مقدمہ قتل میں شواہد نظر انداز ، تفتیشی کیخلاف کارروا ئی کا حکم

مقدمہ قتل میں شواہد نظر انداز ، تفتیشی کیخلاف کارروا ئی کا حکم

عدالت کی قتل کے مزید کسی مقدمہ کی تفتیش ملک عاطف سے نہ کر انے کی ہدایت

گوجرانوالہ(سٹاف رپورٹر)قتل اور اقدام قتل کے مقدمہ میں سب انسپکٹر کی جانبدارانہ اور اہم شواہد کو نظر انداز کرنے پر مشتمل تفتیش ، عدالت نے سی پی او کو سب انسپکٹر ملک عاطف کے خلاف محکمانہ کارروائی کا حکم دیدیا ،قتل کے مزید کسی مقدمہ کی تفتیش ملک عاطف سے نہ کر انے کی ہدایت کر دی ۔ ایڈیشنل سیشن جج ملک نثار احمد کی عدالت میں تھانہ گرجاکھ کے علاقہ محلہ چاہ باغوالہ کا قتل اور اقدام قتل کا مقدمہ زیر سماعت تھا جس کے تفصیلی فیصلہ کے مطابق عدالت نے قرار دیا کہ تفتیشی آفیسر سب انسپکٹر ملک عاطف نے جانبدارانہ ذہن کے ساتھ مقدمہ کی تفتیش کی ۔ ملزموں کی من گھرٹ گرفتاریاں ظاہر کی گئیں اہم شواہد کو مکمل طور پر نظر انداز کیا جان بوجھ کر ایسی تفتیش کی گئی کہ جائے وقوعہ کے شواہد عینی گواہان کے بیانات کے ساتھ مطابقت نہ کریں ۔عینی گواہان کے بیانات کو دانستہ طور پر روک کر مقدمہ کو کمزور کیا گیا ۔

یاد رہے کہ تھانہ گرجاکھ میں 23 مارچ 2023 کو اصغر علی کی مدعیت میں درج کر ائی گئی ایف آئی آر کے مطابق شہزاد طیب وقاص وغیرہ کی فائرنگ سے اس کا بھائی محمد اشرف قتل جبکہ ارسلان سمیت 3 افراد شدید زخمی ہو گئے تھے ۔ مقدمہ کی تفتیش یکطرفہ ہونے پر اصغر علی نے سیشن کورٹ میں قتل کا استغاثہ دائر کیا جس میں عدالت نے ملزموں کو بری کر دیا تھا ۔جب مدعی پارٹی کے علم میں آیا کے مقدمہ میں ملزم بری ہو گئے ہیں تو انہوں نے گر جا کھ کے علاقہ میں عدالت اور جیل سے گھر جاتے مخالفین کے بھائی عباس کو اسی روز فائرنگ کر کے قتل کر دیا تھا ۔ 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں