ایوب زرعی تحقیقاتی ادارہ میں کلائمیٹ کاشتکاری پر سیمینار

 ایوب زرعی تحقیقاتی ادارہ میں کلائمیٹ کاشتکاری پر سیمینار

کلائمیٹ کاشتکاری،زرعی تحقیق کو بہتر بنانے کیلئے کردار ادا کرینگے ، ڈاکٹر نوید

فیصل آباد(خصوصی رپورٹر)موسمیاتی تبدیلیوں پرزرعی شعبے کے مسائل، فصلوں کی پیداوار میں کمی اور غذائی تحفظ کو لاحق خطرات سے نمٹنے کیلئے ایوب زرعی تحقیقاتی ادارہ فیصل آباد میں کلائمیٹ سمارٹ کاشتکاری کے جدید طریقے پر سیمینار ہواجسکا اہتمام سوسائٹی آف ایگرونومی نے ایگرونومک ریسرچ انسٹیٹیوٹ کے تعاون سے کیا۔ چیف سائنٹسٹ ایگریکلچرل ریسرچ ڈاکٹر ساجد الرحمٰن نے خطاب میں کہا موسمیاتی تبدیلیوں نے روایتی زرعی نظام کو بری طرح متاثر کیا ہے ، جس سے کاشتکاروں کو شدید معاشی مشکلات کا سامنا ہے۔

موجودہ حالات میں کلائمیٹ سمارٹ کاشتکاری اپناناضروری ہے ۔ انہوں نے متوازن کھادوں، پانی کے مؤثر انتظام اور جدید زرعی ٹیکنالوجی کے ذریعے قدرتی وسائل کے تحفظ پر زور دیا۔اس موقع پر سوسائٹی آف ایگرونومی کے نو منتخب صدر ڈاکٹر نوید اختر نے عہدے کا حلف اٹھایا اور خطاب کرتے کہا وہ کلائمیٹ سمارٹ کاشتکاری کے فروغ اور زرعی تحقیق کے معیار کو بہتر بنانے کیلئے بھرپور کردار ادا کرینگے ۔ زرعی یونیورسٹی کے ماہر ڈاکٹر فہد رسول نے کہا جدید طریقہ ہائے کاشت اپنا کر کم وسائل میں بھی زیادہ پیداوار حاصل کی جا سکتی ہے جو کسانوں کیلئے انتہائی سودمند ثابت ہوگی۔

سیمینار میں سابق پرو وائس چانسلر زرعی یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر آصف تنویر، ڈائریکٹر SAWIE ڈاکٹر تسنیم خالق، ڈائریکٹر ایگریکلچرل انفارمیشن ڈاکٹر آصف ، ڈاکٹر انتظار الحسن، حافظ نوید رمضان سمیت زرعی سائنسدانوں اور کاشتکاروں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ شرکا نے اتفاق کیا کہ پانی اور مٹی کے وسائل کا دانشمندانہ استعمال، موسمی حالات سے بروقت آگاہی اور کسانوں کی مسلسل تربیت ہی زرعی بحران کا واحد حل ہے ۔ آخر میں سوسائٹی کے نو منتخب عہدیداران نے عزم ظاہر کیا کہ وہ جدید تحقیق کو کسانوں کے کھیتوں تک پہنچانے اور زرعی شعبے کو مستحکم بنانے کیلئے عملی اقدامات جاری رکھیں گے ۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں