پہلے چالان پھر کلام شہریوں کو شدید مشکلات
چوک چوراہوں کے بجائے اب رہائشی علاقوں کی اندرونی سڑکوں پر بھی نا کے ، ٹریفک جام اور لمبی قطاریں معمول ،رکشہ اور ویگن مافیا نے بھی غیر قانونی سٹینڈ بنا لئے
فیصل آباد (عبدالباسط سے )فیصل آباد ٹریفک پولیس کی جانب سےپہلے سلام پھر کلام کے سلوگن کو نظر انداز کرتے ہوئے مبینہ طور پر پہلے چالان پھر کلام کا طرزِ عمل اختیار کر لیا گیا ہے ، جس پر شہریوں نے شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے ۔شہریوں کے مطابق شہر بھر کی مین شاہراہوں اور اہم مقامات پر ٹریفک کی روانی بہتر بنانے کے بجائے ٹریفک اہلکاروں کی تمام تر توجہ بھاری چالان کرنے پر مرکوز ہو چکی ہے ۔ بتایا جاتا ہے کہ چوک چوراہوں کے بجائے اب رہائشی علاقوں کی اندرونی سڑکوں پر ناکہ بندیاں کر کے شہریوں کو گھروں کے قریب ہی روک کر چالان کیے جا رہے ہیں۔دوسری جانب ٹریفک کی ناقص نگرانی کے باعث شہر کی بڑی شاہراہوں پر ٹریفک جام اور لمبی قطاریں معمول بن چکی ہیں، جس سے شہریوں کو روزانہ شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
ذرائع کے مطابق فیصل آباد جیسے بڑے شہر میں گاڑیوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے ، جس کے باعث ٹریفک کے مسائل بڑھتے جا رہے ہیں۔ تاہم شہریوں کا کہنا ہے کہ ٹریفک پولیس کی جانب سے ٹریفک کنٹرول کرنے کے بجائے چالان کے اہداف حاصل کرنے پر زیادہ توجہ دی جا رہی ہے ۔شہریوں نے مزید بتایا کہ پہلے ٹریفک پولیس مین شاہراہوں پر کارروائیاں کرتی تھی، لیکن اب رہائشی علاقوں میں بھی ناکہ بندیاں کر کے بلاجواز چالان کیے جا رہے ہیں، جس سے عوام میں بے چینی پائی جاتی ہے ۔شہریوں کا کہنا ہے کہ ٹریفک پولیس کی مبینہ غفلت کے باعث تجاوزات مافیا نے سڑکوں پر قبضہ جما رکھا ہے جبکہ رکشہ اور ویگن مافیا نے غیر قانونی سٹینڈز قائم کر لیے ہیں، جس سے ٹریفک کی روانی مزید متاثر ہو رہی ہے ۔شہریوں نے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ ٹریفک پولیس کی کارکردگی کو بہتر بنایا جائے اور شہر میں مؤثر اور منظم ٹریفک نظام قائم کرنے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں تاکہ عوام کو سہولت میسر آ سکے ۔