ہاتھی نے خاندان کے چار افراد ڈھونڈ ڈھونڈ کر مار ڈالے
نیپال(نیٹ نیوز)نیپال کے چتوان نیشنل پارک سے نکلنے والا خطرناک جنگلی ہاتھی دھوربے گزشتہ 14 برس سے ایک ہی خاندان کے لیے خوف کی علامت بنا ہوا ہے ۔
اس ہاتھی نے 2012 میں میاں بیوی کو ہلاک کیا تھا اور اب 2026 میں اسی خاندان کے مزید دو افراد کو موت کے گھاٹ اتار دیا، جس کے بعد ایک ہی خاندان کے چار افراد اس کے حملوں میں جان گنوا چکے ہیں۔سرکاری ریکارڈ کے مطابق دھوربے اب تک کم از کم 25 افراد کو ہلاک کر چکا ہے ۔ دھوربے نے پہلی مرتبہ 2010میں انسانی آبادیوں پر حملے شروع کیے تھے ۔ اس کے بعد سے وہ کم از کم 25 افراد کو ہلاک کر چکا ہے ، ماہرین کے مطابق بالغ نر ہاتھیوں کو ایک عمر کے بعد ان کے غول سے الگ کر دیا جاتا ہے ، جس کے بعد وہ تنہا زندگی گزارتے ہیں۔ بعض اوقات یہی تنہائی اور خوراک کی تلاش انہیں انسانی آبادیوں کی طرف لے آتی ہے ۔