ڈائنوسارز کی پسندیدہ خوراک معدومیت سے کیسے بچی ؟

ڈائنوسارز کی پسندیدہ خوراک معدومیت سے کیسے بچی ؟

واشنگٹن(نیٹ نیوز)کھجوروں کے پیڑ کی طرح دِکھنے والے پودے جنہیں نخلی اور انگریزی میں cycads کہا جاتا ہے، نے 252 ملین سال پہلے کے Mesozoic دور کے دوران ڈائنوسار اور دیگر قدیم جانداروں کی پسندیدہ خوراک کے طور پر کام کیا۔

لیکن ڈائنوسار کی طرح زیادہ تر نخلی پودے معدوم ہو چکے ہیں سوائے چند نسلوں کے جو آج تک زندہ ہیں۔ نیچر ایکولوجی اینڈ ایوولوشن نامی جریدے میں شائع ہونے والی ایک نئی تحقیق میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا ہے کہ نخلی پودوں کی نسلیں جو زندہ رہیں وہ اپنی جڑوں میں موجود سمبیوٹک بیکٹیریا پر انحصار کرتی ہیں جو انہیں باقی پو دوں کی طرح نشونما کیلئے نائٹروجن فراہم کرتا ہے۔ نخلی پودے ماحول سے جذب ہونے والی نائٹروجن کے بدلے اپنی جڑوں میں موجود بیکٹیریا کے ساتھ اپنے اندر موجود قدرتی شوگر کا تبادلہ کرتے ہیں۔اسی لئے یہ معدومیت سے بچے رہے۔

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں