روبوٹ کتوں کو سیر کرانے کیلئے انسانوں کی بھرتی، معاوضہ 20 ڈالر مقرر

واشنگٹن: ویب ڈیسک) امریکی ٹیکنالوجی اسٹارٹ اپ نے روبوٹ کتوں کو سیر کرانے کے لیے انسانوں کی خدمات حاصل کرنے کا اعلان کردیا گیا۔

کمپنی ڈائمینشنل کی جانب سے فیس بک کے گروپ بے ایریا جابز میں شائع کیے گئے اشتہار میں بتایا گیا کہ روبوٹ کتوں کو عوامی مقامات پر سیر کرانے کے لیے افراد درکار ہیں، منتخب افراد کو 4 سے 6 گھنٹے تک روبوٹ کتوں کو شہر کے عوامی مقامات پر گھمانا ہوگا جب کہ اس کام کا معاوضہ 20 ڈالر مقرر کیا گیا ہے۔

اشتہار میں امیدواروں کو ہدایت کی گئی تھی کہ وہ تقریباً 33 پاؤنڈ وزنی آلات کو محفوظ طریقے سے سنبھالنے کے لیے تیار ہوں کیونکہ اگر دورانِ سیر کوئی روبوٹ کتا خراب ہوجاتا ہے تو اسے اٹھا کر کمپنی کے پتے پر واپس لے جانا بھی ملازمت کا حصہ ہوگا۔

کمپنی کا دفتر سان فرانسسکو کے ڈاگ پیچ محلے میں واقع ہے جہاں سے روبوٹ کتوں کو سیر کے لیے لے جایا جائے گا۔

کمپنی کے بانی سٹیش پومیچٹر کے مطابق ڈائمینشنل ایک ایسا اوپن سورس آپریٹنگ سسٹم تیار کرنے پر کام کر رہی ہے جس کے ذریعے روبوٹس کو سخت جسمانی مشقت والے کاموں کے لیے استعمال کیا جاسکے۔

انہوں نے بتایا کہ ابتدائی تجربات میں یہ بات سامنے آئی کہ مصنوعی ذہانت کے ایجنٹس روبوٹس کو کنٹرول کرنے میں انسانی آپریٹرز کے مقابلے میں کم مؤثر ثابت ہوئے اسی وجہ سے کمپنی نے روبوٹ کتوں کو انسانوں کی مدد سے سیر کرانے کا تجربہ شروع کیا تاکہ روبوٹس کے کنٹرول اور ان کی کارکردگی سے متعلق مزید ڈیٹا جمع کیا جاسکے۔

کمپنی کے بانی سٹیش پومیچٹر نے نیویارک ٹائمز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ روبوٹ کتوں کو سیر کرانے کے تجربے سے یہ نتیجہ سامنے آیا کہ مصنوعی ذہانت کے ایجنٹس اب بھی ہارڈویئر کو کنٹرول کرنے میں بہت کمزور ہیں، روبوٹس کو کنٹرول کرنے کے لیے اب بھی انسانوں کی ضرورت ہے۔

پومیچٹر نے کہا کہ کمپنی کے تجربے سے معلوم ہوا ہے کہ مصنوعی ذہانت ابھی روبوٹس کو مؤثر انداز میں کنٹرول کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتی اور اس عمل میں انسانوں کی شمولیت ضروری ہے۔

ڈائمینشنل کے روبوٹ کتے چین کی کمپنی یونٹری سے خریدے گئے ہیں جن میں سے ہر ایک کی قیمت 2 ہزار ڈالر ہے، کمپنی ان روبوٹ کتوں کو اپنے تیار کردہ آپریٹنگ سسٹم کے تجربات کے لیے استعمال کر رہی ہے تاکہ مستقبل میں روبوٹس کو جسمانی مشقت والے کاموں کے لیے زیادہ مؤثر بنایا جاسکے۔

کمپنی کا یہ تجربہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مصنوعی ذہانت اور روبوٹکس کے شعبوں میں مختلف کمپنیوں کی جانب سے روبوٹس کو حقیقی دنیا کے کاموں کے لیے تیار کرنے کی کوششیں جاری ہیں تاہم ڈائمینشنل کے ابتدائی تجربات کے مطابق روبوٹس کو حقیقی دنیا میں مؤثر انداز میں کام کرنے کے قابل بنانے کے لیے ابھی انسانی مدد اور ڈیٹا جمع کرنے کی ضرورت ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...