کرکٹ ٹیم میں اکھاڑ پچھاڑ پر سابق کرکٹرز حیران ،مصباح الحق مستعفی
پی سی بی میں گھبراہٹ ،بوکھلاہٹ میں فیصلے کیے جا رہے :رمیز ،ٹیسٹ کیلئے ٹی20 پلیئرز کا انتخاب سمجھ سے بالا تر:شاہد آفریدی مسلسل تبدیلیاں ہی مسائل کی وجہ:مکی آرتھر، بابر کیلئے ٹاس کے وقت بتانا مشکل ہوگا ٹیم میں کون شامل :کیون پیٹرسن کا طنز کرک انفو کے مطابق پی سی بی نے ابھی تک مصباح الحق کا استعفیٰ منظور نہیں کیا نوٹس پیریڈ کا بتا دیا جس کے بعد کرکٹ بورڈ سے الگ ہو جائیں گے :ذرائع
لندن (رائٹرز )انگلینڈ کے ہاتھوں دو عبرتناک شکستوں کے بعد پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کی جانب سے 7 کھلاڑیوں اور ہیڈ کوچ کو ٹیم سے ہٹانے کے فیصلے پر سابق کپتانوں اور کوچز نے شدید ردعمل کا اظہار کیا۔ انہوں نے اس اچانک اکھاڑ پچھاڑ کو گھبراہٹ میں کیا گیا انتشار پر مبنی فیصلہ قرار دیا۔سابق کپتان اور پی سی بی کے سابق چیئرمین رمیز راجا نے بی بی سی ریڈیو سے گفتگو کرتے ہوئے کہا میں خود کو یہ یقین دلانے کی کوشش کر رہا ہوں کہ سب کچھ ٹھیک ہے ، لیکن ایسا نہیں ہے ۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ میں گھبراہٹ طاری ہوچکی ہے اور بوکھلاہٹ میں فیصلے کیے جا رہے ہیں۔سابق آل راؤنڈر شاہد آفریدی نے کہا کہ انہیں ٹیسٹ سیریز کیلئے وائٹ بال کے کھلاڑیوں کو منتخب کرنے کی کوئی منطق یا معقول وجہ دکھائی نہیں دیتی،متبادل کھلاڑیوں کا انتخاب بھی سمجھ سے بالاتر ہے ، انگلینڈ میں ٹیسٹ میچ کیلئے ٹی20 کھلاڑیوں کو شامل کیا گیا ہے ؟انہوں نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں سوال اٹھایا کہ یہ کیسی سوچ اور حکمتِ عملی ہے ؟
،کوچ کو صرف 5 ٹیسٹ میچوں کے بعد کیوں فارغ کردیا گیا؟،یہ سلیکشن کمیٹی کا اب تک کا سب سے حیران کن فیصلہ ہے ، جس میں اتنے تجربہ کار سلیکٹرز شامل ہیں۔سلیکشن کمیٹی میں سابق کپتان مصباح الحق بھی شامل ہیں جنہوں نے استعفیٰ دے دیا ہے ، تاہم کرک انفو کے مطابق پی سی بی نے ابھی تک ان کا استعفیٰ منظور نہیں کیا۔مصباح الحق کے قریبی ذرائع کے مطابق سابق کپتان نے سلیکشن کمیٹی سے علیحدگی کا فیصلہ کیا ہے ، تاہم ان کے استعفے کی وجوہات اور باقاعدہ طور پر استعفیٰ جمع کرانے کے حوالے سے مزید تفصیلات سامنے نہیں آسکیں۔ذرائع کا بتانا ہے کہ مصباح الحق کا نوٹس پیریڈ شروع ہو گا، انہوں نے نوٹس پیریڈ کا پی سی بی کوبتا دیا ہے اور وہ اپنے نوٹس پیریڈ کے بعد پی سی بی سے الگ ہو جائیں گے ۔2016 سے 2019 تک پاکستان کرکٹ ٹیم کے کوچ رہنے والے مکی آرتھر نے کہا کہ تیسرے ٹیسٹ سے قبل پی سی بی نے انتہائی مضحکہ خیز فیصلے کیے ہیں۔
پاکستان کو سیریز میں وائٹ واش سے بچنے کیلئے اگلے ہفتے ہونے والا تیسرا ٹیسٹ لازمی جیتنا ہوگا۔مکی آرتھر نے لکھا یہی وجہ ہے کہ وہ اس مشکل صورتحال سے دوچار ہیں، کیونکہ وہ مسلسل کھلاڑیوں، کوچز اور سلیکٹرز کو تبدیل کرتے رہتے ہیں اور ٹیم میں کوئی استحکام نہیں۔ منصوبہ بندی، استحکام اور مضبوط ڈھانچہ ہی مستقل کارکردگی کی ضمانت ہیں۔انگلینڈ کے سابق بلے باز کیون پیٹرسن نے لکھا ٹیم میں اتنی زیادہ تبدیلیاں ہو رہی ہیں کہ بابر اعظم کیلئے ٹاس کے وقت یہ بتانا بھی مشکل ہوگا کہ ٹیم میں کون کون سے کھلاڑی شامل ہیں۔ پیٹرسن نے اسی صورتحال پر طنز کرتے ہوئے کہا شاید ٹاس بھی ایک رات پہلے کر لینا چاہیے ۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments