جعلی الاٹمنٹ سکینڈل: میونسپل کارپوریشن کے 2 اہلکاروں کو سزا
ایک اہلکار برطرف، دوسرے کی 3 سالہ سروس ضبط ، پیڈا ایکٹ انکوائری کے بعد کارروائی ، ریکارڈ ضائع کرنے کا انکشاف
فیصل آباد (ذوالقرنین طاہر سے ) روزنامہ دنیا کی نشاندہی پر میونسپل کارپوریشن کی قیمتی سرکاری ملکیت کی جعلی الاٹمنٹ کے معاملے میں بڑا ایکشن لیتے ہوئے سابق انفورسمنٹ انسپکٹر و جونئیر کلرک اور رینٹ انسپکٹر کو سزا سنا دی گئی ہے ۔ذرائع کے مطابق کمشنر فیصل آباد کے احکامات پر نیاز حسین کو نوکری سے برخاست جبکہ ارشاد حسین کو تین سالہ سروس ضبطگی کی سزا سنائی گئی۔ چیف آفیسر نے فیصلے کی تصدیق کرتے ہوئے کمشنر کے احکامات پر عملدرآمد کی تصدیق کی ہے ۔تفصیلات کے مطابق روزنامہ دنیا نے 19 جنوری 2026 کو خبر شائع کی تھی جس میں انکشاف کیا گیا کہ سینٹ رافیل ہسپتال کے سامنے واقع قیمتی دکان تقریباً 45 سال قبل ایک خاتون کے نام الاٹ تھی، جسے مبینہ طور پر رشوت لے کر غیر قانونی طور پر کسی اور کے نام منتقل کر دیا گیا۔سابق الاٹی کی تحریری درخواست پر اس وقت کے کمشنر فیصل آباد کے حکم پر ایڈیشنل کمشنر (کنسولیڈیشن) نے فیکٹ فائنڈنگ انکوائری کی،
جس میں دونوں اہلکاروں کو سنگین بے ضابطگی اور کرپشن کا ذمہ دار قرار دیا گیا۔انکوائری رپورٹ کے مطابق 2008 تک تہہ بازاری ٹکٹ خاتون کے نام جاری ہوتا رہا، جبکہ 2008 سے 2016 تک ریکارڈ غائب رہا۔ بعد ازاں 2017 سے 2024 تک ٹکٹ غیر قانونی طور پر نئے الاٹی کے نام جاری کیا گیا۔رپورٹ میں یہ بھی سامنے آیا کہ بغیر مجاز اتھارٹی اجازت کے فارم A-XI چالان جاری کیا گیا اور سرکاری ریکارڈ میں سنگین بے ضابطگیاں کی گئیں۔ مزید یہ بھی کہا گیا کہ بعض ریکارڈ جان بوجھ کر ضائع کیا گیا۔ذرائع کے مطابق پیڈا ایکٹ انکوائری میں دونوں اہلکاروں کو برابر کا ذمہ دار قرار دیا گیا، تاہم ابتدائی طور پر کارروائی مؤخر کر دی گئی تھی۔ بعد ازاں کمشنر فیصل آباد نے سماعت کے بعد حتمی فیصلہ سنایا۔میونسپل کارپوریشن کے چیف آفیسر عثمان غنی نے تصدیق کی ہے کہ کمشنر و ایڈمنسٹریٹر کے احکامات پر من و عن عملدرآمد کیا جا رہا ہے ۔