شائقین کے بغیر سپر لیگ، بورڈ کو کروڑوں کا نقصان

شائقین کے بغیر سپر لیگ، بورڈ کو کروڑوں کا نقصان

شائقین کے بغیر سپر لیگ، بورڈ کو کروڑوں کا نقصان گزشتہ سال شائقین کی آمد سے تقریباً 50 کروڑ کی آمدنی حاصل ہوئی تھی

لاہور(سپورٹس ڈیسک)پی سی بی نے حکومتی کفایت شعاری مہم کے تحت پاکستان سپر لیگ کے گیارہویں ایڈیشن کو محدود پیمانے پر صرف دو شہروں میں اور تماشائیوں کے بغیر کرانے کا فیصلہ کیا ہے تاہم اس فیصلے کے مالی اثرات پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔گزشتہ سال سٹیڈیمز میں شائقین کی آمد سے تقریباً 50 کروڑ روپے کی آمدنی حاصل ہوئی تھی جو اب مکمل طور پر ختم ہو جائے گی۔ ایسے میں یہ اہم سوال سامنے آتا ہے کہ اس خسارے کو کیسے پورا کیا جائے گا۔پی ایس ایل کے مالیاتی نظام کے مطابق ٹکٹوں سے حاصل ہونے والی رقم کسی ایک ٹیم کو نہیں ملتی بلکہ اسے ایک مرکزی ریونیو پول میں شامل کر دیا جاتا ہے جسے پی سی بی خود منظم کرتا ہے ۔ اس پول میں براڈکاسٹنگ رائٹس، سپانسرشپ اور دیگر ذرائع سے حاصل ہونے والی آمدنی بھی شامل ہوتی ہے ۔ریونیو کی تقسیم ایک طے شدہ فارمولے کے تحت ہوتی ہے ، جس میں پی سی بی تقریباً پانچ فیصد سے کچھ زائد حصہ رکھتا ہے جبکہ 90 فیصد سے زیادہ رقم تمام فرنچائزز میں برابر تقسیم کی جاتی ہے ۔ چونکہ گیٹ منی بھی اسی مرکزی پول کا حصہ ہوتی ہے ، اس لیے یہ نقصان تمام ٹیموں پر یکساں اثر ڈالے گا۔ تاہم پی سی بی نے اعلان کیا ہے کہ وہ اس خسارے کو خود برداشت کرے گا۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں