فیلڈ مارشل خطے میں امن کیلئے تہران گئے، کوئی معاہدہ نہیں ہو رہا تھا: خواجہ آصف
اسلام آباد: (دنیا نیوز) وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر خطے میں صلح اور بات چیت کے لیے تہران گئے، ایران میں میری موجودگی ضروری نہ تھی، وہاں کوئی دفاعی معاہدہ نہیں ہو رہا تھا۔
قومی اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ حکمران ہوں یا دیگر، تمام سوالات کا مکمل احترام کرتا ہوں، مولانا فضل الرحمان نے حکومت کے مختلف طرزِ عمل پر تبصرہ کیا، مولانا فضل الرحمان نے مجھ پر بھی بھرپور تبصرہ کیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر نے گزشتہ سال فتح کے بعد بات چیت کا کردار ادا کیا، فیلڈ مارشل نے خطے میں مذاکرات کیلئے کردار ادا کیا، خطے میں صلح اور بات چیت کے لیے تہران گئے، امن کے قیام کیلئے ہمیشہ بات چیت کو اہمیت دی ہے۔
انہوں نے کہا کہ تہران میں کسی متعلقہ معاہدے پر کوئی بات نہیں ہو رہی تھی، تہران میں میری موجودگی ضروری نہیں تھی، مولانا فضل الرحمان کے اٹھائے گئے سوالات کا سوچا تھا کہ جواب دوں گا، تہران میں ہونے والی میٹنگ وزارتِ دفاع سے متعلق نہیں تھی۔
واحد سیاستدان ہوں جس نے ماضی پر معذرت کی
وزیر دفاع نے کہا کہ تہران میں سعودی وزیر دفاع اور ترک انٹیلی جنس چیف آئے تھے، وزیر دفاع نہیں، عالمی سطح پر پاکستان اور فیلڈ مارشل کے کردار کو سراہا جانا چاہئے۔
ان کا کہنا تھا کہ ایوان میں کوئی ایسی پارٹی نہیں جس سے اختلاف اور تعاون دونوں نہ رہے ہوں، مجھ پر جو نکتہ چینی کی گئی، وہ غلط جگہ پر کی گئی، مولانا فضل الرحمان نے میرے لحاظ سے جو تحفظات کا اظہار کیا، اس کا مشکور ہوں۔
انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان کا پاکستان کی سیاست میں اہم مقام ہے جس کا احترام کیا جاتا ہے، اعتراضات بھی سیاست کا حصہ ہیں، پیپلز پارٹی کے ساتھ ہمارے بہت سے اختلافات رہے ہیں، اختلافات پسِ پشت ڈال کر جو کامیابیاں حاصل کی ہیں، ان کا اعتراف کیا جانا چاہئے۔
خواجہ آصف کا مزید کہنا تھا کہ میں جب بول رہا ہوتا ہوں تو میرے دماغ میں اپنی کہی ہوئی باتیں رہتی ہیں، میں واحد سیاستدان ہوں جس نے ماضی پر معذرت کی، جب ہائبرڈ سسٹم سے متعلق بات کرتا ہوں تو مجھے میری ماضی کی تقریر یاد کرائی جاتی ہے۔
مولانا فضل الرحمان جب مجھے شرم کرنے کا کہتے ہیں تو خود بھی سوچ لیا کریں
انہوں نے کہا کہ جب آپ مجھے شرم کرنے کا کہتے ہیں تو خود بھی سوچ لیا کریں، ماضی میں مولانا فضل الرحمان حکومتوں کا حصہ بھی رہے ہیں، آپ مجھے طعنہ دیتے ہیں کچھ شرم کرو ، حیا کرو، آپ بھی تو کچھ شرم کریں ، حیا کریں، آپ کون سا آبِ زم زم سے دھلے ہیں، یہاں کوئی بھی اس بات کا دعویٰ نہیں کر سکتا۔
وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ کوئی پرانی بات نہیں، دو سال پہلے ان کے پاس کئی عہدے تھے، ماضی کو بھلا کر مخالفین پر حملہ کرتے ہیں تو کم از کم اپنا ماضی بھی دیکھ لینا چاہئے، پی ٹی آئی والے سیاسی یتیم ہوئے ہیں، انہوں نے بھی اپنے آپ کو مولانا کی چھتر چھایا تلے کر لیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان کون کون سی مراعات سے لطف اندوز ہوتے رہے ہیں، مولانا فضل الرحمان دس سال کشمیر کمیٹی کے چیئرمین رہے، مولانا بتا دیں کہ انہوں نے دس سال میں کشمیر کاز کی کیا خدمت کی ہے۔
سیاست اور مذہب کو کمائی کا ذریعہ بنا لیا
خواجہ آصف نے کہا کہ ہم نے مولانا کی تقریر تحمل سے سنی ہے، یہاں کسی پارٹی نے مذہب کو کمائی کا ذریعہ نہیں بنایا، انہوں نے مذہب کے نام پر کمائیاں کی ہوئی ہیں، یہاں پی ٹی آئی نے یا کسی دوسری جماعت نے مذہب کو کمائی کا ذریعہ نہیں بنایا۔
خیال رہے کہ خواجہ آصف کی تقریر کے دوران اسمبلی میں شور شرابا شروع ہوگیا، کچھ وقفے کے بعد خواجہ آصف کو پھر بات کرنے کا موقع دیا۔
انہوں نے کہا کہ عزت و آبرو کے ساتھ ان کی تقریر سنی ہے، انہوں نے پرسنل اٹیک کیے، اب مولانا کو خواتین کی حمایت کی ضرورت پڑ گئی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ مجھے میری اوقات کا پتہ ہے اور جو پوسچرنگ کرتے ہیں ان کا بھی پتہ ہے، مجھ سے ماضی نہ کھلائیں، ملک نے جب بھی دشمن پر فتح پائی، ان کی طرف سے کبھی حوصلہ افزائی نہیں کی گئی، دنیا بھر میں سراہا گیا لیکن ایوان میں بیٹھی اس جماعت نے تعریف نہیں کی، میرا منہ نہ کھلائیں کہ انہوں نے پی ڈی ایم کی حکومت میں کیا کیا وارداتیں کی ہیں۔
خواجہ آصف نے کہا کہ میں انہیں ایڈوائس کروں گا کہ محنت کریں، حسد نہ کریں، میں لکھ کر دینے کو تیار ہوں، میں حصے دار ہوں، اگر کے پی میں انہیں حکومت میں حصہ دے دیتے تو کل یہ یہاں ایسی تقریر نہ کرتے، یہ جو بہروپ انہوں نے دھارے ہوئے ہیں، یہ کمائی کے بہانے ہیں، خواتین مردوں کے لیے لڑ رہی ہیں، مرد پتہ نہیں کہاں غائب ہیں۔
وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ انہوں نے ہماری سفارتی کوششوں کو بھی ٹارگٹ کیا، تعریف کے بجائے تنقید کی، حصہ مل جائے گا تو خاموش، حصہ نہ ملے تو پھر شور شروع کر دیا جاتا ہے۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments