امریکی سفارتخانے ایران کے نشانے پر،اسرائیلی فوج لبنان میں داخل:ریاض میں سفارتخانہ،دبئی میں قونصل خانہ شعلوں کی نذر،کویت،بیروت میں سفارتخانے بند،متعدد ملکوں سے عملہ واپس مشرق وسطی سے امریکیوں کاانخلا
بحرین میں ا مریکی فضائی اڈا تباہ ، قطر نے یوریا ، پولیمر اورایلومینیم کی پیداوار روک دی ،حزب اللہ کا 3اسرائیلی فوجی اڈوں پر حملہ، امریکا،اسرائیل پر جہنم کے دروازے لمحہ بہ لمحہ مزید کھلتے جائیں گے :ترجمان پاسداران انقلاب تہران میں صدارتی دفاتر ، سرکاری ٹی وی کے ہیڈکوارٹرز پر بمباری ،مجلس خبر گا ن رہبری کی عمارت تباہ، ایران بات کرنا چاہتا مگر اب دیر ہوچکی :ٹرمپ ، حملے روکے جائیں :چینی وزیر خارجہ کا اسرائیلی ہم منصب کو فون
ریاض، تہران(نیوز ایجنسیاں)ایران نے منگل کے روز مشرقِ وسطٰی بھر میں معاشی اہداف اور امریکی تنصیبات پر اپنے حملے تیز کر دئیے ، جبکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کیلئے جنگ سے بچنے کی خاطر مذاکرات کی کوشش کرنا بیکار ہے ، اب بہت دیر ہو چکی ہے ۔جب ڈرون اور میزائل خلیجی ممالک میں تیل کی تنصیبات اور امریکی سفارت خانوں پر گرے ، تو واشنگٹن کے اتحادی اسرائیل نے ایران میں اہداف پر بمباری کی اور تہران کی حمایت یافتہ ملیشیا حزب اللہ سے لڑنے کیلئے اپنی فوج کو لبنان میں مزید اندر تک بھیج دیا۔دبئی میں ڈرون حملوں کے بعد امریکی قونصل خانہ شعلوں کی نذر ہوگیا، ڈرون کو تباہ کرنے کی کوشش کی گئی لیکن وہ بچ گیا ، پولیس نے ڈپلومیٹک ایریا کو گھیرے میں لے کرریسکیو کارروائیاں شروع کر دیں ، 80 فیصد کے قریب آگ بجھا دی گئی،فضا میں جیٹ طیاروں کی آوازیں بھی سنی گئیں۔سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں امریکی سفارتخانے کو دو ڈرون حملوں سے نشانہ بنایا گیا ۔زور دار دھماکوں کے بعد سفارتخانے کی عمارت میں آگ لگ گئی ۔
حملے کے وقت سفارتخانہ خالی تھا۔ا مریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ریاض میں امریکی سفارتخانے پر حملے کا جلد جواب دیا جائے گا۔اے ایف پی کے مطابق سعودی دارالحکومت ریاض میں غیر ملکی سفارتخانے اور غیر ملکی سفارتکاروں کی رہائش گاہوں میں سیاہ دھوئیں کے بادل دیکھے گئے ۔ ریاض میں امریکی سفارتخانے نے سعودی شہر ظہران میں متوقع حملے سے خبردار کیا۔ ظہران خلیج کے ساحل کے ساتھ مملکت کی بیشتر تیل اور گیس تنصیبات کا مرکز ہے ۔سفارتخانے نے سوشل میڈیا پر کہا کہ ظہران کے اوپر میزائل اور بغیر پائلٹ طیاروں (ڈرون)کے فوری حملے کا خطرہ ہے ، امریکی قونصل خانے کے قریب نہ آئیں۔ اردن میں امریکی سفارتخانہ سکیورٹی الرٹ کے باعث خالی کر دیا گیا۔کویت میں امریکی سفارتخانہ تاحکم ثانی بند کر دیا گیا ۔ایکس پر اپنی پوسٹ میں امریکی سفارتخانے نے لکھا کہ وہ تمام اپائنٹمنٹس کو منسوخ کر رہے ہیں۔ امریکا نے بیروت میں بھی سفارت خانہ غیر معینہ مدت کیلئے بند کر دیا، علاقائی کشیدگی کے باعث سفارت خانے کی سرگرمیاں بھی معطل رہیں گی۔امریکی محکمہ خارجہ نے سنگین حفاظتی خطرات کے پیشِ نظر امریکی شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ مشرقِ وسطٰی کے بیشتر حصوں سے فوری طور پر نکل جائیں۔یہ ہدایت ان شہریوں پر لاگو ہوتی ہے جو بحرین، مصر، ایران، عراق، اسرائیل، مغربی کنارے ، غزہ، اردن، کویت، لبنان، عمان، قطر، سعودی عرب، شام، متحدہ عرب امارات اور یمن میں موجود ہیں۔
امریکی محکمہ خارجہ نے بحرین، عراق، اردن، کویت، قطر اور متحدہ عرب امارات سے نان ایمرجنسی عملے کو واپس بلالیا ہے ۔امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مشرق وسطیٰ سے 9 ہزار امریکی خطے سے نکل چکے ہیں، مقاصد کے حصول تک کارروائیاں جاری رہیں گی ،ایران کو کسی صورت جوہری قوت حاصل نہیں کرنے دیں گے ، دبئی میں قونصل خانے کی پارکنگ میں ڈرون حملہ ہوا ، ایران میں آئندہ چند روز میں مزید طاقتور حملے ہوں گے ۔انہوں نے کہا خطے سے امریکیوں کو نکالنے کے لیے کام کر رہے ہیں ، امریکی سفارتی دفاتر براہ راست حملوں کی زد میں ہیں۔ایران کی اسلامی انقلابی گارڈ کور کے کمانڈر انچیف کے مشیر ابراہیم جباری نے انتباہ جاری کیا ہے کہ جو بھی جہاز آبنائے ہرمز سے گزرنے کی کوشش کرے گا اسے آگ لگا دی جائیگی ۔ایران کے پاسدارانِ انقلاب کے ترجمان علی محمد نائینی نے خبردار کیا کہ امریکا اور اسرائیل پر جہنم کے دروازے لمحہ بہ لمحہ مزید کھلتے جائیں گے ۔عمان میں دقم کی بندرگاہ پر ایک تیل کی ٹینکی کو ڈرون حملے میں نشانہ بنایا گیا ۔ گزشتہ ہفتے بھی اسی بندرگاہ کو ڈرون حملوں میں نشانہ بنایا گیا تھا۔عرب میڈیا کے مطابق ایران نے سلطنت عمان پر ہونے والے حملوں سے لاتعلقی کا اظہار کردیا۔ بحرین میں ایک حملے میں امریکی فضائی اڈا تباہ کر دیا گیا ۔نیوز ایجنسی فارس کا دعویٰ ہے کہ پاسداران انقلاب کے ڈرون اور میزائل حملے میں بحرین کے علاقے شیخ عیسیٰ میں امریکی کمانڈ اور وہاں کام کرنے والے عملے کو نقصان پہنچا۔
متحدہ عرب امارات میں ایک تیل ذخیرہ کرنے والے علاقے پر مار گرائے گئے ڈرون کے ملبے سے نقصان پہنچا۔ یوں لگتا ہے کہ ایران نے امریکی تنصیبات سے آگے بڑھ کر دیگر اہداف کو بھی نشانہ بنانا شروع کر دیا ہے ۔قطر کی سرکاری کمپنی قطر انرجی نے اعلان کیا کہ ایران کی جانب سے دو گیس پراسیسنگ پلانٹس پر حملے کے بعد وہ یوریا، پولیمر، میتھانول اور ایلومینیم سمیت بعض مصنوعات کی نچلی سطح کی پیداوار عارضی طور پر روک دے گی۔اس اعلان کے فوراً بعد لندن میٹل ایکسچینج میں ایلومینیم کی قیمت میں دو فیصد اضافہ ہو گیا۔ اسرائیلی فوج نے ایران میں صدارتی دفاتر پر متعدد بم گرانے کا دعویٰ کیا ہے ۔اسرائیلی فوج نے اعلان کیا کہ اس کی فضائیہ نے ایرانی سرکاری نشریاتی ادارے کے ہیڈکوارٹر ز کو تباہ کر دیا۔تہران کے مہرآباد ایئرپورٹ پر حملے کیے گئے جبکہ مشرقی تہران کے علاقے حکیمیہ کو بھی نشانہ بنایا گیا۔اسرائیلی فوج نے کہا ہے کہ ایرانی شہری تہران کے ایک صنعتی علاقے اور تہران کے قریب واقع پیام انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے آس پاس کے علاقوں کو چھوڑ دیں ۔روسی سرکاری جوہری کارپوریشن روساٹوم نے منگل کے روز کہا کہ اس نے ایرانی شہر بوشہر میں قائم جوہری بجلی گھر میں اپنی سرگرمیاں معطل کر دی ہیں ۔اس سے پہلے روساٹوم کے سربراہ الیکسی لیخاچیف نے کہا تھا کہ روس کے تعمیر کردہ اس پلانٹ کو بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث خطرہ لاحق ہے ۔
لیخاچیف نے کہا کہ بوشہر کے پلانٹ میں 600 سے زائد عملہ موجود تھا اور وہ ملک چھوڑ رہے ہیں۔ ایرانی میڈیا کے مطابق امریکی اور اسرائیلی حملوں نے اس عمارت کو نشانہ بنایا جہاں ایران کے نئے سپریم لیڈر کے انتخاب کیلئے قائم مجلس خبر گا ن رہبری کا دفتر واقع ہے ۔ قم میں اس عمارت کو فضائی حملے میں ملیامیٹ کر دیا گیا۔ مجلس خبرگان تقریباً 88 سینئر علماء پر مشتمل ایک کونسل ہے ۔ایران کی ہلالِ احمر سوسائٹی کا کہنا ہے کہ امریکی اور اسرائیلی حملوں میں ایران میں اب تک 787 افراد شہید ہو چکے ہیں۔دوسری جانب امریکا میں موجود انسانی حقوق کیلئے کام کرنے والے ادارے ھرانا کا کہنا ہے کہ اب تک ان حملوں میں 176 بچوں سمیت 742 افراد شہید ہوئے ہیں۔اسرائیلی وزیر دفاع نے کہا کہ اسرائیلی افواج کو اجازت دے دی گئی ہے کہ وہ لبنان میں مزید اہم سٹریٹجک مقامات پر پیش قدمی کریں اور کنٹرول حاصل کریں تاکہ اسرائیلی سرحدی آبادیوں پر حملوں کو روکا جا سکے ۔کچھ ہی دیر بعد فوجی ترجمان نے کہا کہ عملی طور پر شمالی کمان نے پیش قدمی کر لی ہے اور جیسا کہ ہم نے وعدہ کیا تھا، ہمارے شہریوں اور کسی بھی خطرے کے درمیان ایک حفاظتی بفر زون قائم کیا جا رہا ہے ۔لبنانی فوجی ذریعے کے مطابق اسرائیلی کشیدگی میں اضافے کے بعد لبنانی فوج نے جنوبی سرحد کے قریب تعینات اپنے دستے واپس اپنے اڈوں پر منتقل کر دئیے ہیں۔ اقوامِ متحدہ کے مہاجرین کے ادارے کے ترجمان نے کہا کہ 30 ہزار لبنانی اپنے گھروں سے بے دخل ہو کر اجتماعی پناہ گاہوں میں رجسٹر ہو چکے ہیں، جبکہ بہت سے لوگ سڑکوں کے کنارے اپنی گاڑیوں میں رات گزارنے پر مجبور ہیں۔ حزب اللہ کا دعویٰ ہے کہ اس نے اسرائیل کے تین فوجی اڈوں پر حملہ کیا ۔
ٹیلی گرام پر تین مختلف پوسٹس میں حزب اللہ نے کہا ہے کہ اس نے گولان کی پہاڑیوں میں موجود نافہ اڈے جبکہ شمالی اسرائیل میں میرون اور رمات ڈیوڈ فضائی اڈے کو ڈرونز سے نشانہ بنایا۔امریکی صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر لکھا کہ ان کا فضائی دفاع، فضائیہ، بحریہ اور قیادت ختم ہو چکی ہے ، وہ بات کرنا چاہتے ہیں، میں نے کہا اب بہت دیر ہو چکی ہے ۔ آبنائے ہر مز کو کھلوا یا جائے گا ، ضرورت پڑنے پر آبنائے ہرمز میں کمرشل جہازوں کے ساتھ امریکی نیوی جائے گی ۔چین کے وزیر خارجہ وانگ یی نے اسرائیل کے وزیر خارجہ جدعون ساعر سے ٹیلیفونک گفتگو میں خبردار کیا کہ بیجنگ ان حملوں کی مخالفت کرتا ہے ، یہ ختم ہونے چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ طاقت مسائل کا حقیقی حل نہیں ہے ، بلکہ یہ صرف نئے مسائل اور سنگین نتائج کو جنم دے گی۔ادھر اسرائیلی فوج نے منگل کے روز اعلان کیا کہ اس نے ایران میں ایک زیر زمین جوہری سائٹ پر حملہ کیا، جہاں کہا گیا کہ سائنسدان خفیہ طور پر ایک ایٹمی ہتھیار کے اہم جزو کی تیاری کر رہے تھے ۔فوج نے ایک نقشہ بھی دکھایا جس میں یہ سائٹ تہران کے مغربی مضافات میں واقع دکھائی گئی ہے ۔ فرانس کے صدر ایمانوئل میکخواں نے منگل کے روز کہا کہ فرانس مشرق وسطیٰ میں پھیلتے ہوئے تنازع کے جواب میں اپنا بحری بیڑہ چارلس ڈیگال بحیرہ روم بھیج دیا۔
صدر میکخواں نے ٹیلی ویژن خطاب میں کہامیں نے ایئرکرافٹ کیریئر چارلس ڈیگا ل ، اس کے فضائی اثاثے ، اور اس کے ساتھ موجود فریگیٹس کو بحیرہ روم کی طرف روانہ کرنے کا حکم دیا ہے ۔فرانس نے متحدہ عرب امارات میں اپنے بحری اور فضائی اڈوں کو ایرانی حملوں سے بچانے کے لیے رافیل لڑاکا طیارے بھی بھیج دئیے ہیں، یہ بات منگل کے روز وزیر خارجہ ژاں نوئل باریو نے کہی۔فرانس کی بحریہ، فضائیہ اور فوج کے سینکڑوں اہلکار متحدہ عرب امارات میں موجود ہیں۔ رافیل طیارے ابوظہبی کے نزدیک ظفرا بیس پر تعینات کیے گئے ہیں۔ برطانوی وزیرِ اعظم سر کیئر سٹارمر نے بھی بحری بیڑے ایئر ڈیفنس ڈسٹرائر ایچ ایم ایس ڈریگن کو روانہ کر دیا ہے جبکہ برطانیہ نے قبرص میں اپنے اڈے پر فضائی دفاع کو مضبوط کرنے کے لیے ڈرون تباہ کرنے کی صلاحیت کے حامل ہیلی کاپٹرز کو تعینات کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔منگل کے روز خلیج کے شہروں دوحہ، دبئی اور ابوظہبی میں زور دار دھماکوں کی آواز سنی گئی کیونکہ ایران خلیج میں میزائل اور ڈرون حملوں کی مہم جاری رکھے ہوئے ہے ۔اے ایف پی کے رپورٹرز نے کہا کہ قطر کے دارالحکومت اور متحدہ عرب امارات کے دبئی میں زور دار دھماکے سنے گئے ، جبکہ دو مقامی باشندوں نے اے ایف پی کو بتایا کہ انہوں نے ابوظہبی میں بھی دھماکے سنے ۔