فٹ بال ہیروز کی دنیا
نپے تلے پاسز کے ماہر انٹرنیشنل مڈفیلڈر عبدالصمد
کراچی (امتیاز نارنجا) لیاری سے تعلق رکھنے والے عبدالصمد کے باڈی ڈاجز، عمدہ بال کنٹرول اوربروقت پاسز آج بھی یاد کئے جاتے ہیں۔ غلام رسول کی سات اولادوں میں عبدالصمد کا تیسرا نمبر ہے۔ 48سالہ عبدالصمد نے لکی اسٹار فٹبال کلب لیاری سے بحیثیت رائٹ ونگر اپنے فٹبال کیرئیر کا آغاز کیا۔ مشہور زمانہ گل محمد لین لیاری کی بلوچ الیون سے 17سال کھیلنے کے بعد استاد اقبال بلوچ کی دعوت پر بلوچ محمڈن لیاری میں 1995میں شامل ہوئے۔ کے پی ٹی، پاکستان اسٹیل اور کے ای ایس سی سے پروفیشنل فٹبال کھیلی، حبیب بینک کے عبدالطیف اور میراڈونا صمد کے پسندیدہ پلیئر اور کے ایم سی اسٹیڈیم پسندیدہ گراؤنڈ ہے۔ عبدالصمد بڑے بھائی محمد اقبال بلوچ کی تحریک پر فٹبالر بنے جب کہ ماسٹر امین اور قادر بخش پتلا نے ان کی کوچنگ کی۔ ملائشیا کیخلاف کے ایم سی اسٹیڈیم میں کئے گول کو اپنا پسندیدہ گول قراردیتے ہیں۔ 1984میں قومی کلر زیب تن کیا جب سعودی عرب کیخلاف اپنا پہلا انٹرنیشنل میچ کھیلا۔ 1986میں کوئٹہ، کراچی اور کوریا میں انٹرنیشنل ٹورنامنٹ کھیلے۔ علاوہ ازیں مسقط، ایران، عراق، مالدیپ، انڈونیشیا، بنگلہ دیش، چین، بھارت اور نیپال کیخلاف بھی اپنی صلاحیتوں کا بہترین مظاہرہ کرچکے ہیں۔ عبدالصمد کے چھوٹے بھائی غلام شبیر بھی انٹرنیشنل ہیں ان دنوں نیشنل بینک کی جونیئر ٹیم کے کوچ ہیں۔ ’’سی‘‘ لائسنس یافتہ غلام شبیر انڈر 13 فیسٹول کی فاتح ٹیم سندھ کے ہیڈ کوچ تھے۔ ان کے کزن ایوب تاج انٹرنیشنل ہیں، کزن محمد جان پی ڈبلیو ڈی اور سعید تاج کے ایم سی کی نمائندگی کرچکے ہیں۔ ان کے چھوٹے بھائی غلام علی بھی شاندار فٹبالر ہیں لیکن کوئی ڈپارٹمنٹ نہ ملنے کے باعث وہ قومی سطح پر متعارف نہ ہوسکے۔ عبدالصمد اعلیٰ پائے کے کھلاڑی ہیں لیکن اپنی غصیلی طبیعت کے باعث اکثر و بیشتر زیر عتاب رہے۔ عین شباب میں وہ کے ای ایس سی کی فٹبال ٹیم کو خداحافظ کہہ کر ڈیوٹی پر چلے گئے جس کی وجہ سے وہ مزید انٹرنیشنل میچوں میں قومی ٹیم کی نمائندگی سے محروم رہے۔ فارغ اوقات میں میوزک کے علاوہ گھر کے قریب مولوی عثمان پارک (بھیاباغ) میں نوجوان کھلاڑیوں کو ٹریننگ دیتے ہیں۔