ہر سال 50 ملین ایکڑ فٹ پانی ضائع ہونے کا انکشاف
نہروں سے فصلوں تک پانی کی ترسیل کے دوران ہونے والے ضیاع کو روکنا ناگزیر ، زرعی پیداوار اور ماحولیاتی تحفظ کے درمیان توازن قائم کرنا ضروری : ماہرین
فیصل آباد (نیوز رپورٹر) ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ نہروں سے فصلوں تک پانی کی ترسیل کے دوران ہونے والے بڑے پیمانے پر ضیاع کو روکنا ناگزیر ہے ۔ ان کے مطابق ملک میں غیر مؤثر آبپاشی نظام کے باعث ہر سال تقریباً 50 ملین ایکڑ فٹ پانی ضائع ہو جاتا ہے ، جو پانچ تربیلا یا سات منگلا ڈیموں کی ذخیرہ گنجائش کے برابر ہے ۔یہ بات زرعی یونیورسٹی فیصل آباد میں ‘‘فارم سطح پر موسمیاتی تبدیلی سے ہم آہنگ اور لچکدار آبی نظم و نسق’’ کے موضوع پر منعقدہ پالیسی ڈائیلاگ میں کہی گئی۔ تقریب کا اہتمام ایگریکلچرل پالیسی، لا اینڈ گورننس سینٹر نے آسٹریلین سینٹر فار انٹرنیشنل ایگریکلچرل ریسرچ، سی ایس آئی آر او آسٹریلیا اور پنجاب ہائر ایجوکیشن کمیشن کے تعاون سے کیا۔ڈائریکٹر زرعی پالیسی پروفیسر ڈاکٹر ایم آصف کامران نے کہا کہ پانی کے مسائل کا حل صرف بڑے انفراسٹرکچر منصوبوں میں نہیں بلکہ فارم کی سطح پر مؤثر اقدامات میں پوشیدہ ہے ،
جہاں آبپاشی کی کارکردگی تقریباً 50 فیصد ہے ۔ انہوں نے موسمیاتی لحاظ سے موزوں زراعت، زیر زمین پانی کے پائیدار استعمال اور شواہد پر مبنی پالیسی سازی کی ضرورت پر زور دیا۔سی ایس آئی آر او آسٹریلیا کے ڈاکٹر مبین الدین احمد نے زیر زمین پانی کے استعمال کی حدود مقرر کرنے ، پانی کے حساب کتاب کے نظام کو بہتر بنانے اور مستقبل میں دستیاب آبی وسائل کے مطابق فصلوں کے انتخاب کی اہمیت اجاگر کی۔ ان کا کہنا تھا کہ زرعی پیداوار اور ماحولیاتی تحفظ کے درمیان توازن قائم کرنا ضروری ہے ۔انجینئر کاشف منظور نے مٹی میں نمی ناپنے والے سینسرز اور آبپاشی شیڈولنگ ٹولز کے استعمال کو پانی کے ضیاع میں کمی کا مؤثر ذریعہ قرار دیا، جبکہ انجینئر مشتاق احمد گل نے پانی کے بہتر استعمال کے ساتھ دیہی روزگار اور معاشی مواقع کو بھی پالیسی سازی کا حصہ بنانے پر زور دیا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پروفیسر ڈاکٹر غلام مرتضیٰ اور پروفیسر ڈاکٹر بابر شہباز نے موسمیاتی تبدیلی، سیم و تھور، زیر زمین پانی کے معیار میں خرابی اور بڑھتی ہوئی آبی طلب جیسے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے طویل المدتی منصوبہ بندی اور مؤثر آبی نظم و نسق کی ضرورت پر زور دیا۔