پی ٹی آئی حکومت گورنر راج میں فرق ظاہر ہو پائے گا؟

پی ٹی آئی حکومت گورنر راج میں فرق ظاہر ہو پائے گا؟

عوام کی نئے حکومتی بندوبست پر نظر،سرخروئی کیلئے کچھ کر دکھانا ہوگا

(تجزیہ:سلمان غنی)

وزیراعظم شہباز شریف نے خیبرپختونخوا سے تعلق رکھنے والے اپنے پارٹی ذمہ داران اور اراکین اسمبلی سے خطاب میں انہیں ایمرجنسی اور گورنر راج جیسے آئینی اقدامات پر اعتماد میں لیتے ہوئے واضح کیا کہ ہم نے  یہاں بحرانی کیفیت کے خاتمہ کے لئے مذاکرات کو بروئے کار لانے کی کوشش کی لیکن بات نہ بننے پر یہ اقدامات اٹھانا پڑے لہٰذا ملک قوم معاشی حالات کے لئے یہ فیصلے ضروری تھے اور اگر بروقت یہ فیصلے نہ ہوتے تو صوبے کو مزید نقصان پہنچ سکتا تھا لہٰذا ہمارے پاس گورنر راج اور ایمرجنسی کے سوا کوئی چارہ نہ تھا، وزیراعظم نے دہشت گردی کے رجحانات پر روشنی ڈالتے ہوئے خیبرپختونخوا کے عوام خصوصاً صوبہ کی پولیس فوج اور سیاسی رہنماؤں کی قربانیوں کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ معاملات یہاں تک کیونکر پہنچے اس کا مداوا ضروری تھا بار بار ہم نے مل کر دہشت گردی سے لڑنے کی بات کی افسوس اس پر تعاون نہ ہوا۔

وزیراعظم شہباز شریف نے خیبرپختونخوا کے لئے بڑے ترقیاتی پیکیج کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ہم خیبرپختونخوا میں امن ترقی اور خوشحالی کے پروگرام پر گامزن ہیں اور ہمارے ان اقدامات کے ثمرات جلد سامنے آئیں گے ۔جہاں تک ایمرجنسی اور گورنر راج کے عمل کا سوال ہے تو حالات کا رخ بتا رہا تھا کہ صوبائی حکومت وفاق سے مل کر دہشت گردی کے خلاف جنگ کو تیار نہیں تھی اور الٹا صوبائی حکومت نے کسی بھی آئینی آپشن کے خلاف ایک ماحول طاری کرنا شروع کر رکھا تھا اور عوام کے اندر ایسی تحریک پیدا کی جا رہی تھی کہ کسی بھی آئینی اقدام کی صورت میں عوام کا بڑا ردعمل سامنے آئے لیکن زمینی حقائق اس سے بالکل الٹ ثابت ہوئے آئینی آپشنز ناگزیر بنے تو نہ تو کوئی عوامی اور سیاسی ردعمل سامنے آیا بلکہ ان اقدامات کے بعد خود یہاں کی بڑی جماعت تحریک انصاف کے اندر بھی اختلافات شدت سے ظاہر ہورہے تھے ۔

لیکن اب ذمہ داری کا بوجھ اور چیلنج وفاقی حکومت اور خیبرپختونخوا کے گورنر اور مشاورتی کونسل پر ہے خودکش حملوں اور دہشت گردی کے حوالہ سے پہلی سی صورت تو نہیں لیکن اکا دکا واقعات ہوتے نظر آتے ہیں لہٰذا اب وفاقی حکومت کو اپنی ممکنہ صلاحیتیں بروئے کار لانا ہوں گی اور ہر حالت میں امن و استحکام قائم کرنا ہوگا کیونکہ اب کسی قسم کی ناکامی کا آپشن نہیں ہوگا اور وفاقی حکومت کے احکامات پر صوبائی مشینری اور امن و امان کے ذمہ دار اداروں کو ایمرجنسی اور گورنر راج کے نتائج ممکن بنانا ہوں گے اور جب تک پی ٹی آئی کی حکومت اور گورنر راج کے نتائج ممکن بنانا ہوں گے اور جب تک پی ٹی آئی کی حکومت اور گورنر راج کا فرق عوام پر ظاہر نہیں ہوگا ان آئینی اقدامات کے جواز میں حکومت سرخرو نہیں ہو پائے گی اس وقت سب سے اہم ضرورت پختونخوا کے عوام کے دلوں کو جیتنا ہے۔

وفاقی حکومت کی جانب سے 400ارب کے پیکیج پر عمل درآمد ہوتا بھی نظر آنا چاہئے اور یہی امر اور عمل عوام کو امن کے لئے ان کوششوں کا ساتھ دینے پر مجبور کرے گی بلاشبہ پختونخواکے عوام سلگتے مسائل سے دوچار ہیں ،پختونخوا میں پی ٹی آئی کی حکومتوں کو عوام کی تائید تو ملی لیکن عوام کے لئے ان حکومتوں کے لئے تائید کا فقدان تھا حکومتی ذمہ داران اپنے صوبہ کے عوام کی عدالت میں سرخرو ہونے کی بجائے اپنے لیڈر کی عدالت میں سرخرو ہونے پر کاربند ہیں اور اس عمل پر حکومتی وسائل کا استعمال ہوتا رہا اور اب بلاشبہ پختونخوا کے عوام نئے حکومتی بندوبست ان کے اقدامات اور اثرات پر نظر رکھتے نظر آ رہے ہیں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...