پانی میں تیرتا سب سے بڑا آئس برگ 40 سال بعد ختم
انٹارکٹکا(نیٹ نیوز)دنیا کا سب سے بڑا آئس برگ 40 سال بعد غائب ہوگیا۔میڈیا رپورٹس کے مطابق اے 23اے نامی دنیا کا سب سے بڑا آئس برگ انٹارکٹکا اور جنوبی بحر کے پانیوں میں تقریباً 40 سال تک تیرتے رہنے کے بعد اب تقریباً مکمل طور پر ختم ہو چکا ہے۔
آئس برگ 1986 میں انٹارکٹکا کے فلچنر آئس شیلف سے الگ ہوا تھا، 1991 میں اے 23نامی ایک بڑے آئس برگ سے الگ ہونے کے بعد اسے اے 23اے کا نام دیا گیا۔اپنے عروج کے وقت اے 23اے کا رقبہ تقریباً 2ہزار مربع میل پر محیط تھا جو تقریباً بالی جزیرے کے برابر ہے ۔ یہ کئی دہائیوں تک ویڈل سی میں پھنسا رہا اور اس کا نچلا حصہ سمندر کی تہہ پر ٹکا ہوا تھا، یہ آئس برگ 2020 میں حرکت کرنے لگا اور جنوبی سمندر کے کھلے پانیوں تک پہنچنے کے بعد رفتہ رفتہ اپنے اختتام کو پہنچ گیا ہے۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments