنوع مواقع سے فائدہ اٹھانے کی دعوت دی، خصوصاً زراعت، فوڈ پروسیسنگ، ادویہ سازی، انفارمیشن ٹیکنالوجی، توانائی، معدنیات، صنعت، لاجسٹکس اور سیاحت کے شعبوں میں۔ انہوں نے دورے پر آئے سفارت کاروں کو یقین دلایا کہ سندھ حکومت ممکنہ سرمایہ کاروں کو مکمل تعاون اور سہولت فراہم کرے گی۔ وفد کا خیرمقدم کرتے ہوئے وزیراعلیٰ مراد علی شاہ نے کہا کہ سندھ، بالخصوص کراچی، اپنی تزویراتی اہمیت کے حامل محل وقوع، مستحکم صنعتی بنیاد، بندرگاہی ڈھانچے ، ہنرمند افرادی قوت اور وسیع ملکی منڈی تک رسائی کے باعث بین الاقوامی سرمایہ کاروں کے لیے خاطر خواہ مواقع رکھتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ تجارت، سرمایہ کاری، زراعت، ادویہ سازی، تعلیم، دفاع اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں تعاون سے ان تعلقات کو مزید مضبوط بنایا جا سکتا ہے ۔
وزیراعلیٰ نے زراعت اور غذائی تحفظ کو تعاون کے اہم شعبے قرار دیتے ہوئے کہا کہ بالخصوص چاول کی تجارت، بیجوں کی تیاری، زرعی ٹیکنالوجی، فوڈ پروسیسنگ اور جدید زرعی طریقوں میں اشتراک کے وسیع امکانات موجود ہیں، پاکستان کے اہم تجارتی اور مالیاتی مرکز کی حیثیت سے کراچی بین الاقوامی کاروباری اداروں کو بڑی منڈیوں، بندرگاہی سہولتوں، صنعتی ڈھانچے اور مستحکم تجارتی نیٹ ورکس تک رسائی فراہم کرتا ہے ۔ انہوں نے آسیان کی کمپنیوں کو سندھ کے صنعتی زونز میں سرمایہ کاری کے مواقع تلاش کرنے اور مشترکہ منصوبوں، ٹیکنالوجی کی منتقلی اور نجی شعبے کے اشتراک کے ذریعے مقامی کاروباری اداروں کے ساتھ شراکت داری قائم کرنے کی دعوت دی۔وزیراعلیٰ نے سیاحت، تعلیم، فنی تربیت اور ثقافتی تبادلوں کے شعبوں میں تعاون مضبوط بنانے کی اہمیت پر بھی زور دیا۔ مراد شاہ نے پاکستان میں پرتگالی سفیر مسٹر پالو ڈومنگوز سے اپنی ملاقات میں پرتگالی کمپنیوں کو دعوت دی کہ وہ جدید ڈی سیلی نیشن ٹیکنالوجی کے ذریعے کراچی کی پانی کی بڑھتی ہوئی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے حکومت سندھ کے ساتھ شراکت داری کریں جبکہ توانائی کے شعبے میں سرمایہ کاری کے مواقع اور فٹ بال کے فروغ میں تعاون کے امکانات بھی تلاش کریں۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments