اراضی ریکارڈ سنٹر جڑانوالہ کی کارکردگی ناقص ، شہری فرد ملکیت کے حصول کیلئے خوار
مالی لین دین اور عدالتی کارروائیاں بھی متاثر ،لینڈ ریکارڈ اتھارٹی کے قیام کا بنیادی مقصد جعل سازی کی روک تھام تھا ،منصوبہ شہریوں کے لیے درد سر بن گیا ،مراکز کی کارکردگی کا از سر نو جائزہ لینے کا مطالبہ
فیصل آباد (ذوالقرنین طاہر سے ) اراضی ریکارڈ سنٹر جڑانوالہ کی کارکردگی ضلع بھر میں سب سے ناقص قرار دی جا رہی ہے ۔ جڑانوالہ سمیت متعدد مراکز میں لنک ڈاؤن رہنے ، ریکارڈ اپ ڈیٹ نہ ہونے اور فرد کے اجرا میں غیر معمولی تاخیر کے باعث شہریوں کو مشکلات کا سامنا ہے ، جس سے مالی لین دین اور عدالتی کارروائیاں بھی متاثر ہو رہی ہیں۔تفصیلات کے مطابق پنجاب لینڈ ریکارڈ اتھارٹی کے قیام کا بنیادی مقصد روایتی پٹواری نظام کا خاتمہ، جعل سازی کی روک تھام اور شہریوں کو ایک ہی چھت تلے شفاف خدمات فراہم کرنا تھا، تاہم یہ منصوبہ شہریوں کے لیے درد سر بن گیا ہے ۔ پٹواریوں کی جانب سے فرد جاری نہ کیے جانے کے باوجود تمام موضع جات اور دیہات کا ریکارڈ تاحال مکمل طور پر ڈیجیٹلائز نہیں ہو سکا، جس کے باعث شہریوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
اراضی ریکارڈ سنٹر جڑانوالہ میں صورت حال مزید خراب ہونے کی شکایات سامنے آ رہی ہیں۔ الزام ہے کہ اسسٹنٹ ڈائریکٹر لینڈ ریکارڈ (اے ڈی ایل آر) کا اپنی نشست سے غیر حاضر رہنا معمول بن چکا ہے ۔ متعدد شہری صرف ایک فردِ ملکیت کے حصول کے لیے تین سے چار روز تک مسلسل دفتر کے چکر لگاتے رہتے ہیں، لیکن انہیں مطلوبہ دستاویز بروقت فراہم نہیں کی جاتی۔ شہریوں نے متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ اراضی ریکارڈ سنٹر جڑانوالہ سمیت تمام مراکز کی کارکردگی کا ازسرنو جائزہ لیا جائے ، سرور اور لنک کے مسائل مستقل بنیادوں پر حل کیے جائیں ۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments