بنگالی کرکٹرز کا دفاع مہنگا پڑگیا،محمد متھن کو قتل کی دھمکیاں
کبھی متنازعہ گفتگو کا حصہ نہیں رہا نہ کبھی ملک کیخلاف کوئی بات کی یہ زندگی کا پہلا موقع ہے جب اس نوعیت کے حالات کا سامنا کرنا پڑا وہ ایک تنظیم کے صدر اگر کھلاڑیوں کے حقوق پر بات نہ کریں تو عہدے کا کوئی مقصد نہیں،صدر بنگلادیش کرکٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن
ڈھاکہ (سپورٹس ڈیسک) بنگلادیش کرکٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن (سی ڈبلیو اے بی) کے صدر محمد متھن نے انکشاف کیا ہے کہ کھلاڑیوں کے حق میں موقف اختیار کرنے پر انہیں جان سے مارنے کی دھمکیاں دی گئی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ نہ صرف وہ خود بلکہ کچھ قومی ٹیم کے کھلاڑی بھی بھارت میں سیکیورٹی خدشات کے باعث شدید دبا کا شکار ہیں، جس کے باعث آئندہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں شرکت سے متعلق خدشات جنم لے رہے ہیں۔کرکٹ سے متعلق خبروں کی ویب سائٹ کرک بز سے گفتگو کرتے ہوئے محمد متھن نے کہا کہ انہیں بی سی بی کے ایک اعلیٰ عہدیدار کی جانب سے کھلاڑیوں کے خلاف توہین آمیز ریمارکس پر آواز اٹھانے کے بعد جان سے مارنے کی دھمکیاں موصول ہوئی ہیں۔ متھن نے کہا کہ یہ ان کی زندگی کا پہلا موقع ہے جب انہیں اس نوعیت کے حالات کا سامنا کرنا پڑا۔
ان کے بقول وہ کبھی متنازعہ گفتگو کا حصہ نہیں رہے اور نہ ہی انہوں نے کبھی ملک کے خلاف کوئی بات کی۔ان کا کہنا تھا کہ وہ صرف کرکٹ اور کھلاڑیوں کے مفاد میں بات کر رہے تھے ۔انہوں نے مزید کہا کہ اس معاملے میں کوئی ذاتی مسئلہ شامل نہیں، لیکن چونکہ وہ ایک تنظیم کے صدر ہیں، اس لیے اگر وہ کھلاڑیوں کے حقوق پر بات نہ کریں تو اس عہدے کا کوئی مقصد نہیں رہتا۔ان کا کہنا تھا ملک سے بڑھ کر کوئی نہیں، تاہم کھلاڑیوں کے حقوق کا تحفظ بھی ناگزیر ہے ۔محمد متھن نے انکشاف کیا کہ صرف انہیں ہی نہیں بلکہ بعض دیگر کھلاڑیوں کو بھی جان سے مارنے کی دھمکیاں موصول ہوئیں، تاہم اس بارے میں تاحال بنگلادیش کرکٹ بورڈ کو آگاہ نہیں کیا گیا۔