عالمی صورتحال پر آج اہم اجلاس،وزیراعظم کی اپوزیشن کو بھی دعوت:شرکت عمران خان کیساتھ ملاقات سے مشروط:پی ٹی آئی
وزیر اعظم کے پاس آئیں ،سیاسی معاملات پر گفتگو ہوسکتی :رانا ثنا اللہ ، اچکزئی سے رابطہ ،بانی کو شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کرنیکا مطالبہ ،سیاست کو بالائے طاق رکھ کربات کریں:اعظم تارڑ مذاکرات میں پیشرفت کے باوجود حملہ کیاگیا، پاکستان ایران کیساتھ کھڑا ہے :اسحاق ڈار ، سینیٹ میں خطاب، ایوان کو اعتماد میں لیا جائے ،فضل الرحمن،قومی اسمبلی میں اظہار خیال
اسلام آباد(سٹاف رپورٹر،نامہ نگار،دنیا نیوز ،نیوز ایجنسیاں )ایران پر حملے سے پیدا صورتحال پر حکومت نے قومی اسمبلی اور سینیٹ کے پارلیمانی لیڈروں کواعتماد میں لینے کا فیصلہ کیا ہے اور اس حوالے سے وزیر اعظم نے اپوزیشن اتحاد کو ان کیمرہ اجلاس میں شرکت کی دعوت دی ہے تاہم تحریک انصاف نے انکار کر تے ہوئے شرکت عمر ان خان کے ساتھ ملاقات سے مشروط کردی ہے ،وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے اس حوالے سے کہا ہے کہ وزیراعظم نے پارلیمانی لیڈروں کو مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر اعتماد میں لینے کا فیصلہ کیا ہے ، پارلیمانی لیڈروں کا بند کمرے میں اجلاس آج ساڑھے گیارہ بجے ہو گا جس میں بریفنگ دی جائے گی ،وزیرقانون نے کہا کہ وزیر اعظم نے سب سے مشاورت کا فیصلہ کیا ہے ،اپوزیشن اراکین سے درخواست ہے کہ یہ نازک دور ہے ،ہم سب کو سیاست کو بلائے طاق رکھتے ہوئے بات کرنی چاہیے ، وزیر اعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن لیڈر محمود اچکزئی اور چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر کو بریفنگ میں شرکت کی دعوت دی ہے ، وزیر اعظم کا پیغام اپوزیشن رہنماؤں تک پہنچا دیا ہے ،انہوں نے واضح کیا کہ قومی سلامتی کے اجلاس میں شرکت کیلئے کوئی شرط ہے اور نہ ہی ہم کوئی شرط تسلیم کریں گے ،مزید کہا کہ اپوزیشن رہنما وزیر اعظم کے پاس آئیں ، سیاسی معاملات پر گفتگو ہو سکتی ہے ، ڈیڈ لاک اور بائیکاٹ کا خاتمہ ہونا چاہیے ، ادھرپاکستان تحریکِ انصاف کی سیاسی کمیٹی نے مشرق وسطیٰ جنگ کے حوالے سے حکومت کے ان کیمرہ اجلاس میں شرکت سے انکار کر دیا ہے۔
سیاسی کمیٹی کے اجلاس میں ملکی و غیر ملکی صورتحال پر تفصیلی غور کیا گیا ،اجلاس کے بعدجاری اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ عدالتی احکامات پر عملدرآمد اور عمران خان سے ملاقات تک اجلاس میں شرکت نہیں کریں گے ،کمیٹی نے عمران خان کے ذاتی معالجین کو رسائی نہ دینا ،آئینی حق اور عدالتی حکم کی خلاف ورزی قرار دیا اور کہا کہ بانی کو خفیہ طور پر ہسپتال منتقل کرنا اور صحت کی صورتحال چھپانا قانون کی خلاف ورزی ہے ، اجلاس میں مطالبہ کیا گیا کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کو فوری طور پر شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کر کے ذاتی معالجین کی موجودگی میں علاج یقینی بنایا جائے ،سیاسی کمیٹی نے ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جارحیت کی شدید مذمت کی گئی اور اسے بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا گیا، اجلاس میں ایران پر حملوں میں بے گناہ شہریوں اور 160 سے زائد طالبات کی شہادت پر گہرے دکھ کا اظہار کیا گیا اور ایرانی سپریم لیڈر اور احتجاج کے دوران جاں بحق افراد کیلئے فاتحہ خوانی کی گئی ،کمیٹی نے پرامن مظاہرین کے خلاف ریاستی تشدد اور طاقت کے استعمال کی بھی شدید مذمت کی اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا،افغانستان کے ساتھ کشیدہ صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا گیا،،علاوہ ازیں ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے محمود اچکزئی نے کہا کہ ہمارا موقف ہے کہ بریفنگ مخصوص ارکان کو نہیں پوری پارلیمنٹ کو دی جائے ، بہتر ہوگا بریفنگ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس یا کم از کم سینیٹ میں دیں ، چیئرمین تحریک انصاف بیرسٹر گوہر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کی ہدایات واضح ہیں، ایوان کے اندر اور باہر فیصلہ محمود اچکزئی کا ہوگا۔صحافی نے سوال اٹھایا کہ کیا بانی پی ٹی آئی عید سے پہلے جیل سے باہر آ رہے ہیں؟ چیئرمین پی ٹی آئی نے جواب دیا اللہ کرے آجائیں۔
اسلام آباد (اپنے رپورٹرسے ،سٹاف رپورٹر، نامہ نگار )نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار نے کہا کہ جوہری مذاکرات میں مثبت پیشرفت کے باوجود ایران پر حملہ کیا گیا،ایران ایٹمی ہتھیار نہ بنانے پر متفق ہوگیا تھا، آیت اللہ خامنہ ای کا قتل عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہے ۔ اس وقت پورے خطے میں غیر یقینی صورتحال ہے ، پاکستان فریقین کو میز پر لانے کیلئے متحرک ہے ، پاکستان دل و جان سے ایران کے ساتھ کھڑا ہے ، ملک کے اندر اس معاملے کو غلط رنگ دینا مناسب نہیں، ایران ایٹمی ہتھیار نہ بنانے پر متفق ہو گیا تھا، ایران پر حملہ ہوا تو پاکستان نے کھل کر اس کی مذمت کی۔ ایران کو سعودی عرب کی سرزمین حملوں کے لیے استعمال نہ ہونے کی یقین دہانی پاکستان نے لے کر دی۔ ہم امریکا اور ایران کے درمیان اسلام آباد میں ثالثی کے لیے تیار تھے ، دنیا میں صرف پاکستان نے ہی ایران کے خلاف حملے کی کھلے انداز میں مذمت کی،فریقین کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے پاکستان مسلسل کوششیں کر رہا ہے ۔ آیت اﷲ علی خامنہ ای کی شہادت پر وزیراعظم شہبازشریف نے یکم مارچ کو تعزیتی بیان جاری کیا۔گزشتہ تین دنوں میں کئی ممالک سے پاکستان رابطہ کر چکا ہے ،کوشش کی جارہی ہے کہ کسی طریقے ڈپلومیسی کو مذاکرات پر لایا جائے ۔ ڈائیلاگ کے ذریعے افہام و تفہیم کا معاملہ نکل آئے گا۔
جب جون میں حملہ ہوا تھا ایران پر ہم نے تب بھی معاملات سلجھانے کی کوشش کی تھی، ایران پر حالیہ حملے کے بعد پاکستان نے بیک ڈور میں رہ کر معاملہ سلجھانے کی کوشش کی ہے ۔ وزیراعظم اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے بہت متحرک اور مثبت کردار ادا کیا، سینیٹ میں اظہارخیال کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا کہ امریکا و اسرائیل کی جانب سے حملے کے جواب میں ایران نے خلیجی ممالک پر حملہ کر دیا، ایران نے کہا کہ امریکا کی بیسز پر حملہ کر رہے ہیں، وہاں ایئر پورٹس ہٹ کیے گئے ، ہمیں اس تنازع میں نہیں پڑنا چاہیے ، ان ممالک پر حملہ نہ ہوتا تو ہم امریکا اور اسرائیل کے حوالے سے ان کو ساتھ لیکر آواز بلند کرتے ، پاکستان نے ہر فورم پریہ موقف اپنایا کہ مسئلہ بین الاقوامی قوانین اور مذاکرات کے ذریعے حل ہونا چاہیے ،گزشتہ تین دنوں میں متعدد ممالک سے رابطے کیے گئے ،ایران پاکستان کا برادر اسلامی اور ہمسایہ ملک ہے اور پاکستان اپنی ذمہ داری پوری کرتا رہا ہے اور کرتا رہے گا۔ایران نے خود واضح کر دیا ہے کہ وہ جوہری ہتھیار نہیں بنائے گا اور تمام مسائل کا حل بات چیت اور سفارتی ذرائع سے نکالا جائے گا۔ پاکستان کی ثالثی کی پیشکش پر ایران کا ردعمل مثبت رہا،وہ پاکستان کاشکرگزار ہے ۔اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان نے جوہری توانائی کے پرامن استعمال کے حق میں ایران کی حمایت کی اور دنیا میں واحد ملک ہونے کا اعزاز حاصل کیا جس نے ایران پر حملے کی کھلے عام مذمت کی۔انہوں نے کہا کہ 12 سال بعد اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں اتفاق رائے سے قرارداد پاس ہوئی جس میں ایران سے پابندیاں ہٹانے کا کہا گیا۔ پاکستان نے 28 فروری کو سکیورٹی کونسل کا ہنگامی اجلاس بلایا اور ایران پر حملے کی مذمت کی۔
انہوں نے واضح کیا کہ حکومت خطے میں استحکام برقرار رکھنے اور تنازعات کو سفارتی ذرائع سے حل کرنے کی کوششوں میں پوری طرح مصروف ہے ۔انہوں نے کہاکہ ایران میں پاکستانی زائرین کے حوالے سے بھی اقدامات کئے جارہے ہیں۔انہوں نے کہاکہ پاکستانیوں کو فوری ویزہ فراہم کیاجارہا ہے اور وہاں پر پاکستانی سفارتخانے دن رات کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ابھی تک 46طلبا کو بھی ایران سے نکالا جاچکا ہے ،انہوں نے کہاکہ اس وقت پورے خطے میں غیر یقینی صورتحال ہے ،ہم نے ہر موقع پر اسرائیل کی مخالفت کی ہے ۔ پیپلز پارٹی کی پارلیمانی لیڈر سینیٹر شیری رحمان نے کہا کہ جنگیں بے رحم ہوتی ہیں اور مسائل کا حل مذاکرات میں ہے ۔پاکستان نے افغانستان کے ساتھ ہمیشہ بھائی چارے کا مظاہرہ کیا لیکن سرحدی جارحیت کے جواب میں دفاع کرنا لازمی تھا۔ پی ٹی آئی کے پارلیمانی لیڈر سینیٹر سید علی ظفر نے کہا کہ ایران پر اسرائیلی اور امریکی حملے کی وہ پی ٹی آئی کی جانب سے مذمت کرتے ہیں۔ اسرائیل اورامریکہ نے خطرناک راستہ کاانتخاب کیا ،انھوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان اگر آج ہوتے تو یہ صورتحال نہ ہوتی۔ دریں اثنا قو می اسمبلی میں اسرائیلی جارحیت کے خلاف ارکان پا رلیمنٹ پھٹ پڑے ۔
اس حولے سے اراکین نے جذباتی تقاریر بھی کیں ۔ ڈاکٹر طارق فضل چودھری نے کہا کہ ایجنڈے پر مشتمل کچھ بلز کے علاوہ معمول کا ایجنڈا معطل کرکے خطے کی موجودہ صورتحال پر بحث کرائی جائے ۔انہوں نے تحریک پیش کی جس کی ایوان نے منظوری دے دی۔ مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ ان کیمرا اجلاس ہونا چاہیے جس میں ایوان کو اعتماد میں کیا جائے ۔اپوزیشن رکن انیقہ مہدی نے کہا کہ سچ کے لئے ڈٹ جانا ہی دین کا درس ہے ،خودداری قیمت مانگتی ہے ،آیت اللہ خامنہ ای نے جان دے دی لیکن باطل کے سامنے جھکنے سے انکار کردیا۔پیپلز پارٹی کے رکن عبدالقادر پٹیل نے کہا کہ اللہ کریم پاک فوج اور ہمارے محافظین کو منافقوں سے بچائے اور غیروں کی سازشوں سے وطن عزیز کو محفوظ بنائے اور اس عفریت کا مقابلہ کرنے کی توفیق دے ،امت مسلمہ کے سب سے عظیم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے 86 سال کی عمر میں شہادت کا جام نوش کیا،امت مسلمہ کو متحد ہونا ہوگا،امت مسلمہ پر برپا مظالم پر خاموش نہیں رہنا چاہئے ۔
اپوزیشن رکن گوہر علی خان نے بھی خطہ کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ایران پر حملے کی مذمت کی ،ایم کیو ایم کی رکن آسیہ اسحاق نے کہا کہ پاکستان کی طرف جو میلی آنکھ سے دیکھے گا اسکی آنکھ پھوڑ دیں گے ،افغان طالبان کو پاکستان منہ توڑ جواب دے رہا ہے ۔ سحر کامران نے کہا کہ وہ آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت پر تعزیت کا اظہار کرتی ہیں،وہ اسلام کے علمبردار تھے ، نثار جٹ نے کہا کہ وزیر اعظم ٹرمپ کو نوبل انعام دینے کا بیان واپس لیں ۔ شہلا رضانے کہاکہ بلوچستان اورخیبرپختونخوا کی صورتحال اس بات کاتقاضا کرتی ہے کہ ہمیں متحد ہونا پڑے گا ۔ میرغلام علی تالپورنے کہاکہ پاکستان سے لیکرترکیہ تک اسلامی ممالک کے خلاف کارروائی ہورہی ہے ۔شاندانہ گلزار نے کہا کہ ہمیں جاگنا ہو گا۔ وزیرقانون وانصاف اعظم نذیرتارڑ نے کہا کہ خطہ اورمشرق وسطیٰ میں کشیدگی اورجنگ کی صورتحال کے تناظر میں مشترکہ لائحہ عمل مرتب کرکے اتفاق رائے سے آگے بڑھنے کی ضرورت ہے ،بعد ازاں قومی اسمبلی کا آج سہ پہر 3 بجے تک ملتوی کر دیا گیا